بریکنگ نیوز
Home / کالم / بیورو کریسی کی بداعمالیاں

بیورو کریسی کی بداعمالیاں

جب بات گورننس کی ہوتی ہے تو سارا ملبہ حکومت وقت پر ڈال دیا جاتا ہے۔حکومت وقت کا سربراہ چونکہ وزیر اعظم یا صدر مملکت ہوتا ہے( جیسا نظام ہو) اسلئے حکومت کے ہر غلط یا صحیح کام کا ملبہ سربراہ مملکت پر ڈال دیا جاتا ہے۔ مگر اصل حکومت وہ نہیں ہوتی جس کا سربراہ وزیر اعظم یا صدر ہو اصل حکومت اس سے کافی نچلی سطح پر ہوتی ہے۔ حکومت میں سیکٹریز، اسسٹنٹ سیکٹریز اور دیگر گریڈ بیس ، اکیس اور بائیس کے افسرہوتے ہیں‘ یہ جانتے ہیں کہ کوئی وزیر اعظم کتنے پانی میں ہے۔ چونکہ کوئی بھی سیاسی پارٹی زیادہ سے زیادہ پانچ سال یا اگر بہت ہوا تو دس سال تک حکومت کی باگ ڈور سنبھالتی ہے مگر یہ لوگ جن کو ہم بیوروکریٹ کہتے ہیں عمر بھر کے ملازم ہوتے ہیں اور ان کو معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی سیاسی لیڈر کو کیسے بے وقوف بنایا جاتا ہے۔سیاسی لیڈروں کو ان دنوں جان کے خطرے نے اور بھی محدود کر دیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک وزیروں وغیرہ کیلئے سڑکوں کا استعمال ہوا کرتا تھا۔اس لئے کہ ہیلی کاپٹر وغیرہ کی سروس نہیں ہوا کرتی تھی اس لئے وزیروں کو عام لوگوں کی تکالیف کا پتہ چلتا رہتا تھا۔چونکہ اُن کو سڑک کے ذریعے سفر کر نا ہوتا تھا تو وہ سارے راستے کا اور علاقے کا جائزہ لے سکتے تھے۔ اُن کو معلوم ہو جاتا تھا کہ سڑک کہاں تک بنی ہوئی ہے اور کہاں تک بنانی ہے۔

اسی طرح عوام عموماً اپنے لیڈروں کے استقبال کے لئے سڑک کے دونوں کناروں پر کھڑی ہوتی تھی اس لئے وہ عوام کو بلا واسطہ دیکھ سکتے تھے اور کئی دفعہ یوں بھی ہوتا تھا کہ وہ راستے میں استقبال کے لئے کھڑے لوگوں کے حالات بھی دریافت کر لیا کرتے تھے۔مگر ہیلی کاپٹر اور ہوائی جہاز کے سفر کے عام ہونے کی وجہ سے وزرا زمین پر کم ہی نظر آتے ہیں اسی لئے اُن کو زمین پر رہنے والوں کے حالات کا بہت کم علم ہوتا ہے۔جہاں کہیں کوئی وزیر اعظم عوام سے بلا واسطہ ملنا اور اُن کے حالات جاننے کے کوشش کرنا چاہتا ہے تو یہ لوگ ( بیووکریٹ) اس کیلئے سب اچھا کا بندوبست کر لیتے ہیں۔جیسے پچھلے 2005 کے زلزلہ زدگان کے حالت کا جائزہ لینے کیلئے اس وقت کے وزیر اعظم تشریف لائے تو اُنکے سامنے زبردست قسم کے فیلڈ ہسپتا ل اور مریض رکھے گئے۔ وزیراعظم صاحب نے انتظامات کی بہت تعریف کی اور جیسے ہی وزیراعظم صاحب نے ہیلی کاپٹر میں پاؤں رکھا زمین پر کوئی ہسپتال تھا اور نہ مریض۔ اسی طرح جب جنوبی ویرستان میں آپریشن ہوا تو ہمارے وزیر اعظم جناب یوسف رضا گیلانی ڈی آئی خان تشریف لے گئے تاکہ گھر بار چھوڑنے والوں سے ہمدردی بھی کر لیں اور اُن کے لئے کئے گئے انتظامات کا بھی جائزہ لے لیں تو ڈی آئی خان میں ایک فوری ہسپتال بن گیا ۔ خوبصورت سجا سجایا اور اس میں کئی زخمی اور کئی دیگربیماریوں میں مبتلا مریض بھی تیار کئے گئے۔ گیلانی صاحب نے ڈی آئی خان انتظامیہ کی بہت تعریف کی اور شاید کوئی فنڈ بھی اُن کو دے کر آئے۔ جیسے ہی وزیر اعظم کا ہیلی کاپٹر سطح زمین سے بلند ہوا مریض اٹھ کر گھروں کو چل دیئے اور ہسپتال کا سامان خدا جانے کس کس کے گھر پہنچ گیا۔ شہباز شریف اس معاملے میں کافی سخت واقع ہوئے ہیں مگر ان کو بھی سیلا ب کے دوران کئی جگہوں پر ماموں بنایا گیا۔ فیلڈ ہسپتالوں کا بننا ، اُن میں مریضوں کا پہنچنا ۔

اس میں اشیائے ضروریہ کا پہنچنا یہ سب کچھ تو بیوروکریسی کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے‘اور جیسے ہی وزیر صاحب دورہ ختم کر کے یا دوسرے لفظوں میں ماموں بن کر واپس جاتے ہیں بیوروکریسی اُن پر ہنستی بھی ہے اور اپنا حصہ بھی وصول کرتی ہے‘ اسی طرح اگر ہیلی پیڈ سے متاثرین کے کیمپ تک کچھ دور تک سڑک کا سفر طے کرنا ہے تو اُس حصے کو ہنگامی طور پر یوں تیار کیا جاتا ہے کہ وزیر صاحب کا دل خوش ہو جائے ۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ حکوتیں بدلتی ہیں تو وہ کرپشن جو بیوروکریسی نے کی ہوتی ہے اس کا سارے کا ساراملبہ جانیوالی حکومت پر ڈال دیا جاتا ہے۔اور ان کو ناکردہ گناہ کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔کئی وزرا اعظم ایسے سکینڈلوں میں ملوث کر دیئے جاتے ہیں کہ جن کے ارتکاب کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔ مگر بیورو کریسی کے نمائندے ان وزرا کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن کر سامنے آ جاتے ہیں۔اب تک پاکستان میں یہی ہوتا آیا ہے اور لگتا ہے کہ یہی ہوتا رہے گا۔ایسا بھی نہیں کہ سارے کے سارے بیوروکریٹ بد دیانت ہوتے ہیں مگر ایک دیانت دار افسر بھی اس جال میں پھنس کر ان ہی میں رنگ جاتا ہے ( خوشی سے یا مجبوری سے) مجھے اپنے سروس کے پہلے دنوں کے ایک اے سی صاحب یاد ہیں جو بہت ہی دیانت دار تھے اور کافی عمر سے اسی عہدے پر فائز تھے۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ ان کو اپنی دیانت داری کی وجہ سے کبھی بھی پروموشن نہیں مل پائی۔