بریکنگ نیوز
Home / کالم / سرمایہ داروں کا چونچلا

سرمایہ داروں کا چونچلا

آپ نے یقیناًمیوزیکل چیئرز کا کھیل دیکھا ہو گا جس میں کھیلنے والوں کی کوئی بھی تعداد حصہ لے سکتی ہے جو دائرے میں بچھی ہوئی کرسیوں کے پیچھے چلتے ہیں جن کی تعداد کھلاڑیوں کی تعداد سے ایک عدد کم ہوتی ہے موسیقی بجتی رہتی ہے جونہی موسیقی رکتی ہے تمام کھلاڑی کرسیوں پر بیٹھنے کی کوشش کرتے ہیں جو کوئی نہ بیٹھ سکا وہ کھیل سے باہر نکل جاتا ہے ‘جس قسم کی جمہوریت وطن عزیز میں ہم عرصہ دراز سے دیکھتے آ رہے ہیں وہ بھی تو اس قسم کا ایک کھیل ہی تو ہے کہ جس کا ذکر ہم نے اوپرکی سطور میں کیا ہے یہ سرمایہ داروں کا ایک چونچلا ہے جس میں ایک غریب اور متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے فرد کیلئے کوئی گنجائش نہیں کسی زمانے میں بادشاہت ہوا کرتی تھی آج اس کا نام بدل کر سیاست رکھ دیا گیا ہے اکثر سیاسی پارٹیوں کے صدور یا چیئرمین بادشاہ سلامت ہیں اور ان کی آل اولاد کی مثال ولی عہدوں جیسی ہے جس طرح ہماری سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ میں مقدمے لڑنے کیلئے کوئی عام آدمی وکلاء کی موٹی موٹی فیس کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا بالکل اس طرح پارلیمنٹ یا ایوان اقتدار میں پہنچنے کیلئے جو اخراجات درکار ہوتے ہیں وہ عام آدمی کی دسترس سے باہر ہیں ‘خدا لگتی کہئے اس ملک میں عرصہ دراز سے جو لوگ ایوان اقتدار میں گھوم رہے ہیں کیا وہ اس قسم کا میٹریل ہیں کہ جو حکمرانی کے تقاضے جانتے ہوں اور درد دل رکھتے ہوں اور عوام کی خدمت پر یقین کرتے ہوں؟

یہ کیسے رہنما ہیں کہ اگر کوئی ان کو بھتا نہ دے تو ا س کے کارخانے کو بمعہ ڈھائی سو مزدوروں کے آگ لگا کر راکھ کر دیں ؟ اس سے بھی بڑا جرم اس حکومت کا ہے کہ جس کی موجودگی اور اس کے ناک کے نیچے یہ گھناؤنا واقع ہوتا ہے اور وہ چپ رہتی ہے کہ سیاسی مصلحت خاموشی میں تھی یہ تو بھلا ہوفوجی قیادت کا کہ جس کے پریشر کے تحت اب کہیں جا کر اس سانحہ کے ذمہ دار مجرموں پر ہاتھ ڈالا جا رہا ہے !سندھ کا اگر بہت برا حال ہے تو پنجاب میں بھی امن عامہ کا ستیاناس ہے نہ یہ لوگ خود کام کرتے ہیں اور نہ پھر رینجرز کو کام کرنے دیتے ہیں سندھ کے ساتھ ساتھ ہی پنجاب میں بھی رینجرز کو اجازت دے دینی چاہئے تھی کہ وہ وہاں بھی آپریشن شروع کر ے کیونکہ کئی یار لوگوں نے سندھ سے بھاگ کر پنجاب کی حدود میں پناہ لے لی کہ جن کی باؤنڈری آپس میں کئی جگہوں پر ملتی ہے لیکن ان کو اجازت محض اس وجہ سے نہیں ملی کہ جس طرح سندھ میں جرائم پیشہ افراد اور فرقہ واریت میں ملوث لوگ وہاں کی سیاسی حکومت کے پروردہ ہیں بالکل اس طرح پنجاب میں بھی وہ حکمران ٹولے کے منظور نظر ہیں ‘ قرآئن و شواہد تو یہ بنا رہے ہیں کہ یہ ملک تیزی سے قبل از وقت عام انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف مئی یا جون2017ء میں الیکشن کی تاریخ دے سکتے ہیں لیکن یہ بیان دینے سے پہلے انہوں نے کیا یہ سوچا بھی ہے کہ ان کی پارٹی کی تنظیم نو اور انٹرا پارٹی الیکشن مئی2017ء تک کیا ہو بھی پائیں گے اور پنجاب میں وہ اپنی عظمت رفتہ حاصل کر بھی پائے گی ؟ ان کا یہ بیان تو ہمیں اتنا ہی غیر دورانیہ لگا کہ جتنا بلاول کا یہ بیان کہ وہ 2018ء میں ملک کے وزیراعظم ہوں گے کیا بلاول کو کسی نے یہ نہیں بتلایا کہ وزیراعظم بننے کیلئے 25 برس کی کم سے کم عمر ہونی چاہئے ؟ جو لوگ عمران خان کو یہ طعنہ دیتے تھے کہ وزیراعظم بننا چاہتے ہیں ۔

آج خود بیانگ دہل ملک کا وزیراعظم بننے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں کتنے دیکھ کی بات ہے کہ بعض لوگوں نے عوامی جماعت پی پی پی کو محلات تک محدود کر دیا ہے ذوالفقار علی بھٹو اسے محلات کے ڈرائنگ رومز سے باہر لے آئے تھے ان کے جانشینوں نے اسے دوبارہ بڑی بڑی فصیلوں کے اندر قید کر دیا ہے فوری الیکشن کا اگر فائدہ کسی کو ہو گا تو وہ شاید (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کو ہو لوڈشیڈنگ میں خاطرہ خواہ کمی آئی ہے اور سی پیک کا منصوبہ بھی اپنی منزل کی طرف بخوبی رواں دواں ہے جن کو مرکزی حکومت الیکشن میں ضرور کیش کرے گی سیاست میں حر ف آخر نہیں ہوتا کل کا کچھ پتا نہیں دیکھئے سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کا مقدمہ کیا رنگ لاتا ہے ‘افسوس البتہ اس بات کا ضرور ہے کہ ہمارے سیاست دانوں نے ابھی تک شائستہ زبان میں بولنے کا ہنر نہیں سیکھا نئی پود جب ان کی اخلاقیات سے گری ہوئی تقریر سنتی ہو گی تو ان کے بارے میں وہ کیا تاثر قائم کرتی ہو گی؟