بریکنگ نیوز
Home / کھیل / انگلینڈ بھی پاک بھارت دشمنی کو کیش کرانے کی پلاننگ کرنے لگا

انگلینڈ بھی پاک بھارت دشمنی کو کیش کرانے کی پلاننگ کرنے لگا

لندن۔ انگلینڈ بھی پاک بھارت دشمنی کو کیش کرانے کی پلاننگ کرنے لگا، بورڈ نے ورلڈ کپ 2019 میں میگا مقابلے کیلیے لندن کے اولمپک اسٹیڈیم پر نگاہیں جمالیں،60 ہزار تماشائیوں کی گنجائش نے اسے بہت دور کی سوچنے پر مجبور کردیا، چھوٹی باؤنڈریز کی وجہ سے آئی سی سی کی خصوصی اجازت درکار ہوگی، کاؤنٹیز کی جانب سے مخالفت کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔

تفصیلات کے مطابق انگلینڈآئندہ برس جون میں چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کررہا ہے جس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلہ ایجبسٹن میں ہوگا، وہاں میچ کی ٹکٹیں فروخت شروع ہونے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی ختم ہوگئیں۔ اسی بات نے انگلش بورڈ کو ورلڈ کپ 2019 کے لیے لندن کے 60 ہزار تماشائیوں کی گنجائش رکھنے والے اولمپک اسٹیڈیم پر غور کرنے کیلیے مجبور کردیا ہے۔ یہ اسٹیڈیم اس وقت ویسٹ ہام یونائیٹڈ کے زیر استعمال ہے تاہم ورلڈ کپ میچز کا وقت فٹبال کے حوالے سے آف سیزن ہوگا۔

انگلش بورڈ پاک بھارت جیسے میگا مقابلوں کا انعقاد لندن اسٹیڈیم میں کرنا چاہتا ہے جس کی گنجائش انگلینڈ میں موجود کسی بھی کرکٹ اسٹیڈیم سے دگنی ہے۔ اگر یہاں پر کرکٹ میچ ہوتے ہیں تو پھر اسٹینڈز کو بھرنے کیلیے ٹکٹوں کے نرخ تھوڑے کم ہی رکھے جائینگے۔ ایسیکس کے چیف ایگزیکٹیو نے پہلے ہی کاؤنٹی کی جانب سے2018 میں چند ٹوئنٹی 20 میچز لندن اسٹیڈیم میں منعقد کرنے کا عندیہ دیا ہے، مگر اس سے قبل یہ دیکھا جائے گا کہ کیا اس وینیو کا پلیئنگ ایریا انٹرنیشنل کرکٹ کیلیے کافی ہے، دوسرا یہاں پر ڈراپ ان پچز بنانا ہوں گی تاکہ عام دنوں میں فٹبال میچز منعقد ہوسکیں۔

یہ حقیقت ہے کہ لندن اسٹیڈیم کا پلیئنگ ایریا بہت کم ہے تاہم نیوزی لینڈمیں رگبی کیلیے بنائے جانے والے ایڈن پارک کی باؤنڈریز بھی آئی سی سی قوائد سے کم ہونے کے باوجود وہاںگذشتہ برس ورلڈ کپ میچز بھی منعقد ہوئے۔ ای سی بی کو اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے سے قبل کاؤنٹیز کو بھی راضی کرنا ہوگا، میگا ایونٹ کے تمام 48 میچز 2014 سے قبل ہی تمام وینیوز میں تقسیم کیے جا چکے ہیں،اگر کوئی نیا وینیو میزبانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تو پھر دوسروں کے مقابلوں کی کٹوتی ہوگی جوکاؤنٹیز کو قبول نہیں ہے۔