بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پانامہ لیکس کی دلدل میں حکمران ٹولے کا جہاز دھنس گیا ہے، سینیٹر سراج الحق

پانامہ لیکس کی دلدل میں حکمران ٹولے کا جہاز دھنس گیا ہے، سینیٹر سراج الحق

اسلام آباد۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کی دلدل میں حکمران ٹولے کا جہاز دھنس گیا ہے، وزیراعظم کو کمیشن کے قیام کے بعد اپنے سرکاری اختیارات استعمال نہیں کرنے چاہئیں تاکہ وہ کمیشن کی کارروائی پر اثرانداز نہ ہو سکیں اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں اس فیصلے سے عوام مطمئن بھی ہوں گے اور تحقیقات کے بعد جو فیصلہ سامنے آئے گا اس کے دور رس نتائج ہونگے،پانامالیکس معاملہ میں حکمران ٹولے کے پاس بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ راستہ صرف سچ کا راستہ ہے۔

ملک سے کرپشن کی برائی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے اس معاملہ میں کمیشن تشکیل دیا جائے۔سیاسی رہنماؤں اپنے گوشواروں میں الندن لیکس اور پانامہ لیکس کے اثاثے ظاہر نہیں کئے اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ درست انداز میں تحقیقات کی جائیں اگر ایسا ہوا تو آئین کے آرٹیکل 62، 63 کے تحت بہت سے لوگ نااہل ہو سکتے ہیں۔بدھ کے روزسپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ کیس کے معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں، سپریم کورٹ میں سب سے پہلے جماعت اسلامی نے کیس دائر کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ملک سے کرپشن کی برائی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے اس معاملہ میں کمیشن تشکیل دیا جائے، جماعت اسلامی کو سپریم کورٹ پر مکمل اعتماد حاصل ہے اس کے علاوہ کوئی اور آپشن بھی موجود نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ پانامہ لیکس کی وجہ سے حکومت کا اخلاقی جواز ختم ہو چکا ہے۔ آف شور کمپنیوں کی وجہ سے حکمران ٹولہ بہت بدنام ہوا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پانامہ لیکس میں جن لوگوں کا نام آیا ان سب کا احتساب ہو لیکن آغاز حکمران خاندان سے ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ اپوزیشن اور حکومت کے ٹی او آرز کے بجائے کمیشن کے ٹی او آرز سپریم کورٹ خود بنائے کیونکہ اپوزیشن کے ٹی او آرز پہلے حکومت نے تسلیم نہیں کئے اور کمیشن کے لئے محدود وقت مقرر ہونا چاہئے تاکہ کم از کم وقت میں اس معاملے کا فیصلہ ہو سکے۔ ہم چاہتے ہیں کہ نوازشریف اور ان کے خاندان کا پہلے احتساب ہو کیونکہ وزیراعظم نے کسی حد تک اعتراف بھی کیا ہے کہ ان کے بچوں کی آف شور کمپنیاں ہیں اور انہوں نے خود کو احتساب کے لئے پیش بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو کمیشن کے قیام کے بعد اپنے سرکاری اختیارات استعمال نہیں کرنے چاہئیں تاکہ وہ کمیشن کی کارروائی پر اثرانداز نہ ہو سکیں اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں اس فیصلے سے عوام مطمئن بھی ہوں گے اور تحقیقات کے بعد جو فیصلہ سامنے آئے گا اس کے دور رس نتائج ہونگے۔ پوری دنیا میں یہ پریکٹس ہے کہ اگر تحقیقات جاری ہوں تو حکمران اپنے اختیارات استعمال نہیں کرتے۔

سراج الحق نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پانامہ میں جن لوگوں کا نام آیا ان سب کا احتساب ہو اور ان شہزادوں کا بھی احتساب ہو جنہوں نے بینکوں سے قرضے لے کر معاف کرا لئے۔ ہم کسی کو مقدس گائے تسلیم نہیں کرتے۔ احتساب سب کا ہو، انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کی دلدل میں حکمران ٹولے کا جہاز دھنس گیا ہے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ راستہ صرف سچ کا راستہ ہے۔ صرف سچ کے راستے ہی نجات ہے لیکن جھوٹ کو ثابت کرنے کے لئے سینکڑوں جھوٹ اور بولنا پڑتے ہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ 2013ء میں انتخابات میں حصہ لینے والے تمام سیاسی رہنماؤں اپنے گوشواروں میں اثاثے ظاہر کئے لیکن لندن لیکس اور پانامہ لیکس کے اثاثے ظاہر نہیں کئے گئے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ درست انداز میں تحقیقات کی جائیں اگر ایسا ہوا تو آئین کے آرٹیکل 62، 63 کے تحت بہت سے لوگ نااہل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پانامہ لیکس کو بنیاد بنا کر احتساب کا آغاز کیا جانا چاہئے۔ اگر نیب اپنی ذمہ داری پوری کرتا تو قوم کو یہ دن دیکھنا نہ پڑتے۔

ہم چاہتے ہیں کہ نیب کا بھی احتساب ہو کیونکہ نیب کے افسران غریبوں کے ٹیکس سے مراعات اور تنخواہیں لیتے ہیں لیکن اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرتے، غفلت برتنے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہئے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پہلے ٹی او آرز تیار کر کے کمیشن تشکیل دیا جانا چاہئے جو مقررہ وقت میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے اور اس رپورٹ کی روشنی میں سپریم کورٹ اپنا واضح فیصلہ دے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ نے صرف وزیراعظم کے احتساب کے لئے کمیشن تشکیل دیا تو ہم اس بات پر زور دیں گے کہ دیگر لوگوں کا بھی احتساب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے علاوہ دیگر لوگوں کے احتساب کی بات پر جن لوگوں کو اعتراض ہے ان لوگوں کا دامن صاف نہیں ہو گا اس لئے اعتراض کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ پورے ملک میں موجود کرپٹ عناصر کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے۔