بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پانا ما لیکس ٗ کمیشن کے قیام کیلئے سپریم کورٹ نے فریقین سے جواب طلب کر لئے

پانا ما لیکس ٗ کمیشن کے قیام کیلئے سپریم کورٹ نے فریقین سے جواب طلب کر لئے

اسلام آباد۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران فریقین سے کمیشن کے قیام کیلئے جواب طلب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کمیشن کو مکمل اختیار دینگے جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ عدالت کے سامنے بھاری بھرکم معاملات ہیں ٗ ہم ٹھوس بنیادوں پرآگے بڑھنا چاہتے ہیں، کئی دستاویزات ہیں جن کی تصدیق کیلئے تحقیقات کی ضرورت ہے، فریقین کی طرف سے جمع کرائے گئے دستاویزی شواہد میں خلا ہے ۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں عدالت نے 5 رکنی بنچ نے پاناما لیکس کیس کی سماعت کی ۔سماعت شروع ہوئی تووزیراعظم نواز شریف کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جاتی امرا میں مریم نواز کا پتہ لکھا ہے تاہم وہ قانونی طور پر اپنے شوہر کے زیر کفالت ہیں ۔

کیا باپ کیساتھ رہنے سے بیٹی زیر کفالت ہو جاتی ہے ٗ جاتی امرا میں تو شریف خاندان کے دیگر افراد بھی رہائش پزیر ہیں جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ہم نے مریم نواز کا ایڈریس دیکھ لیا ٗان کے اخراجات اور آمدن کہاں سے آتی ہے ؟وہ دیکھنا ہے جس پر سلمان بٹ نے کہا کہ مریم نواز کی زرعی آمدن ہے۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ یہ عام پریکٹس ہے اس میں کوئی غیر قانونی بات نہیں ٗٹیکس گوشوارے جمع کرانے کا معاملہ فنکشنل ہے، آپ کو اور مجھے بہتر علم ہے کہ ٹیکس گوشوارے کیسے جمع کرائے جاتے ہیں ٗانہوں نے سلمان بٹ سے استفسار کیا کہ کیا جاتی امرا کی زمین مریم نواز کے نام ہے ۔ سلمان بٹ نے کہا کہ مریم نواز جاتی امرا میں رہائش پذیر ہیں اور وہ ان کے گھر کا پتہ ہے جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ زیر کفالت ہونے کا معاملہ ابھی تک حل نہیں ہوا۔ جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ وزیراعظم نے مریم نواز کیلئے زمین کب خریدی، جس کے جواب میں سلمان بٹ نے کہا کہ اراضی 19 اپریل 2011 کو خریدی گئی جسٹس عظمت سعید نے دوبارہ استفسار کیا کہ رقم والد نے بیٹی کو تحفے میں دی جو بیٹی نے والد کو واپس کردی تھی۔سلمان اسلم بٹ نے اپنے دلائل میں کہا کہ پی ٹی آئی والے کہتے ہیں کہ دبئی مل کے واجبات 36 ملین درہم تھے جبکہ ان کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ دو ملین بجلی کے واجبات تھے۔

ٗبجلی کے واجبات قسطوں میں ادا کیے گئے جسٹس شیخ عظمت سعید نے استفسار کیا کہ مل خسارے میں تھی اور فروخت کی تو واجبات کیسے ادا کیے؟ اقساط کی رقم کس نے فراہم کی؟، سلمان بٹ نے جواب دیا کہ واجبات کی رقم طارق شفیع نے ادا کی جس پر عدالت نے ریکارڈ طلب کیا تو وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ 40 سال پرانا ریکارڈ کہاں سے لائیں؟دبئی کے بینک 5 سال سے زیادہ کا ریکارڈ نہیں رکھتے۔ وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ میاں شریف ہر کام اپنی مرضی سے کیا کرتے تھے ٗہوسکتا ہے دادا اور پوتے کے کاروباری معاملات کا نوازشریف کوعلم ہو۔ انہوں نے کہاکہ پاناما پیپرز کی کوئی قانونی اور مصدقہ حیثیت نہیں ہے ٗ میرے دفتر میں پاناما پیپرز کی درجنوں فائلیں پڑی ہیں۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا آپ کوومبرکمپنی اورعمران خان کے وکیل کے جمع کردہ دستاویزات سے انکاری ہیں؟ جس پر سلمان بٹ نے جواب دیا کہ ان دستاویزات پر بعد میں بحث کروں گا۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ ہمیں تو پریکٹس میں بتایا گیا تھا کہ اگرجج سوال کرے تو اس کاجواب دیاجائے اور آپ یہ کہتے ہیں کہ بعد میں بحث کروں گا۔سلمان بٹ نے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق برطانوی قانون کافی لچکدار ہے ٗبرطانوی قوانین کے مطابق ٹرسٹ ڈیڈ کو رجسٹرڈ کرانے کی ضرورت نہیں ہوتی، اس سے متعلق کمپنی کو بھی بتانے کی ضرورت نہیں تھی۔ جسٹس اعجاز لاحسن نے کہا کہ موزیک فونسیکا کو ٹرسٹ ڈیڈ کے بارے میں بتایا گیا تھا؟جس پرجسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ اگر زبانی ڈیڈ دستاویزات کے برعکس ہو تو اس کی کیا حیثیت ہو گی؟ دستاویزات کے مطابق مریم کچھ کمپنیوں کی بینی فشری ہیں سلمان بٹ نے جواب دیا کہ برطانوی قانون کے مطابق ایسی ٹرسٹ ڈیڈ کی اجازت ہے ٗٹرسٹ ڈیڈ زبانی کلامی بھی ہوسکتی ہے، آف شور کمپنی کا ٹیکس نہیں دینا پڑتا، اگر ٹیکس اداکرنا ہوتا تو پھر شاید یہ آف شور کمپنیاں ہی نہ ہوتیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ثبوت اورشواہد ریکارڈ کرنا ہمارا کام نہیں ہے ٗ دستاویزات کاجائزہ لینے کیلئے کمیشن بنانا پڑسکتا ہے ٗکمیشن بنانے سے متعلق تمام آپشن کھلے ہیں۔

جسٹس اعجاز الا حسن نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی تقاریر میں قطری دستاویزات کا ذکر نہیں کیا جس پر سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ وزیراعظم کا بیان سیاسی تھا عدالتی نہیں ٗجسٹس اعجاز الا حسن نے کہا کہ عوام کے سامنے دیئے گئے بیان کو عدالت میں بھی ثابت کیا جائے۔وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ حسین نواز آف شور کمپنی کے بینی فشری اور مریم ٹرسٹی ہیں ٗیہی معاملہ اسپیکر کے سامنے اٹھایا گیا جو خارج ہوا۔ سپریم کورٹ نے اسپیکر کے پاس وزیر اعظم کے خلاف ریفرنس کا ریکارڈ طلب کرلیاسلمان بٹ نے موقف اختیار کیا کہ مریم نواز وزیراعظم کے زیر کفالت نہیں ہیں اس لئے وزیر اعظم مریم نواز کے گوشوارے ظاہر کرنے کے پابند نہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کیا آپ نے الیکشن کمیشن، ہائیکورٹ، اسپیکر کی کارروائی رپورٹ داخل کی؟معاملہ الیکشن کمیشن ٗہائیکورٹ میں زیرالتوا ہے تو 184/3کے تحت مداخلت نہ کریں۔ سلمان بٹ نے کہا کہ جو مقدمات زیر التوا ہیں ان کی تفصیلات فراہم کر دوں گا جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا آپ کیا کہنا چاہتے ہیں کہ مقدمات عدالتوں میں زیر التو ہیں تو ہم ان کی سماعت نہ کریں۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت کے سامنے بھاری بھرکم معاملات ہیں لیکن ہم ٹھوس بنیادوں پرآگے بڑھنا چاہتے ہیں، کئی دستاویزات ہیں جن کی تصدیق کے لیے تحقیقات کی ضرورت ہے، دونوں طرف سے جمع کرائے گئے دستاویزی شواہد میں خلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرہمیں کمیشن ہی بناناہے تو وقت کیوں ضائع کر رہے ہیں ٗ 2 درخواستوں میں پہلے ہی کمیشن کی تشکیل کا کہا گیا ہے ٗ اپنے موکلین سے پوچھ کر بتائیں کہ کمیشن بنائیں یا ہم خود فیصلہ کریں۔جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ دستاویزات کا پوچھا جائے توکہا جاتا ہے کہ انٹرنیٹ سے حاصل کیں ٗچیف جسٹس کے ریمارکس کے دوران وزیراعظم کے وکیل شیخ اکرم نے بولنے کی کوشش کی تو جسٹس انور ظہیر جمالی نے انہیں کہا کہ آپ سینئر وکیل ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ہربات پرلقمہ دیں ٗکیا آپ سمجھتے ہیں تمام نکات اس سمری کے انداز میں سن کر فیصلہ کر سکتے ہیں؟تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ سپریم کورٹ پاناما لیکس کیس کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے مطابق کر دے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تحریک انصاف آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت اسپیکر کا فورم استعمال کر چکی ہے ٗعدالت 184/3میں پانامالیکس کو دیکھ رہی ہے ٗ فوجداری مقدمات میں شک کا فائدہ ملزم کو جاتا ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کیا عدالت اسکیچی پیپرز کی بنیاد پر وزیراعظم کو نااہل قرار دے سکتی ہے؟ سیاست میں انتظارہوسکتا ہے لیکن انصاف پر سمجھوتا نہیں کرسکتے ٗجسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ حاکم وقت عدالت میں لایا گیا جو اسلامی تاریخ میں روشن مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی نے بتایا تھا کہ 1997 میں وزیراعظم نے ایک ٹی وی کو انٹرویو دیا تھا جس میں کہا گیا کہ خاندانی کاروبار سے نواز شریف اور فیملی کا نام منسلک نہیں رہے گا اس انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ مل جائے تو پتا چلے گا کہ وزیراعظم کے اصل الفاظ کیا تھے؟ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ صرف ان کے نام الگ کیے گئے یا انہوں نے واقعی کاروبار چھوڑ دیا؟سلمان اسلم بٹ کے دلائل سننے کے بعد عدالتِ عظمیٰ نے فریقین کو کیس کے فیصلے کیلئے کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے مشاورت کرنے کیلئے وقت فراہم کیا کہ اپنے اپنے موکل سے پوچھ کر بتائیں کہ معاملے پر کمیشن بنائیں یا خود فیصلہ کریں۔پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری کی جانب سے مشاورت کیلئے وقت کے تقاضے پر چیف جسٹس نے کہاکہ ہماری طرف سے کوئی دباؤ نہیں، آرام سے مشورہ کریں، جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت 9 دسمبر تک ملتوی کردی۔