بریکنگ نیوز
Home / کالم / فضائی حادثوں کی تاریخ و اسباق!

فضائی حادثوں کی تاریخ و اسباق!

پاکستان میں ہوابازی کی تاریخ کا پہلا حادثہ بیرون ملک بیس مئی 1965ء کو ’پی آئی اے‘ کی فلائٹ سات سو پانچ بوئنگ سات سو بیس براستہ قاہرہ لندن کے افتتاحی روٹ پر ہوا۔ یہ جہاز قاہرہ ائر پورٹ پر لینڈنگ کرتے ہوئے تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں ایک سو چوبیس افراد جاں بحق ہوئے‘ جن میں بائیس صحافی بھی شامل تھے! پاکستان میں فضائی حادثوں کی تاریخ پرانی ہے جسے ذہن میں رکھتے ہوئے سفر خوشگوار نہیں ہوسکتا اور کئی گھنٹوں کی آرام دہ فلائٹ کے بعد بھی آپ کو بالکل پرسکون نہیں ہونا چاہئے‘ کیوں؟ اگر آپ دنیا میں ائرلائن سیفٹی کے صفِ اوّل کے ماہر پروفیسر آرنلڈ بارنیٹ کی بات پر یقین کریں تو فلائٹ کا سب سے پرخطر مرحلہ یعنی لینڈنگ‘ اب بھی آپ کے سامنے ہوتا ہے اور اس کا سبق ’شاہین ائرلائنز‘ کے ایک سو سے زائد مسافروں اور عملے نے اس وقت سیکھا جب ان کے طیارے نے لاہور ائرپورٹ پر کریش لینڈنگ کی افسوس کی بات ہے کہ قومی سطح پر اب بھی اس بات پر بحث نہیں کی جاتی مگر پاکستانی ائرلائنز کا تحفظ کے حوالے سے ریکارڈ ایک کھلا راز ہے۔پاکستان کی نجی ائرلائنز بین الاقوامی ائرلائن سیفٹی رینکنگ کا حصہ بننے کیلئے بہت کم عمر ہیں مگر قومی ائرلائن پی آئی اے اکثر اس فہرست کا حصہ رہتی ہے‘ ہر غلط وجہ کے لئے۔ یہ اپنے خراب سیفٹی ریکارڈ کی وجہ سے دوسری ائرلائنز سے ممتاز ہے۔ ائرلائن سیفٹی کے حوالے سے ایک تقابلی جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پی آئی اے تسلسل کے ساتھ ائرلائن سیفٹی کے معیار پر پورا اُترنے میں ناکام رہی ہے اور یہ دنیا کی سب سے پرخطر ائرلائنز میں سے ایک ہے نیٹ سلور ایک امریکی ڈیٹا سائنٹسٹ ہیں جو نیویارک ٹائمز کے لئے لکھتے رہے ہیں یہ بلاگ ڈیٹا کی مدد سے سیاسی اور سماجی‘ معاشی معاملات پر باخبر تبصرے پیش کرتا ہے جولائی 2014ء میں مسٹر سلور نے ایک سوال کا جواب دیا کہ ’کیا مسافروں کو ایسی ائرلائن میں سفر سے پرہیز کرنا چاہئے جو پہلے کریش ہوچکی ہوں؟‘ سادہ جواب ہاں ہے۔

مسٹر سلور نے ایوی ایشن سیفٹی نیٹ ورک کے ڈیٹابیس کا سہارا لیا۔ انہوں نے 1985ء سے 2014ء تک کا سیفٹی ڈیٹا حاصل کیا اور دو دورانیوں 1985ء سے 1999ء اور 2000ء سے سال 2014ء کے سیفٹی ریکارڈز کا موازنہ کیا۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ آیا خراب پرفارمنس والی ائرلائنز بعد میں بھی خراب پرفارمنس کا ہی مظاہرہ کرتی رہیں۔ مقصد یہ تھا کہ کیا کچھ ائرلائنز تحفظ کے معاملے میں تسلسل کیساتھ دوسری ائرلائنز سے بہتر یا بدتر ہیں انہوں نے سب کا ائرلائن سیفٹی ڈیٹا ہم آہنگ کرنے کیلئے ’اویل ایبل سیٹ کلومیٹرز طریقے کا استعمال کیا‘ ایسا کرنا اس لئے ضروری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ائرلائنز کا موازنہ کرتے وقت اِن ائرلائنز کیلئے معیار زیادہ کڑا نہ ہو جو کہ دوسری ائرلائنز سے کہیں زیادہ اڑان بھرتی ہیں ایک اور اہم فرق جسے ذہن میں رکھنا چاہئے وہ یہ کہ ائرلائنز کی سیفٹی کا موازنہ ہلاکتوں یا ہلاکت خیز حادثات کی بناء پر نہیں کیا جا سکتا اس کی وجہ یہ ہے کہ خراب ترین کارکردگی والی ائرلائنز کیلئے بھی ہلاکت خیز حادثات روزانہ کا معمول نہیں ہوتے ائرلائنز کی سیفٹی کا حساب لگاتے وقت بال بال بچنے والے واقعات زیادہ موزوں ثابت ہوتے ہیں ‘مسٹر سلور نے ہر ائرلائن کے لئے دونوں دورانیوں 1985ء سے 1999ء اور 2000ء سے 2014ء تک کے لئے بال بال بچنے کے واقعات کا موازنہ کیا۔

اور ذرا تکا لگائیں کہ کون سی ائرلائن ان دونوں دورانیوں میں سب سے زیادہ پرخطر رہی جواب ہے پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز۔ مسٹر سلور نے لکھا کہ ’’چارٹ میں کچھ ایسی بھی ائرلائنز ہیں جن کی بال بال بچنے کے واقعات کی شرح ہمیشہ سے زیادہ رہی ہے اور ان میں سے ایک پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز (پی آئی اے) اور دوسری ایتھوپین ائرلائنز ہے۔‘‘پی آئی اے کا سب سے الگ تھلگ نقطہ اس کے دیگر ہم عصر ائرلائنز کے مقابلے میں زیادہ پرخطر ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ حکومت‘ خاص طور پر ’سول ایوی ایشن اتھارٹی‘ میں موجود ریگولیٹری حکام پاکستان میں موجود ائرلائنز کے خراب سیفٹی ریکارڈز پر غفلت کی حد تک خاموش رہے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم پاکستان کی قومی ائرلائن میں حفاظتی امور کی حالتِ زار پر سنجیدگی سے غور کریں۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: قمر مرتضیٰ حیدر۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)