بریکنگ نیوز
Home / کالم / سبز نمبر پلیٹ

سبز نمبر پلیٹ


میرے ایک کولیگ ہیں ڈاکٹر نذیر سمجھ لیجئے سونے کا چمچ منہ میں لیکر پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے خاندان کو عزت دی اور والد نامی گرامی افسر رہے گھر میں دولت کی ریل پیل رہی اگلے وقتوں میں بچوں کیلئے دو ہی پیشے قابل فخر سمجھے جاتے تھے ڈاکٹر اور انجینئر۔ سو موصوف ڈاکٹر بھی بن گئے سپیشلائزیشن کی تعلیم بھی کسی نامعلوم یونیورسٹی سے کرلی اور سپیشلسٹ کی پوزیشن بھی حاصل کرلی۔ تاہم موصوف کی ایک خواہش تھی کہ گاڑی پر سرکاری نمبر پلیٹ ہو آج سے بیس برس قبل سرکاری گاڑیاں ریوڑیوں کے مول نہیں بٹتی تھیں چند ایک افسرانہ اسامیاں تھیں جن کے ساتھ سرکاری گاڑی کا تعیش مل جاتا تھا چنانچہ موصوف نے سفارشیں کرواکر صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے پرسنل فزیشن کی اضافی ڈیوٹی اپنے نام کرلی اگرچہ یہ اعزازی عہدہ تھا لیکن اسکے ساتھ سرکاری گاڑی کا دم چھلا لگا ہوا تھا چنانچہ موصوف اس طریقے سے سرکاری گاڑی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ستم ظریفی یہ کہ یہ گاڑی ایک پرانی پک اپ تھی جو ڈاٹسن کے نام سے مشہور تھی ڈاکٹر نذیر بڑے طمطراق سے اس گاڑی میں بیٹھتے تھے جبکہ گھر میں اپنی خاندانی مرسیڈیز موجود تھی۔

یہ خبط اب بھی ہماری افسر شاہی کے خمیر میں گندھا ہوا ہے تاہم اب قانون مذاق بن چکا ہے اور اس لئے ہر ایرے غیرے نے اپنی ذاتی گاڑی پر بھی جعلی سرکاری نمبر پلیٹ لگائی ہوئی ہے اسکا اندازہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر چند تصاویر دیکھ کر ہوا۔ میرے ایک قریبی دوست جو ایک مالیاتی افسر ہیں نے چند ایسی گاڑیوں کی تصاویر اپنے فیس بک پر لگا دی تھیں یہ گاڑیاں امپورٹڈ لیکن سیکنڈ ہینڈہیں جو حکومت کسی بھی صورت نہیں خریدتی تاہم کسی نے پرانی کرولا پر سرکاری نمبر پلیٹ لگایا ہوا ہے اور کسی نے پرانے ڈبّے پر۔ سبز نمبر پلیٹ کے طفیل پولیس پوچھتی نہیں کسی ناکے پر روکا نہیں جاتا اور سرکاری دفاتر میں آزادی سے اندر جایا جاسکتا ہے دوسری طرف حکومت اس طرف توجہ دینے سے غافل ہے کہ یہی گاڑیاں کل کلاں کسی قسم کی تخریب کاری میں استعمال ہوسکتی ہیں۔

میں جب کسی افسر کو سرکاری گاڑی میں دیکھتا ہوں تو اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ دیکھو یہ شخص کس دھڑلے سے میری گاڑی میں بیٹھ کر شاپنگ کیلئے جارہا ہے یہ گاڑی میرے ٹیکس اور میرے بچوں کی تعلیم کی فیس پر بھتہ کے پیسوں سے خریدی گئی ہے اور ستم یہ کہ یہی شخص عوام کی گاڑی میں بیٹھ کر سڑک پر عوام ہی کو کمتر سمجھ رہا ہے یہ میری سمجھ سے باہر ہے کہ کسی شخص کو اپنی گاڑی کے ہوتے ہوئے خیراتی گاڑی میں بیٹھنا کیو ں کر اچھا لگ سکتا ہے۔

سرکاری گاڑیاں ہمیشہ سے خزانے پر بہت بڑا بوجھ بنتی ہیں ان کی اپنی قیمت کے علاوہ انکے ساتھ ان کیلئے ڈرائیور کی اسامی اور تنخواہ، پٹرول کا خرچ اور مرمت کا بجٹ خزانے کا اتنا حصہ کھاجاتے ہیں کہ حکومت کے پاس ترقیاتی کاموں، تعلیم اور صحت کیلئے کچھ بچتا ہی نہیں اگر یہ سہولت صرف ایک حد تک افسروں کیلئے ہوتی تو تب بھی معاملہ اتنا خراب نہ ہوتا لیکن کرپشن کے اس دور میں سرکاری گاڑیوں کا استعمال شایدجرم محسوس ہی نہیں ہوتا افسر شاہی نے حکومت کے سارے نظام کو اپنے جوتے تلے ایسے رکھا ہے کہ انکو کوئی بھی اس دھندے سے نہیں روک سکتا جونیجو کی حکومت میں پہلی بار افسر شاہی کی اس فضول خرچی کیلئے قانون سازی ہوئی تھی جس کے تحت تمام افسروں کو صرف چھوٹی گاڑیاں رکھنے کی اجازت ملی اور یہ اجازت بھی مشروط دفتری اوقات کے ساتھ تھی یعنی ان افسروں کو گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر پہنچانے کیلئے ہی گاڑیاں استعمال ہوسکتی تھیں افسر شاہی نے اس حکم کا یوں مذاق اڑایا کہ پہلے تو ہزاروں چھوٹی نئی گاڑیاں خریدلی گئیں۔ افسروں کے زیر استعمال بڑی گاڑیاں انہی افسروں کو کوڑیوں کے دام نیلام کی گئیں جونیجو کی حکومت جونہی برطرف ہوئی، بابوؤں نے پہلے سے زیادہ گاڑیاں خرید لیں اسکے بعد سے ان کا غیر قانونی استعمال بھی شروع ہوگیا اپنے رشتہ داروں تک گاڑیاں بانٹی جاتی ہیں جو افسر قانونی طور پر گاڑی کا مجاز ہی نہیں ہوتا اس نے تین چار گاڑیاں قبضے میں رکھی ہوتی ہیں ۔

یہ ساری گاڑیاں جو میرے اور آپ کے پیسوں سے خریدی جاتی ہیں اور پٹرول پھونکتی ہیں ہر شام کو شاپنگ مالوں اور دن کے وقت پرائیویٹ سکولوں کے باہر نظر آتی ہیں اور تو اور چند ہفتے قبل میں اپنی بیگم کے ساتھ اپنی گاڑی میں جارہا تھا تو ہم سے آگے ایک سبز نمبر پلیٹ کے ساتھ سجی ہوئی گاڑی دوسری گاڑیوں کے جلوس میں جارہی تھی تو میری بیگم کے منہ سے نکلا ’واہ! سرکار کی شادی ہے، ذرا دھوم سے نکلے‘۔ جونیجو کی حکومت کے بعد ایک دفعہ اور افسر شاہی کی اس فضول خرچی کو قابو میں رکھنے کیلئے، گاڑی کی بجائے افسروں کی تنخواہ میں آمدو رفت کیلئے باقاعدہ ایک الاؤنس شامل کیا گیا تاکہ وہ اپنی گاڑی رکھ سکیں۔ اب تماشا یہ ہے کہ وہ الاؤنس بھی انکی تنخواہ میں ضم ہوکر بٹ رہا ہے اور افسران نے گاڑیاں بھی زیادہ رکھ لی ہیں جن محکموں کے ساتھ این جی اوز کا تعلق ہوتا ہے جیسے محکمہ صحت کیساتھ ، وہاں ان این جی اوز کی گاڑیاں بھی رشوت کے طور پر استعمال ہوتی ہیں یہ بڑی بڑی پرتعیش جیپیں سڑک پر دندناتی پھرتی ہیں اور ان میں سرکار کا پورا خاندان سفر کررہا ہوتا ہے۔ چھٹیوں کے موقع پر یہ گاڑیاں ہل سٹیشنوں پر رونق بنی ہوتی ہیں اور یا ویک اینڈ پر گاؤں کا سفر کررہی ہوتی ہیں۔ مالِ مفت، دلِ بے رحم کے مصداق، یہی گاڑیاں افسروں کے بچے ریس کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں حالانکہ سرکاری ڈرائیورں کے علاوہ کسی اور کا سٹیرنگ سنبھالنا بھی غیر قانونی ہوتا ہے۔

صرف ان گاڑیوں کی وجہ سے سرکار کے خزانے جس طرح سے خالی ہوتے ہیں، اسکا انجام نامکمل سرکاری سکیمیں ہیں خواہ وہ صحت سے تعلق رکھیں یا تعلیم کیساتھ ۔ انفراسٹرکچر اسی وجہ سے زبوں حال ہے دوسری طرف جب بھی حکومت کوئی پراجیکٹ بناتی ہے تو بجٹ کا اچھا خاصا حصہ نئی گاڑیوں کی عیاشی کی نظر ہوجاتا ہے اور پراجیکٹ کے شروع ہونے سے قبل ہی گاڑیوں کی خریداری ہوجاتی ہے بعد میں بھلے سے پراجیکٹ بند ہی کرنا پڑے اسی طرح حال ہی میں سارک کے ممالک کا اجلاس اسلام آباد میں طے پایا تھا حکومت پاکستان کی خواہش تھی کہ سارک ممالک کے سربراہ نہیں تو وزیر ہی قدم رنجہ فرمائیں اسلئے اجلاس سے قبل ایمرجنسی میں درجنوں مہنگی ترین مرسیڈیز منگوائی گئیں افسوس کہ بھارت اور سری لنکا کی معذرت کے بعد وہ اجلاس ہی منسوخ ہوگیا لیکن مرسیڈیز گاڑیاں تو آگئیں نا۔ اب ان پر جھنڈے لہرا تے ہوں گے اور کئی وزیروں اور افسران کی رال ٹپک رہی ہوگی۔