بریکنگ نیوز
Home / کالم / گرینڈ قبائلی جرگے کا انعقاد

گرینڈ قبائلی جرگے کا انعقاد

المرکزاسلامی پشاور میں جماعت اسلامی کے زیراہتمام منعقدہ ایف سی آر نامنظور گرینڈ قبائلی جرگے سے بطور مہمان خصوصی کرتے ہوئے سینیٹرسراج الحق نے ا یف سی آرکے خاتمے کے لئے ساٹھ روز کی ڈ یڈ لائن دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کا یہ مطالبہ نہ مانا گیا تووہ ہزاروں قبائل کے ہمراہ اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے ۔سراج الحق نے کہا کہ14سو کلومیٹر سرحد کی حفاظت کرنے والے ایک کروڑ قبائلی چالیس ایف سی آرکی جیل میں قید کی زندگی گزار رہے ہیں۔ایک طرف ان کو ہر طرح کے بنیادی،انسانی اور آئینی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے تودوسری جانب پوری دنیا کی میڈیا نے انکو دہشت گرد،منشیات فروش اور خون خواری کے الزمات دے رکھے ہیں انہوں نے کہا کہ قبائل محب وطن اور امن پسند لوگ ہیں جنہوں نے قائداعظم سے بغیر تنخواہ کے مغربی سرحد کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا اور 70سال سے وہ یہ وعدہ نباہ رہے ہیں۔ایف سی آرنامنظور قبائلی جرگے میں اتفاق رائے سے پیش کئے جانے والے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فاٹا جو مملکت خداداد پاکستان کی مغربی سر حدپر 27 ہزارمربع کلو میٹر رقبے پر محیط ہے اور جہاں کے ایک کر وڑ غیرت مند عوام انگریز کے فرسودہ نظام ایف سی آرکے تحت غلامو ں جیسی زندگی مزید برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔فاٹا دنیا میں واحد سر زمین ہے جوبے آئین ہے جہاں سیاست و جمہوریت اور اظہا ر رائے پر پابند ی ہے ایسی سر زمین ہے جہا ں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔

ایف سی آرکے فرسودہ نظام کی وجہ سے فاٹا میں روز بروز غربت میں اضافہ ہو رہا ہے ہزاروں ڈگری ہو لڈرنو جوان روزگا ر نہ ہونے کی وجہ سے درد رکی ٹھوکریں کھا رہے ہیں فاٹا میں صحت و تعلیم کے انتظامات نہ ہو نے کے برابر ہیںیہاں تک کہ لو گ صا ف پانی کو ترس رہے ہیں فاٹا ایک شہر نا پرسان ہے اور حکمران اس ساری صورتحال سے لاتعلق بن کر بیٹھے ہیں اختیارات کے ناجائز استعمال نے فاٹا کے عوام پر ظلم و جبر مسلط کر رکھا ہے ۔ جاری آپریشنزسے فاٹا کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا ہے جہا ں ہزاروں لوگ شہید اور زخمی ہوئے ہیں ہزاروں مکانات مسمار، سکول ،ہسپتال اور سڑکیں ویران اوریہاں کا انفراسٹر کچر تبا ہ ہو چکا ہے ۔زیر بحث قبائلی جرگے میں منظور کئے جانیوالے مشترکہ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکو مت جلد از جلد ایف سی آرکے خاتمے اور فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کر نے کا نوٹیفیکشن جاری کر ے۔فاٹا میں مر دم شما ری کرائی جا ئے تاکہ صحیح اعداد شمار سامنے آسکیں 2017ء میں قبائلی علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں اور 2018کے جنر ل الیکشن میں قومی الیکشن کے ساتھ صوبائی الیکشن کا بھی انعقادیقینی بنایا جائے ۔دفعہ 247میں تر میم کر کے قبائلی علاقوں میں مکمل آئین نافذ کیا جائے اورسپریم کو رٹ اور ہائی کو رٹ کا دائرہ کا ر فاٹا تک بڑھایا جائے ۔قبائلی عوام کو اسلامی شریعت اور جر گہ کے ذریعے فیصلوں کا حق دیا جائے ۔متا ثرین کی بحالی ،شہدا ء اور زخمیوں کے لئے پیکج ،مسمار شدہ گھروں، سکولوں اور سڑکو ں کی دوبارہ تعمیر کیلئے دس کھرب روپے کے پیکج کا اعلا ن کیا جائے ۔

فاٹا میں قد رتی وسائل اور معدنیات کے بے پنا ہ ذخا ئر موجود ہیں انہیں بروئے کا ر لا کر فاٹا کے عوام کی معیشت کو بہتر بنا یا جائے۔ نو جوانو ں کیلئے با عزت روزگا ر کے مواقع فراہم کئے جائیں ہر ایجنسی ہیڈکوارٹرکی سطح پر انڈسٹریل زون بنایا جائے ۔ خود روزگا ر سکیم کا آغا ز کیا جائے جس کے تحت باصلاحیت نو جو انو ں کو بلا سود قرضے فراہم کئے جائیں ۔ہر ایجنسی کی سطح پر سپور ٹس کمپلیکس تعمیر کر کے نو جوانوں کے لئے صحت مندانہ سر گر میوں کا بندوبست کیاجائے ۔فا ٹا کے تما م پہا ڑوں پر قیمتی پودوں کی پلا نٹیشن کی جائے اور بارانی ڈیم بنا ئے جائیں تاکہ ایگریکلچر کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔ تمام ایجنسی ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کو اپ گریڈ کیا جائے ۔وزیر اعظم مفت صحت پر وگرام کا دائرہ کا ر فا ٹا تک بڑھایا جائے قبائل کواین ایف سی ایوارڈ میں تین کی بجائے 6 فیصد حصہ دیا جائے ۔قبائلی علاقوں میں پو لیس کی بجائے خاصہ دار اور لیو یز کو منظم فورس بنا کر مزید تیس ہزار لیو یز کوبھر تی کیا جائے جماعت اسلامی کا یہ گرینڈ قبائلی جرگہ ایسے وقت میں منعقد ہواہے جب سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات سامنے آنے کے بعد یہ امید پیدا ہو چلی تھی کہ شاید اب وہ گھڑی آن پہنچی ہے جب قبائل کا شمار بھی پاکستان کے برابر کے شہریوں میں ہونے لگے گا اور یہاں سے انگریز کے بنائے ہوئے سیاہ قانون ایف سی آ ر سے انہیں ہمیشہ کیلئے نجات مل جائیگی لیکن ان سفارشات پر عمل درآمد کے آثار تاحال دور دور تک دکھائی نہیں دیتے شایدیہی وجہ ہے کہ ان سفارشات کی منظوری کے لئے جماعت اسلامی کی قیادت کو حکومت کیخلاف اسلام آباد مارچ کی سنجیدہ دھمکی دینا پڑی ہے۔ لہٰذا ایسے میں یہ نہ صرف قبائل بلکہ ملک وقوم اور اس پورے خطے کے وسیع ترمفاد میں ہوگا کہ قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے مجوزہ ایجنڈے کو بلاتاخیرعملی جامہ پہنایا جائے۔