بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / افغان سینیٹ کا روس اور ایران پرطالبان کی مدد کا الزام

افغان سینیٹ کا روس اور ایران پرطالبان کی مدد کا الزام

کابل۔افغان سینیٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ روس اور ایران شدت پسند طالبان کی مدد کررہے ہیں اور ان کی مدد سے طالبان جنگجو حکومت کے خلاف برسرپیکار ہیں۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق افغان سینیٹ کے بیشتر ارکان کا کہنا ہے کہ روس اور ایران کی جانب سے طالبان جنگجوں کی مدد کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ تحریک طالبان افغانستان کے کئی جنگجو ایران کے مشہد، یزد اور کرمان شہروں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ وہ وہاں سے آزادانہ طور پر افغانستان میں آتے جاتے ہیں۔افغان سینٹروں کا کہنا ہے کہ ایران کی سرحد سے متصل مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ وہ طالبان جنگجوں کی آمد ورفت کو دیکھتے رہتے ہیں۔ تاہم دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں افغانستان کے الزامات کی سختی سے تردید کی جاتی رہی ہے۔حال ہی میں افغان سینٹ کے بعض ارکان نے روس پربھی طالبان کی مدد اور حمایت کا الزام عاید کیا۔

افغان سیاسی رہ نماں کا کہنا ہے کہ ماسکو طالبان کو اسلحہ اور دیگر جنگی سازو سامان مہیا کررہا ہے تاکہ داعش اور اس کے ساتھ وابستہ دوسرے گروپوں کو کچلنے اور مشرقی ایشیائی ریاستوں کے لیے خطرہ بننے والے عناصر کی سرکوبی کی جاسکے۔افغا ن صوبہ فرح کے گورنر آصف ننگ نے گذشتہ روز یورپی ریڈیو فری یورپ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ طالبان جنگجوں کی ایران میں موجودگی کے ناقابل تردید اور ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ ایران طالبان کے ذریعے اپنی سرزمین کو افغانستان کے خلاف استعمال کررہا ہے۔ طالبان جنگجوں نے ایران کے مشہد، کرمان اور یزد شہروں میں اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ وہ وہاں سے آزادانہ طور پر افغانستان آتے جاتے اور دہشت گردانہ کارروائیاں کرتے ہیں۔

طالبان کے کئی سینیر رہ نماں کے خاندان بھی ایرانی شہروں میں رہائش پذیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں تازہ کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے طالبان کی لاشوں کو تدفین کے لیے ایران میں ان کے اہل خانہ کے پاس لے جایا گیا۔دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے افغان عہدیدار کے الزامات مسترد کردیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی طرف سے طالبان جنگجوں کو پناہ دینے اور انہیں مدد فراہم کرنے کا ایران پرالزام قطعی بے بنیاد ہے۔ تہران کے کابل کے ساتھ برادرانہ اور باہمی مشترکہ مفادات کے اصول کے تحت قائم ہیں اور ہم کسی غیر ریاستی گروپ کی مدد نہیں کررہے ہیں۔