بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ا فغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی کرواتی ہے،نفیس زکریا

ا فغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی کرواتی ہے،نفیس زکریا

اسلام آباد۔ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے اور بھارتی ایجنسی را افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی کرواتی ہے،افغانستان کومسائل کا ذمہ دار پاکستان ٹھہرانے کے بجائے بارڈر مینجمنٹ میکنزم پر توجہ دینی چاہیے جبکہ افغانستان انسداد دہشت گردی اور بارڈر مینجمنٹ پر تعاون کرے،پاکستان اورایران کے درمیان اچھے تعلقات ہیں، تہران نے اسلام آباد اورنئی دہلی کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے،طارق فاطمی نومنتخب امریکی قیادت سے ملاقات کے لیے امریکا کے دورے پرہیں اورسیکرٹری خارجہ ویانا میں نیوکلیئر اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں،ایبٹ آبادطیارے کی تباہی سے 45سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اوراس سانحہ نے پاکستانی عوام کو سوگ کی کیفیت میں مبتلا کردیا، امریکا کی جانب سے طیارہ حادثے کی تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی ہے ہم اس کو سراہتے ہیں۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ترجمان دفترخارجہ نفیس زکریا نے ہفتہ وارمیڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ افغان صدراشرف غنی کے بیان پرتبصرہ مناسب نہیں کیونکہ مشیرخارجہ سرتاج عزیزاس پرتبصرہ کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاون خصوصی نومنتخب امریکی قیادت سے ملاقات کے لیے امریکا کے دورے پرہیں اورسیکرٹری خارجہ ویانا میں نیوکلیئر اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان نے اپنے مشکل ترین حالات میں بھی 35 لاکھ مہاجرین کو پناہ دی، ہماری افغانستان میں قیام امن کی شفاف پالیسی ہے اور پاکستان بھارت سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے۔ترجمان دفترخارجہ نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں کشمیریوں پر مظالم جاری ہیں، نہتے کشمیریوں پر ان مظالم کی بھرپورمذمت کرتے ہیں، 8 ہزارسے زائد زیرحراست کشمیریوں کی قسمت کا فیصلہ نا معلوم ہے۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں ہتھیاروں کی دوڑنہیں چاہتا، بھارت میں ہمارے میڈیا سے ناروا سلوک کیا گیا، جس طرح بھارت نے منفی سلوک کیا اس کا مقصد اجلاس کی اصل روح سے توجہ ہٹانا تھا، بھارت پاکستان کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھا کر برکس اجلاس کی طرح پاکستان کو نشانہ بنانا چاہتا تھا جب کہ بھارت نے کانفرنس کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جس کا منفی تاثر ابھرا کیونکہ بھارت کا بنیادی مقصدمقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کی پردہ پوشی کرنا تھا۔ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہطالبان، القاعدہ، جماعت الاحرار اور حقانی گروپ افغانستان سے کام کررہے ہیں، ہمارے خلاف افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے، بھارتی ایجنسی را افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرواتی ہے۔ افغانستان کومسائل کا ذمہ دار پاکستان ٹھہرانے کے بجائے بارڈر مینجمنٹ میکنزم پر توجہ دینی چاہیے جب کہ افغانستان انسداد دہشت گردی اور بارڈر مینجمنٹ پر تعاون کرے۔نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ پاکستان اورایران کے درمیان اچھے تعلقات ہیں، ایران نے پاکستان اوربھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لئے کئی اقدامات کیے، وزیر اعظم کا بھارتی وزیر اعظم مودی کی تقریب حلف برداری میں جانا بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی، دونوں ممالک کے درمیان کشمیر کا مسئلہ مرکزی نقطہ ہے جب کہ کشمیر کے بغیر مذاکرات بے سود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کا اس حوالے سے کردار اہم ہے اور اس حوالے سے اقوام متحدہ سمیت کئی اہم ممالک کردار ادا کرنے کا کہہ چکے ہیں۔