بریکنگ نیوز
Home / کالم / کیاضیاء دور سے قبل کی واپسی ممکن ہے؟

کیاضیاء دور سے قبل کی واپسی ممکن ہے؟


1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف چلائی جانے والی تحریک نقصان دہ تھی اس کے نتیجے میں لگنے والا مارشل لاء تباہ کن تھا دونوں واقعات نے اس ملک، جسے ہم خداد ادقرار دیتے نہیں تھکتے کی روشنیاں گل کردیں اسے تاریکی میں دھکیل دیا آج کل ہم اسی بحرِ ظلمات میں غوطہ زن ہیں اسلامی دنیا کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ جب یہ سماجی اور فکری پسماندگی کی راہ پر چل نکلے تو واپسی کا راستہ مسدود ہو جاتا ہے اپنے ہی دور کی دومثالیں دیکھیں جنرل ضیاء نے ایک برادر عرب ملک کی نظروں میں صحیح العقیدہ مسلمان قرار پانے کیلئے حدود آرڈیننس جاری کیا اس کے ذریعے دینی طبقے کو بھی راضی کرنا مقصود تھا کیونکہ 1977 ء میں چلنے والی تحریک کے ہراول دستے وہی تھے اس آرڈیننس اور ضیاء کے اسلامی نعروں کا کیا فائدہ ہوا؟ان کا دیگر معاملات ایک طرف، قوم کی اخلاقیات پر کیا اثر ہوا؟کیا ہم ایک صاف ستھرا، ایماندار اور کامیاب معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہوگئے ؟کیا بدعنوانی کا گراف نیچے آیا؟ کیا مختلف انتظامی سروسز نے اپنے امور کی انجام دہی کیلئے رشوت سے ہاتھ کھینچ لیا؟کیا پاکستان کی فوڈ مارکیٹ میں ملاوٹ قدرے کم ہوگئی؟ کیا قانون کا احترام بڑھ گیا؟کیا ہمارے حکمران اخلاقی سند کے حامل قرار پائے ؟ کیا ’ٹین پرسنٹ‘ سے لیکر پاناما گیٹس میں نام پانے والی اشرافیہ بلند تر اخلاقی اقدار کی نمائندگی کرتی ہے ؟اگر یہ سب نتائج برآمد نہیں ہوئے تو پھر ہم کیا بات کررہے ہیں؟ مستند گناہ گاروں کو رہنے دیں کیونکہ وہ تو راہِ نجات سے دورہیں، چنانچہ انکے جواب کو متعصبانہ ہی قرار دیا جائے گا ہمیں کسی نیک وکار، جیسا کہ مولانا طارق جمیل صاحب سے استفسار کرنا ہوگا اور مولانا صاحب کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہیں کہ شام کو جو بھی ٹی وی چینل آن کریں مولانا کو دعوت و تبلیغ میں مصروف پائیں گے ۔

کوئی جائے مفرباقی نہیں سرکاری پرہیزگاری کی ماری اس قو م کی شامیں اسی طرح ہی گزرتی ہیں لیکن پھر ’اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔‘مولانا صاحب سے سوال پوچھا جانا چاہئے کہ کیا اس تابڑتوڑ تبلیغ نے ہمیں ایک بہتر معاشرہ بنا دیا ہے ؟اسی سے متعلق ایک اور سوال کہ آخر حدود آرڈیننس کا ’مصرف ‘ کیا ہے؟کیا ان کی وجہ سے پاکستان نیکی اور پرہیزگاری کی روشنی سے جگمگااٹھا؟ کیا ہم آفاقی منزل کے قریب پہنچ چکے ؟کیا اقوامِ عالم کی سرداری کا تاج ہمارے سر پر سجنے ہی والا ہے ؟حدود آرڈیننس نے دو طبقوں کو البتہ فائدہ پہنچایا ایک تو پولیس اہلکار کو مرحمت کی جانے والی رشوت کا حجم بڑھ گیا کیونکہ اگر اس نے آپ سے کسی ممنوعہ مشروب کی بوتل برآمدکرلی یا آپ کی سانسوں کی مہک سے سرشاری کا تاثر ملا تو پھر آپ کی خیر نہیں کیونکہ مذکورہ آرڈیننس کے تحت ممنوعہ مشروب رکھنے یا استعمال کرنے پر آپ کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ دوسرا فائدہ ’مال ‘ فراہم کرنے والے معززین کو پہنچا کیونکہ پابندی کی وجہ سے نرخ بہت بڑھ گئے پابندی سے وہ چیز صفح�ۂ ہستی سے غائب نہیں ہوجاتی، صرف اس کی طلب و رسد کا عمل مشکل اور مہنگا ہوجاتا ہے اور حصول کا مشکل مرحلہ رقم میں ڈھل کر مذکورہ دونوں طبقوں کی جیبوں میں منتقل ہوتا ہے ۔ لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں میں ایسے مشروبات فراہم کرنے والوں کا شمار معاشرے کے انتہائی معزز اورمفید ممبران میں ہوتا ہے ۔

ہر زندہ روح کو ان کی خدمات کی ضرورت پڑتی رہتی ہے ۔ اس پر لیڈران کیا کہتے ہیں؟ کیا اسی منافقت کے ساتھ زندگی گزارنی ہے کہ دکھاوازوروں پر جبکہ زمینی حقائق بالکل مختلف ؟ اگر منافقت گناہ ہے تو کیا بہتر نہیں کہ تھوڑی دیر رک کر ذرا نام نہادمذہبی دکھاوے کی ادا کی جانیوالی قیمت پر غور کیا جائے ؟ پارلیمنٹ اس سیاہ لہر کو واپس نہیں موڑ سکتی اس محترم ادارے سے جراتِ رندانہ کی توقع کرنی عبث ۔ ستم بالائے ستم یہ اپنے استحقاق کو قطعی اوراپنے آپ کو خود مختار قرار دیتی ہے جب اجلاس کا موسم آتا ہے تولاجز میں نوش جان کئے جانیوالے حقیقی مشروبات خیالی سات سمندر بھرنے کے لئے کافی ، لیکن جہاں یہ مشروبات عام انسان کو دلیر بناتے ہیں، ان شرفا پر انکا الٹا اثر ہوتا ہے ۔ قابلِ احترام ممبران میں اپنے لیڈران کے سامنے سر اٹھا کر بات کرنیکی ہمت نہیں ہوتی ان سے سماجی انقلاب کی کیا توقع کی جائے ؟تبدیلی کیلئے طاقتور انسان کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم اپنے طاقتور وں کو دیکھ چکے وہ بھی موم کے پتلے ثابت ہوئے مشرف کے پاس بہت کچھ کرنے کا موقع تھا۔ پہلے تین برسوں میں ان کے سامنے کوئی اپوزیشن نہیں تھی انگریزی پریس ان کا طرف دار تھا اور بہت سے احباب جو بعد میں میڈیا کے چیمپئن قرار پائے جنرل صاحب کے ہاتھ سے لقمہ کھانے میں عزت محسوس کرتے اس وقت مقدس ایوان بھی خاموش تھے اگر وہ چاہتے تو جنرل ضیاء کی نام نہاد اسلام پسند ی ، بشمول حدود آرڈیننس، کو واپس لے لیتے ۔ اس مقصد کیلئے وہ اہم علما کو ’حقیقی اسلام ‘ نافذ کرنیکا کام سونپ دیتے گویا منافقت کا مقابلہ منافقت سے کیا جاتاسچ ہے، لوہا، لوہے کو کاٹتا ہے(پلیز) تاہم مشرف میں تخیلات کا فقدان تھا اورانکے مشیر بہت ناقص تھے تاریخی شعور سے نابلد، موقع کی اہمیت سے بے بہرہ‘ ان کے دو اہم ترین جنرلوں، ایک وہ جنھوں نے شب خون کی قیادت کی تھی اور دوسرے وہ جو احتساب کا ترازو تھام کر میدان میں آئے ، کا تعلق لارنس کالج سے تھا لیکن وہ بھی پرویز مشرف کی طرح تخیلات سے عاری نکلے۔ ضیاء کے دور کے نقوش کو مٹاکر سماجی انقلاب کی راہ ہموار کی جاسکتی تھی اور اس عمل کا آغاز حدود آرڈیننس سے کیا جاتا تو آج یقیناًپاکستان ایک بہتراور آزاد تر ملک ہوتا ہوسکتا ہے کہ تخلیقی اختراع کے دورازے جو مدت سے بند ہیں ہم پر بھی کھل جاتے ہماری لاحاصل توانائیوں کا بھی بہتر مصرف ہوتا ۔

تاہم ہمارے اعلیٰ افسران دیگر امور میں ماہر ،یقیناًپراپرٹی بزنس میں ان کا حریف عالمِ آب وگلِ میں کوئی نہیں۔ ایک مرتبہ میں نے تجویز پیش کی تھی کہ رئیل سٹیٹ بزنس کو ایک مضمون کے طور پر پی ایم اے میں پڑھانا شروع کردیں تاہم تصورات اور تاریخی شعور سے ہمارے سینئر افسران کو کیا کام؟ ضربِ عضب ان کی استقامت اور دلیر ی کی ایک نادر مثال ہے ، چنانچہ آج کی فوج جنگ آزمودہ ہے اس سے ہم توقع کرسکتے ہیں اس کی صفوں سے افسران کی نئی نسل سامنے آئے گی یہ افسران ماضی کے برعکس مادی حصول کی طرف راغب نہیں ہوں گے اور انکے ذہن میں تصورات کا داخلہ ممنوع نہیں ہوگا۔ ضربِ عضب نے فوج کو نئے اوربھرپور جذبے سے آشناکردیا ہے ضیاء کی فوج کو منافق قسم کے جنرل لیڈ کررہے تھے ۔ اُن کے لبوں پر نیکی اور پارسائی کا ورد تھا کیونکہ اُس وقت اسی کا دور تھا۔ افسران کی بیویاں گھروں میں مذہبی محافل کا انعقاد کراتی تھیں کیونکہ یہی سکہ رائج الوقت تھااسکے بعد مشرف کی فوج کے افسران تو ورد ی پہن کر عوامی مقامات پر آنے سے خائف تھے جنرل کیانی کی فوج نے سوات اور جنوبی وزیرستان کو آزاد کرایا لیکن شمالی وزیرستان کی طرف قدم بڑھانے کا حوصلہ نہ کرسکی ایک وقت تھا اور یہ ضیا ء بلکہ بھٹو سے بھی پہلے کی بات ہے جب پاکستان امید اور مستقبل کے امکانات کی سرزمین تھی۔ گردشِ ایام کو واپس کیسے موڑا جائے ؟ سادہ لفظوں میں اس منافقت سے کیسے جان چھڑائی جائے ؟ میر ے نزدیک اس وقت پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج یہی ہے ۔