بریکنگ نیوز
Home / کالم / کرپٹ عناصر کا احتساب

کرپٹ عناصر کا احتساب

بلاول نے تو ابھی ہی سے اپنے آپ کو پاکستان کا نیا وزیراعظم اور اپنے والد محترم کو پاکستان کا آئندہ صدر مملکت ڈکلیئر کردیا ہے پی پی پی کے یوم تاسیس کے سلسلے میں بلاول ہاؤس لاہور میں ایک ہفتے تک رنگا رنگ جلسے ہوتے رہے جن میں زور ’گونوازگو‘ اور گو نثار گو‘ کے نعروں پر تھا میاں نواز شریف پر دن بہ دن سیاسی دباؤ زیادہ ہورہا ہے ایک طرف اگر بلاول ان پر تابڑ تور حملے کررہا ہے تو دوسری جانب عمران خان ان کے اعصاب پر بری طرح سوار ہے اور اب تو جماعت اسلامی کے تیور بھی کچھ بدلے بدلے نظر آرہے ہیں ‘کرپشن جس کسی نے بھی کی ہو بلاشبہ اسے قرار واقعی سزا ہونی چاہئے اور پبلک آفس ہولڈرزپرکرپشن ثابت ہوجانیکی صورت میں تو ڈبل سزا ہو پر پی پی پی والے (ن) لیگ کے کرپٹ رہنماؤں کو اگر سزا ہوتی ہے تو اس پر بغلیں اس لئے نہ بجائیں کہ ان کی صفوں میں بھی کئی کالی بھیڑیں موجود ہیں کہ اب شاید ان کا بھی نمبر آجائے اور ان سے بھی حساب کتاب لیا جائے کیونکہ وہ بھی کوئی آسمان سے نہیں اترے بہتی گنگا میں انہوں نے بھی جی بھر کر اشنان کیا ہے ان دونوں میں بس انیس بیس کا ہی فرق ہوگا وار داتیے دونوں ہیں بس طریقہ واردات ذرا مختلف ہے یہی وجہ ہے کہ زرداری صاحب نے بار بار کہا ہے کہ وزیراعظم کے احتساب کی صحیح جگہ پارلیمنٹ ہے نہ کے عدالت‘ انکا یہ موقف بڑا معنی خیز ہے پارلیمنٹ کے اراکین آپس میں پیٹی بند ہوتے ہیں وہ سیاسی لوگ ہوتے ہیں ان میں چونکہ اکثر ایک ہی کشتی کے سوار ہیں زرداری صاحب سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ وہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے کام آسکتے ہیں۔

اور پھر اس ملک میں تو کوئی ایسی پارلیمانی روایت موجود ہی نہیں کہ پارلیمنٹ نے اپنے کسی بندے کو Impeach کیا ہو اگر عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم کو مجرم قرار دے دیا تو ایک دو دھاری تلوار کے مترادف ہوسکتا ہے کہ پھر جس کی زد میں کئی ایسے لوگ بھی آسکتے ہیں کہ جو نوازشریف کے مخالف سیاسی کیمپ میں ہیں ایک لحاظ سے تطہیر کا یہ عمل اچھا ہے سیاست دان حکمران ہو یا کہ کسی اور طبقے سے تعلق رکھنے والا اس ملک کا حاکم ہو یا سینئر بیوروکریٹ ہو اس کے دل میں یہ خوف ڈالنا ضروری ہے کہ اگر اس نے کرپشن کی تو وہ بچ نہیں سکے گا اب تک حکمران طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد شاذ ہی کبھی اس طرح عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہوئے ہیں کہ جس طرح آج کل ہورہے ہیں اور اسی کو شاید مکافات عمل کہتے ہیں۔ بلاول نے تقاریر کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس کا اگر تجزیہ کیا جائے تو لگتا ہے کہ زرداری صاحب نے اس کیلئے جو بھی اتالیق مقرر کیا ہے وہ نہ تو دور اندیش ہے اور نہ اس میں کوئی سیاسی فہم وادراک ہے بلاو ل کی تقاریر بچگانہ ہیں ابھی تک وہ زور اس بات پر لگا رہا ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ اور بینظیر کا بیٹا ہے خالی خولی ان دو عظیم لیڈروں کی شہرت کو کیش کرنے سے بات نہیں بنے گی ایک ہی راگ الاپا جارہا ہے کہ جسے بار بار سن کر عوام کے کان پک گئے ہیں بلاول کی تقاریر میں لفاظی زیادہ ہے وہ پر مغز نہیں ہیں ۔ بلاول کو چاہئے کہ پہلے سیاست کے اسرار و رموز سیکھے ادب آداب سے آگاہی حاصل کرے الفاظ کا انتخاب خوب سوچ سمجھ کر ے سیاسی سمجھ بوجھ پیدا کرے تب کہیں جا کر وہ سیاست کے میدان کارزار میں کامیاب ہوسکتا ہے۔