بریکنگ نیوز
Home / کالم / سی پیک :ہمہ جہتی ترقی

سی پیک :ہمہ جہتی ترقی

سی پیک سے جڑی توقعات اور ترقی کے امکانات میں ہر گزرتے دن کیساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ ’’پاک چین دوستی اعتماد اور باہمی تعاون پر مبنی ہے اور ہم اچھے اور مشکل وقتوں کے ساتھی ہیں۔‘ سی پیک ویب سائٹ کی افتتاحی تقریب کے موقع پر اُنکا پیغام پاکستان میں چین کے سفیر نے سنایا جس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’’پاک چین شراکت داری دونوں ممالک کے مابین ہر موسم کی دوستی اور ہر طرح کے تعاون کی عکاسی کرتی ہے‘ دونوں ممالک کو باہمی تعاون مزید مضبوط اور سٹریٹیجک تعاون مزید گہرا بنانا چاہئے تاکہ اس کے فوائد عوام تک پہنچ سکیں۔‘‘ اِس وقت قوم نے چین کے تعاون سے تعمیر ہونے والی گوادر بندرگاہ اور اس سے منسلک اقتصادی راہداری سے ہی اپنے خوشحال‘ محفوظ اور مضبوط مستقبل کے حوالے سے تمام توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔ سی پیک سے یقیناًچین کو بھی اپنی تجارت کے فروغ اور معیشت کو استحکام دینے کا موقع ملے گا چنانچہ باہمی اشتراک سے پایہ تکمیل کو پہنچنے والا یہ منصوبہ اِس پورے خطے کے عوام کی خوشحالی کی ضمانت لے کر آرہا ہے جس کے ساتھ ہمارے ہی نہیں‘ خطے کے دیگر ممالک کے مفادات بھی وابستہ ہیں۔ اس وقت گوادر پورٹ کسی حد تک آپریشنل ہوچکی ہے جہاں چین کے جہاز لنگرانداز ہونا شروع ہوچکے ہیں اور اس کے لئے بیرونی تجارتی منڈیوں کے راستے کھل رہے ہیں جبکہ ہمیں اقتصادی راہداری کا سب سے بڑا فائدہ محصولات کی شکل میں حاصل ہوگا جس سے ابتدائی طور پر مقامی افراد کیلئے دس ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

جبکہ ’سی پیک‘ کے ذریعے ’گوادر پورٹ‘ سے بیرونی منڈیوں کے لئے تجارتی سرگرمیاں شروع ہوں گی‘ تو روزگار کے ہزاروں نئے مواقع بھی نکل آئیں گے‘ جبکہ اِس سے ہماری اپنی برآمدات کو بھی فروغ حاصل ہوگا تو دہشت گردی کی جنگ میں خسارے کے طور پر جامد ہونیوالی ہماری معیشت کا پہیہ بھی سبک خرام ہو جائے گا‘ نتیجتاً ہماری اقتصادی ترقی اور خوشحالی الفاظ کی ملمع کاریوں سے نکل کر حقیقت کے قالب میں ڈھل جائیگی اسلئے سی پیک کو بجاطور پر قومی معیشت کے استحکام کی ضمانت قرار دیا جا سکتا ہے جس سے ملک میں اقتصادی اور تجارتی سرگرمیاں شروع ہونگی تو اس سے دہشت گردی کے ناسور کا زور بھی ٹوٹ جائیگا کیونکہ روٹی روزگار کے چکروں میں اُلجھے ہمارے باصلاحیت نوجوان اپنے ذہن تخریبی اور منفی سرگرمیوں کے لئے بروئے کار لانیکی بجائے ’سی پیک‘ کے ذریعے اپنی ترقی کے مواقع حاصل کرنے کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیں گے‘ اس تناظر میں یقیناً’سی پیک‘ ہی وہ معاشی دھماکہ ہے جس کا اعلان وزیراعظم نوازشریف نے اپنے موجودہ اقتدار کے آغاز میں کیا تھا اور قوم کو توانائی کے بحران سے نجات دلانے کی نوید سنائی تھی سی پیک اِس حوالے سے ’ہمہ جہتی ترقی‘ کا منصوبہ ہے جس سے توانائی کے نئے وسائل پیدا ہونے کی نوید بھی سنائی جا رہی ہے اور اس ناطے سے یہ منصوبہ صنعتی ترقی کی ضمانت بھی بن رہا ہے۔

اِس منصوبے کے ذریعے ہماری اقتصادی‘ معاشی‘ تجارتی ترقی کی راہیں کھلتی دیکھ کر کئی کھلے اور چھپے دشمن بے چین ہیں‘ چنانچہ وہ گوادر پورٹ کی ترقی و فعالیت اور سی پیک کو سبوتاژ کرنے کے گھناؤنے منصوبے تیار کئے بیٹھا ہیں‘ جس کیلئے بلوچستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی مختلف وارداتوں میں تیزی آئی ہے بھارت سی پیک مخالفت میں پیش پیش ہے جس نے پہلے چین اور پھر ایران کی توجہ سی پیک‘ اور ’گوادر پورٹ‘ سے ہٹانے کی کوشش کی جس میں ناکامی کے بعد اس نے افغانستان کو اپنے ساتھ ملا کردہشت گردی کا ملبہ ڈلوانے کی کوشش کی ہے۔ اسی تناظر میں پاک فوج نے گوادر پورٹ اور سی پیک کی بحفاظت تعمیر و تکمیل کی ذمہ داری قبول کی وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے جوہری پروگرام کی طرح ’سی پیک‘ بھی سکیورٹی فورسز کے مضبوط ہاتھوں میں محفوظ ہے اور اس سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہوگی اور ایک دوسرے کی جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کی بھی ضامن بن جائیگی اِیران‘ ترکی‘ روس سمیت خطے کے متعدد ممالک ’سی پیک کیساتھ وابستہ ہونے کی خواہش کا اظہار کررہے ہیں تو یہ ’پاک چین اقتصادی راہداری‘ کی کامیابی کی دلیل ہے چنانچہ پوری قوم کے اِس کثیرالمقاصد منصوبے کے ساتھ وابستہ ہونے کی ضرورت ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: افتخار احمد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)