بریکنگ نیوز
Home / کالم / کیایہ ممکن ہے؟

کیایہ ممکن ہے؟


بلاول بھٹو زرداری کہہ رہے ہیں کہ اگر انکے چار مطالبات نہ مانے گئے تو دما دم مست قلندر ہوگا اور میاں نواز شریف کا اقتدارنہیں بچے گا انکا یہ بھی دعویٰ ہے کہ’وہ تخت لاہور گرا دیں گے ، آئندہ عام انتخابات کے نتیجے میں وفاقی اور صوبوں کی سطح پر پی پی پی کی حکومتیں بنیں گی اور وہ ملک کے وزیر اعظم ہونگے‘جون 2015 ء کی بات ہے کچھ دعوے انکے والد نے بھی کئے تھے آصف زرداری نے جو اس وقت کراچی میں رینجرز آپریشن کے نتیجے میں پی پی پی کے متعدد رہنماؤں کی بدعنوانیوں کے واقعات سامنے آنے اور مذکورہ رہنماؤں کے خلاف گھیرا تنگ ہونے پر شدید نالاں تھے پاک فوج کی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا ’ہماری کردار کشی چھوڑ دو اگر ہم نے شروع کی تو پاکستان بننے سے آج تک کتنے ہی جرنیلوں کا کچھا چٹھا کھول دیں گے آپ کے جن پیٹی بھائیوں کے خلاف عدالتوں میں کیس ہیں اگر ان کی لسٹ لے کر پریس کانفرنس کی تو آپ کی اینٹ سے اینٹ بج جائیگی جو ہمیں للکار رہے ہیں انھیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ پاکستان پیپلز پارٹی ہے جس دن میں کھڑا ہو گیاتو صرف سندھ کی سڑکیں یا پورٹ بند نہیں ہو گا فا ٹا سے کرا چی تک سب کچھ بندہو گا اور جب تک میں کہوں گا تب تک بند رہے گا۔آپ نے تین سال رہنا ہے پھر چلے جانا ہے ہم نے ہمیشہ رہنا ہے ہمیں تنگ نہ کرو ہمیں تنگ کرنیکی کوشش کی تو ہم آپکی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے‘۔

پاکستان کے عوام نے آصف زداری کے اس اظہار خیال اور اسکے دوران کئے گئے دعوؤں کی حقیقت دیکھ لی زرداری کی للکار ایسی انکے گلے پڑی کی انھیں غیر اعلانیہ و خود ساختہ جلا وطنی کا سہارا لینا پڑا اور اب جب جنرل راحیل شریف ریٹائر ہو گئے ہیں تب کہیں جا کر وہ وطن واپس آنیکی باتیں کرنے لگے ہیں خیر چونکہ زرداری اور بلاول کی للکاروں میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ زرداری نے پاک فوج کی قیادت کیخلاف ہرزہ سرائی کی تھی جبکہ بلاول کا ہدف سول قیادت ہے اس لئے بلاول کوانکے اعلان جنگ کے بعد ویسے حالات کا سامنا تو نہیں ہوگا جس قسم کے حالات کا سامنا انکے والد کو کرناپڑا تاہم بلاول بھٹو کے دعوؤں کے حوالے سے یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا مملکت کے موجودہ سیاسی حالات ، سیاسی جماعتوں کی عوامی حمایت اور انکی سابقہ کارکردگیوں کو سامنے رکھتے ہوئے بلاول بھٹو زرادری کے مذکورہ دعوے وزن رکھتے ہیں ؟ ۔ 2008ء سے2013ء تک کے پی پی پی کے دورِ اقتدار کو ابھی اتنا عرصہ نہیں گزرا کہ اس دور کے واقعات یکسر عوام کے ذہنوں سے محو ہو چکے ہوں اس دور میں ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا حج سکینڈل وقوع پذیر ہواحج ڈائریکٹوریٹ کے افسران سے لیکر وفاقی وزیر برائے حج تک کا حجاج کرام کو لوٹنا عدالتوں میں ثابت ہوا اور سزائیں بھی ہوئیں البتہ اس سکینڈل کے سزا یافتہ کرداروں نے پی پی پی حکومت کی جن دیگر اعلیٰ شخصیات کو شریک جرم ٹھہرایا تھاان کے خلاف انکوائریوں کے حوالے سے بات آگے نہیں بڑھی۔

حج سکینڈل کے علاوہ بھی پی پی پی دور حکومت میں بدعنوانیوں کے متعدد واقعات منظر عام پر آئے جن میں سے ایک ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی سکینڈل تھا اس سکینڈل کی تحقیقات کے دوران ا یف آئی اے کی محنت شاقہ کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ پی پی پی دور حکومت میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی وساطت سے جعلی کمپنیوں کے نام پر قومی خزانے سے اربوں روپے کی ٹریڈ سبسڈی حاصل کر کے یہ رقوم سوئٹزرلینڈ ، امریکہ اور برطانیہ منتقل کی گئیں تحقیقات کے دوران متعدد سرکاری افسران اوراس وقت کے بعض صاحبانِ اقتدار کے سکینڈل میں ملوث ہونے کے ثبوت و شواہد سامنے آئے جن کی بنیاد پر ایف آئی اے نے وفاقی عدالت برائے انسداد رشوت ستانی سے رجوع کیا ، بات پی پی پی دور حکومت کی ہو رہی ہوتو رینٹل پاور سکینڈل اور اس کے تناظر میں ’’راجہ رینٹل‘‘ کے نعرے کاذکر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا علاوہ ازیں اس دور حکومت میں سوئس بینک اکاؤنٹس کا معاملہ کھلوانے کیلئے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمدکاراستہ (حکومتی مشینری اور قانونی سقوم و عیوب کے زور پر )روکے رکھنے کی جدوجہد بھی ریکارڈ کا حصہ ہے جبکہ اس جدوجہد کے پس پشت کارفرماوجوہات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ 2008ء سے 2013ء تک کا پی پی پی کا دورِ حکومت پاکستان کے عوام کو جن دل شکنیوں و دل آزاریوں سے دو چار کر کے رخصت ہوا تھا اور جن کے رد عمل میں مئی 2013ء کے عام انتخابات میں عوام نے پیپلز پارٹی کو مسترد کر دیا تھاان کی یاد ابھی ذہنوں سے محو نہیں ہوئی ۔ ان حالات میں کیا یہ ممکن ہو گا کہ عوام بلاول بھٹو کی’ نوازشریف مخالف‘ تحریک کو اپنی حمایت سے وہ قوت بخش دیں جو تخت لاہور گرا ڈالے اور آنے والے عام انتخابات میں پی پی پی کو اُس مینڈیٹ سے نواز دیں جو اسے چاروں صوبوں اور وفاق میں مسند اقتدار تک پہنچا کر بلاول کو وزیر اعظم بنا دے ؟۔