بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / فضائی حادثے کی انکوائری

فضائی حادثے کی انکوائری

وزیراعظم نوازشریف نے حویلیاں کے قریب پیش آنے والے المناک فضائی حادثے سے متعلق شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے انکوائری کا کام سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ کرے گا جبکہ ائر فورس کے سینئر آفیسرز کو بھی اس میں شامل کیا جائیگا دوسری جانب تادم تحریر سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے پائلٹ نے لاگ بک میں فنی خرابی سے متعلق نوٹ دیا تھا جس کے مطابق انجن پاور میں کمی کے باعث الٹا گھوم رہا تھا قومی ائر لائن کی کوالٹی ایشورنس کا کہنا ہے کہ جہاز کو انجینئر نے خود کلیئر کیا تھا اسی طیارے کے پارٹس کے بروقت حصول کے لئے کسی کمپنی سے معاہدہ نہ ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے ذمہ دار حکام طیارے کو مکمل طور پر فٹ قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ جہاز کا مکمل معائنہ کیا گیا تھا تاہم ساتھ ہی یہ امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ طیارے کا دوسرا انجن پوری استعداد کے مطابق نہیں چل رہا تھا ابتدائی تجزیاتی رپورٹ میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جہاز کا تکنیکی نظام مکمل شٹ ڈاؤن نہیں ہوا تھا اگر ایسا ہوتا تو طیارہ نوز ڈائیو کرکے سیدھا گرتا حادثے سے متعلق تکنیکی حوالوں سے متعلق متعدد سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

جن میں فٹنس سرٹیفکیٹ کے اجراء میں عالمی سطح پر رائج قواعد پر عمل درآمد سے متعلق بھی دیکھنا شامل ہے سوال یہ بھی اٹھایا جارہا ہے کہ اگر ایک انجن بھی سو فیصد چلتا تو جہاز کے لئے33 ناٹیکل مائلز کا سفر مشکل نہیں تھا وطن عزیز کی سیاسی قیادت بھی شفاف انکوائری کا مطالبہ کررہی ہے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ تو تحقیقات جنگی بنیادوں پر کرانے کا کہتے ہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو جہاز اونچائی کے لئے بنے ہی نہیں انہیں چترال بھیجا جاتا ہے جہاز کی ایک ہی دن میں تین پروازوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں برسر زمین شواہد تحقیقاتی رپورٹ کے ماضی کے برعکس جلد اور فوری طور پر منظر عام پر لائے جانے کا تقاضا کرتے ہیں بہتر ہوگا کہ وزیراعظم خود اس کے لئے ڈیڈ لائن بھی دے دیں۔
فاٹا کے لئے منصوبہ بندی کے خدوخال
سیفران کے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے گذشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب میں فاٹا میں اصلاحات کے حوالے سے بعض اقدامات کے خدوخال واضح کئے ہیں ان کی بتائی ہوئی تفصیل کے مطابق ایف سی آر کا قانون تبدیل ہوگا‘رواج ایکٹ میں بنیادی حقوق محفوظ ہوں گے ‘ہر ایجنسی کو ترقیاتی کاموں کے لئے چار ارب روپے تک دیئے جائیں گے لیویز کی 20ہزار اسامیاں پیدا ہونگی عین اسی روز گورنر خیبر پختونخوا انجینئر اقبال ظفر جھگڑا کا بھی کہنا ہے کہ حکومت فاٹا کو قومی دھارے کا حصہ بنانا چاہتی ہے فاٹا میں اصلاحات اور قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

اس مقصد کے لئے وزیراعظم نے 9ماہ قبل ایک کمیٹی تشکیل دی جس کی سفارشات آچکی ہیں قبائلی علاقوں میں تعمیر وترقی اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے اقدامات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اول سارے معاملات پر وہاں کے عوام کو اعتماد میں لیا جائے اور دوسرا اصلاحات کے کام میں مزید تاخیر سے گریز کیا جائے ہم پہلے ہی بہت وقت ضائع کرچکے ہیں اب قبائلی علاقوں میں بنیادی شہری سہولیات اور آئینی حقوق دینے میں مزید تاخیر مناسب نہیں اس میں پہلے مرحلے پر بلدیاتی انتخابات آتے ہیں جس کیلئے موثر بلدیاتی نظام ایڈوانس میں تیار کرنا ناگزیر ہے۔