بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / اسلامی نظریاتی کونسل نے پروفیسرعبدالسلام کے نام پرفزکس سینٹرکی مخالف کردی

اسلامی نظریاتی کونسل نے پروفیسرعبدالسلام کے نام پرفزکس سینٹرکی مخالف کردی

اسلام آباد۔اسلامی نظریاتی کونسل(سی آئی آئی)نے قائد اعظم یونیورسٹی کے نیشنل سینٹر فار فزکس کو معروف پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر محمد عبدالسلام کے نام سے منسوب کرنے کی مخالفت کردی۔چیئرمین کی حیثیت سے اپنے آخری اجلاس کی صدارت کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا محمد خان شیرانی کا کہنا تھا کہ ڈپارٹمنٹ کا نام تبدیل کرکے کوئی اچھی مثال قائم نہیں ہوگی۔ان کا کہنا تھا، ‘ہمیں نام کی تبدیلی پر کچھ تحفظات ہیں کیونکہ اس سے قبل سینٹر کا نام ڈاکٹر ریاض کے نام پر تھا’، تاہم انھوں نے مخالفت کی کوئی وجہ بتانے سے انکار کردیا۔جب مولانا شیرانی سے اس حوالے سے پوچھا گیا کہ کیا کونسل کو دیگر اداروں اور سڑکوں کے ناموں کی تبدیلی پر بھی اعتراض ہے ۔

تو انھوں نے اس معاملے پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔واضح رہے کہ مولانا خان شیرانی جمعیت علما اسلام سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی ہیں، جو رواں ماہ 16 دسمبر کو اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔1979 میں ڈاکٹر عبدالسلام کو فزکس کے شعبے میں خدمات کے اعتراف میں طبیعات کے نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا، وہ سائنس کے شعبے میں نوبیل انعام حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی اور کسی اسلامی ملک کی دوسری شخصیت تھے۔سندھ کا مذہب کی جبری تبدیلی کے خلاف بل کے حوالے سے مولانا شیرانی نے کہا کہ کسی بھی سمجھدار اور فیصلہ کرنے کے قابل شخص کو اسلام کو اپنانے کی اجازت ہے،تاہم اس انتخاب کو 18 سال کی عمر تک محدود کرنا درست نہیں ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘سندھ کی جانب سے بنایا جانے والا بل اسلام کی روح کے بھی منافی ہے اور ہم اس حوالے سے گورنر سندھ سمیت تمام متعلقہ افراد کو خط لکھیں گے’۔اجلاس کے دوران توہین کے قوانین میں مجوزہ ترامیم کی بھی مخالفت کی گئی۔

مولانا شیرانی کا کہنا تھا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو اس حوالے سے بحث کا کہا گیا ہے تاہم ان کا خیال ہے کہ موجودہ قانون کو چھیڑنا ٹھیک نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘پارلیمنٹیرینز کو چاہیے کہ وہ باقی قوانین کو بھی شریعت کے مطابق بنانے پر توجہ مرکوز کریں’۔اجلاس میں علامہ سید افتخار حسین نقوی، جسٹس (ر)سید منظور حیسن گیلانی، جسٹس (ر)محمد رضا خان، مولانا امداد اللہ، داکٹر نور احمد شاہتاج، مفتی زاہد محمود قاسمی اور ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی بھی شریک تھے۔