بریکنگ نیوز
Home / کالم / ایسے نہ جانے سے تو اچھا تھا نہ جانا تیرا

ایسے نہ جانے سے تو اچھا تھا نہ جانا تیرا

حال ہی میں امرتسر میں ہونیوالی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کی بازگشت ابھی تک سنائی دے رہی ہے، اس کانفرنس کی روداد کی ٹیلی وژن فوٹیج اگر آپ نے غور سے دیکھی ہو تو آپ نے ضرور دیکھا ہوگا کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی بھارت کے وزیراعظم نریندرمودی سے یوں بغلگیر ہورہے ہیں کہ بقول کسے جھپیاں ڈال رہے ہیں کہ جس طرح دو آپس میں محبت کرنیوالے ایک دوسرے کے گلے ملتے ہیں، بھارتی وزیراعظم کیساتھ اشرف غنی نے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر امرتسر کے گولڈن ٹمپل کا بھی دورہ کیا ہمارے معمر وزارت خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز کو نہ تو مودی نے کوئی لفٹ دی اور نہ اشرف غنی نے۔اکثر پاکستانیوں کا خیال ہے کہ کانفرنس کا بائیکاٹ کرکے ہم دنیا کو ایک واضح پیغام بھیج سکتے تھے کہ ہم اسلئے اس میں شرکت نہیں کررہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم اور بربریت کا بازار گرم کررکھا ہے اسلئے ہم بطور احتجاج اس وقت تک ہم کلام نہیں ہونگے جب تک کہ وہ ہم سے اس مسئلے پر گفت وشنید کی میز پر نہ بیٹھے، ہم دنیا کو کہہ سکتے تھے کہ مودی کبھی ہم پر سرجیکل سٹرائیک کی بات کرتا ہے تو کبھی آبی جارحیت کی، افسوس ہمیں اشرف غنی پر بھی ہوتا ہے کہ انہیں مقبوضہ وادی میں کشمیری مسلمانوں پر زیادتیاں دکھائی نہیں دے رہیں؟ کشمیریوں کا کیا قصور ہے؟ یہی نا کہ وہ بھارت پر زور دے رہے ہیں کہ پنڈت نہرو نے اقوام متحدہ کے فلور پر 1948ء میں ان سے مقبوضہ کشمیر کے اندر ریفرنڈم کرانے کا جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کیاجائے۔

جب بھارتی گجرات میں ایک مسلمان پچھلے دنوں جنتا پارٹی کے ایک لیڈر کی موٹرکے نیچے آکر کچلا گیا تو کیا نریندر مودی نے طنز بھرے لہجے میں یہ نہیں کہا تھا کہ کتے روزانہ موٹروں کے نیچے آکر مرتے ہیں اگر وہ مر گیا تو کیافرق پڑا ہے؟ اشرف غنی کو اس قسم کے متعصب ہندو کہ جس کا نام مودی ہے اس سے محبت کی پینگیں بڑھانے میں شرم نہ آئی؟ بلاول بھٹو جب یہ کہتا ہے کہ نوازشریف کو وزارت خارجہ کا قلمدان بھی اپنے پاس نہیں رکھنا چاہئے تھا تو وہ ٹھیک ہی تو کہتا ہے آج ہم ایک متحرک اور چاک وچوبند وزیرخارجہ کی کمی محسوس کررہے ہیں بے حدافسوس اس بات پر ہے کہ بھارت کیخلاف ہمارے وزیراعظم کھل کر نہیں بولتے آج اس ملک کو سر ظفر اللہ خان اور ذوالفقار علی بھٹو جیسے دلیر اور متحرک قسم کے وزیرخارجہ کی ضرورت تھی انکو خدا نے فصاحت وبلاغت سے نوازا ہوا تھا اور وہ کانے کو منہ پر کانا کہنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے اور ان کو ایک دنیا بڑے غور سے بھی سنتی تھی اقوام متحدہ میں ان دو وزرائے خارجہ نے کشمیر کا مسئلہ اجاگر کرنے کیلئے جو تقاریر کی ہیں وہ ایک ماسٹر پیس کا درجہ رکھتی ہیں، کشمیر کا ذکر جب چھڑ ہی گیا ہے توہمیں فاروق عبداللہ کے اس تازہ ترین بیان پر حیرت ہوتی ہے جس میں انہوں نے بھارتی حکومت کو کشمیر کے مسئلے پر تمام سٹیک ہولڈرز بشمول پاکستان سے گفت وشنید کا مشورہ دیا ہے، بھئی سبحان اللہ اپنے والد مرحوم شیخ عبداللہ کی طرح یہ صاحب بھی گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔

یہ حقیقت ان کو اپنے والد محترم کی طرف سے وراثت میں ملی ہے ، کاش کہ اس قسم کا مشورہ وہ بھارت میں کانگریس کی حکومت کو بھی دیتے کہ جب وہ وہاں برسراقتدار تھی وزیراعظم پاکستان کی خدمت میں یہ عرض ہے کہ اگر آپ مودی کو جی جی کریں گے تو وہ توہندوبنیا ہے اور اپنی فطرت کے مطابق وہ اسے پاکستان کی کمزوری سے تعبیر کریگا، آپ کو ضرور یاد ہوگا کہ جب ضیاء الحق پاکستان کے صدر تھے تو ایک مرتبہ ان دنوں بھی بھارت نے پاکستان کے بارڈر پر اپنی افواج جمع کردی تھیں اور خدشہ تھا کہ وہ اس پر حملہ نہ کردے، ان دنوں بھارت میں پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان میچ ہو رہا تھا ایک دن اچانک ضیاء الحق نئی دلی کیلئے روانہ ہوگئے تاکہ وہ میچ دیکھ سکیں‘ راجیو گاندھی بھارت کے وزیراعظم تھے وہ بادل نخواستہ ان کو پالم کے ائر پورٹ پر خوش آمدید کہنے گئے حالانکہ دل سے وہ نہیں چاہتے تھے کہ ضیاء الحق اچانک میچ دیکھنے کے بہانے بھارت آئیں‘ راجیو گاندھی نے ان سے جان چھڑانے کیلئے فوراً وہاں پر موجود ایک سینئر بھارتی فوجی افسر سے کہا کہ صدر صاحب میچ دیکھنے آئے ہیں انکو فوراً کرکٹ سٹیڈیم پہنچایاجائے ضیاء الحق بھانپ گئے کہ راجیوگاندھی ان سے سرد مہری کا مظاہرہ کررہے ہیں پر مسکراتے مسکراتے انہوں نے بھارتی وزیراعظم سے یہ کہا ، سنا ہے آپ پاکستان پر حملہ کرنے کا سوچ رہے ہیں، ایسی غلطی بالکل نہ کیجئے گا ہم دونوں کے پاس مہلک ایٹمی ہتھیار ہیں جنگ کی صورت میں اگر ہم تباہ ہوئے تو بھارت بھی صفحہ ہستی سے مٹ جائیگا اور یاد رکھئے پاکستان اگر مٹ بھی گیا تو دنیا میں پھر بھی اربوں مسلمان باقی رہ جائیں گے جو 50اسلامی ممالک میں بستے ہیں، پر ہندوؤں کا نام ونشان نہیں رہے گا، راجیو گاندھی نے اس دھمکی کے بعد پاکستان پر حملہ کرنے کا ارادہ ترک کردیا۔