بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پانامہ کیس کی از سر نو سماعت کا فیصلہ

پانامہ کیس کی از سر نو سماعت کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کی از سر نو سماعت کا فیصلہ کیا ہے ۔ کیس کی سماعت اب اگلے ماہ کے پہلے ہفتے میں ہوگی چیف جسٹس آف پاکستان نے کمیشن بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ نئے آنے والے چیف جسٹس پر چھوڑ دیا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ کمیشن بنانا ہمارا صوابدیدی اختیار ہے ہم چاہتے ہیں کہ تمام فریقین کو سنا جائے ان کا کہنا ہے کہ چونکہ میں ریٹائر ہو رہا ہوں اور فل کورٹ ریفرنس کے بعد کسی بنچ میں نہیں بیٹھوں گا اس لئے سماعت اب نیا بنچ ہی کرے گا۔ جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا ہے کہ عدالت کیلئے موسم سرما کی تعطیلات سے قبل دو دن میں فیصلہ ممکن نہیں۔ عدالت عظمیٰ کے ریمارکس میں کیس سے متعلق جمع کرائی جانے والی دستاویزات کو بھی فیصلہ دینے کیلئے ناکافی قرار دیا گیا ہے پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری کا کہنا ہے کہ کمیشن منظور نہیں اگر بنایا گیا تو بائیکاٹ کریں گے عدالت کا ہر فیصلہ قبول ہوگا شریف فیملی کے وکلاء کمیشن کی تشکیل پر کوئی اعتراض نہ ہونے کا کہہ رہے ہیں ۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی یہی کہتے ہیں کہ کمیشن بنا تو معاملہ طول پکڑ جائے گا اس لئے فیصلہ سپریم کورٹ ہی کرے ہم عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں مسلم لیگ (ن) کے طلال چوہدری اور سابق وفاقی وزیر پرویز رشید تحریک انصاف کے رویے پر تنقید کرتے ہیں پرویز رشید کا کہنا ہے کہ عمران خان شارٹ کٹ سے وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ ہمارا دامن صاف ہے ہم سرخرو ہوں گے۔ پانامہ پیپرز پر انکوائری میں غیر ضروری تاخیر اور سیاسی قیادت کا ٹی او آرز پر متفق نہ ہونا ریکارڈ کا حصہ ہے اب کیس عدالت میں زیر سماعت ہے قابل اطمینان بات یہ ہے کہ عدالت پر ہر کوئی اعتماد کرتا ہے اور عدالتی کاروائی میں بھی وکلاء نے عدالتی وقار کو مد نظر رکھتے ہوئے دلائل دیئے ہیں کیا ہی بہتر ہو کہ جب تک عدالت عظمیٰ میں کیس کی سماعت جاری ہے غیر ضروری بیانات سے گریز کرتے ہوئے اس اہم ترین کیس کو آئین و قانون کے دائرے میں ہی اختتام تک لانے پر توجہ مرکوز رکھی جائے۔
زمینی حقائق کا ادراک ضروری ہے

امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانوں کی فراہمی بند کرے ان کا کہنا ہے کہ دہشت گرد افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کیساتھ بھارت پر حملے بھی کرتے ہیں اور یہ پاکستان کے لئے سٹریٹیجک خطرہ ہیں اسی روز پینٹا گان پاک افغان سرحد کو دہشت گردوں کا گڑھ قرار دے رہا ہے ۔خارجہ امور کیلئے وزیر اعظم کے مشیر طارق فاطمی نے امریکی حکام سے ملاقاتوں میں کلیئر کیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کی جا رہی ہے جبکہ بھارت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لئے اشتعال انگیزی کر رہا ہے۔

بھارت کے ساتھ معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لئے پاکستان کی کوششیں کوئی خفیہ دستاویزات نہیں۔ افغانستان میں امن کے قیام کے لئے پاکستان کا کردار چھپا ہوا نہیں ۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کی کوششیں سب کے سامنے ہیں۔ دہشت گردی کے نتیجے میں پاکستان کا جانی نقصان اور معیشت کا متاثر ہونا کوئی چھپی بات نہیں ۔ عالمی برادری اور خصوصاً امریکہ کو چاہیے کہ وہ برسر زمین حقائق کا ادراک کرے تاکہ ان کی غیر جانبداری متاثر نہ ہونے پائے۔