بریکنگ نیوز
Home / کالم / پاک امریکہ تعلقات: نئی جہتیں!

پاک امریکہ تعلقات: نئی جہتیں!

دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور کوششوں کا عالمی اعتراف صرف ایک ہی صورت ممکن ہے جبکہ پاکستان کی سیاسی قیادت ملک کے وقار اور معاملے کو سفارتی سطح پر کماحقہ اجاگر کر سکے۔ نہیں ہونا چاہئے تھا لیکن امریکہ نے ایک بار پھر الزام عائد کیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک پاکستان کی سرزمین استعمال کررہا ہے۔ اس سلسلہ میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونز نے واشنگٹن میں بریفنگ کے دوران کہا کہ ’’ہم حقانی نیٹ ورک کی جانب سے پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کے معاملہ میں پاکستانی حکام کو امریکی تشویش سے آگاہ کرچکے ہیں اور باور کراچکے ہیں کہ دہشتگردی کی روک تھام کیلئے پاکستان اور افغانستان کو تعاون کرنا ہوگا۔‘ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے باور کرایا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ پاکستان کیخلاف افغان سرزمین استعمال کررہی ہے اور حقانی نیٹ ورک‘ داعش‘ القاعدہ اور دیگر ایسی عسکریت پسند تنظیمیں افغانستان کی سرزمین استعمال کررہی ہیں‘ جن کے خلاف پاکستان کے اندر کاروائیاں کافی و کارگر ثابت نہیں ہو رہیں!‘پاکستان کے نکتۂ نظر سے افغانستان سمیت خطے میں قیام امن کیلئے وہ ’مذاکرات برائے مذاکرات‘ کے قائل نہیں بلکہ پاکستان بھارت کیساتھ نتیجہ خیز اور پائیدار مذاکرات چاہتا ہے۔

جبکہ بھارت نے ثابت کیا ہے کہ وہ ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کے مقاصد سے مخلص نہیںیہ حقیقت ہے کہ صدر اوبامہ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ کے دونوں ادوار میں پاکستان امریکہ تعلقات کبھی مثالی نہیں رہے اور دہشت گردی کی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان کا کردار امریکہ کی نگاہوں میں مشکوک ہی رہا جو اس کے ساتھ ڈومور کے تقاضے بھی بڑھاتا رہا اور پاکستان کی سرزمین پر ڈرون حملے اور دیگر زمینی اور فضائی کاروائیاں کرکے اس کی خودمختاری کو بھی پامال کرتا رہا اسکے برعکس پاکستان کی جانب سے بھارتی ’’را‘‘ کے نیٹ ورک اور اس کی دہشتگردی کی وارداتوں کے بارے میں فراہم کئے گئے ٹھوس ثبوت امریکہ نے درخوراعتناء ہی نہ سمجھے اور تو اور‘ اوبامہ انتظامیہ نے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر بھارتی سفارت کاروں اور دیگر لابی کرنیوالوں کو پاکستان کیخلاف زہریلے پروپیگنڈے کا بھی خوب موقع فراہم کیا اور جب اس حوالے سے پاکستانی سفیر جلیل عباس نے بھارتی پروپیگنڈے کے توڑ کیلئے اپنی سفارتی کوششیں بروئے کار لا کر پاکستان کے لابیسٹوں کو متحرک کیا تو بھارت کے ایماء پر امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے جلیل عباس کو ’’ناپسندیدہ سفارتی سرگرمیوں‘‘ کے حوالے سے تحریری طور پر سخت وارننگ دے دی گئی۔ یہ صورتحال پاکستان امریکہ تعلقات کے حوالے سے یقیناًکٹھن ہے ۔

جسکا اوبامہ کے دور میں پاکستان کو اور امریکہ میں موجود پاکستانی سفارتخانہ کو سامنا رہا ہے اب جبکہ ری پبلکنز نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ ماہ بیس جنوری کو حلف اٹھانے کے بعد نئی امریکی انتظامیہ کی عملداری قائم ہونے والی ہے اور ٹرمپ کی وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ خوشگوار ٹیلی فونک گفتگو کی بنیاد پر پاکستان امریکہ تعلقات کی سازگار فضا استوار ہوتی نظر آرہی ہے جس کے تحت ٹرمپ کی پیشکش کی روشنی میں دیرینہ مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے جس کیلئے نومنتخب امریکی نائب صدر نے بھی واضح اشارہ دے دیا ہے ٹرمپ کی سربراہی میں نئی امریکی انتظامیہ نے یقیناًامریکی مفادات کے تحت ہی بیرونی دنیا سے تعلقات کی پالیسیاں اپنانی ہیں اور اس کیلئے پاکستان کے ساتھ سازگار تعلقات کو ٹرمپ نے اپنی حکومتی ترجیحات میں شامل کیا ہے تو یہ ترجیحات بھی انہوں نے بہترین امریکی مفاد کے تحت ہی متعین کی ہونگی چنانچہ اب بھارتی لابی کی کوشش ہوگی کہ امریکہ کے پاکستان کیساتھ سازگار تعلقات استوار نہ ہونے دیئے جائیں جبکہ اب ٹرمپ انتظامیہ کا پاکستان کی جانب جھکاؤ دیکھ کر یہ لابی اس کے توڑ کے لئے کسی بھی انتہاء تک جاسکتی ہے یہ صورتحال امریکہ میں ہمارے سفارتکاروں کیلئے بھی پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے معاملہ میں انتہائی اہم کردار متعین کررہی ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ایاز خان۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)