بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ترکی، فٹ بال گراؤنڈ کے باہر2دھماکے،ہلاکتوں کی تعداد 29ہوگئی ، 166 زخمی

ترکی، فٹ بال گراؤنڈ کے باہر2دھماکے،ہلاکتوں کی تعداد 29ہوگئی ، 166 زخمی

استنبول۔ ترکی کے شہر استنبول میں فٹ بال گرانڈ کے باہر2دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 29ہوگئی جبکہ 166افراد زخمی ہیں، ترک صدر رجب طیب اردگان نے دھماکوں کو پولیس اور عوام پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد حملوں کا مقصد فٹ بال میچ دیکھنے کے لیے آنے والے ہزاروں لوگوں کو نشانہ بنانا تھا ہمیں اللہ کی مرضی پر شک نہیں ہونا چاہئیے، ہم ایک قوم بن کر فوج کی مدد سے دہشت گردی پر جلد قابو پالیں گے،ادھر پاکستان نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام عالم کو دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑنا ہو گا،پاکستان اورترکی دہشت گردی کی سرکوبی کے لئے آخری دم تک مل کر کام کریں گے۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق ترکی کے شہر استنبول میں فٹ بال گرانڈ کے باہر گزشتہ روز ایک منٹ کے وقفے سے ہونے والے 2 دھماکوں میں 29 افراد ہلاک اور 166 زخمی ہوگئے۔فٹ بال گرانڈ میں 2 مقامی ٹیموں کا میچ کچھ دیر قبل ہی ختم ہوا تھا۔

ترکی کے نائب وزیر اعظم نعمان کارتولمس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پہلا کار دھماکہ ووڈافون ایرینا نامی اسٹیڈیم کے باہر ہوا جب کہ 45 سیکنڈ کے وقفے کے بعد ایک خودکش حملہ آور نے خود کو پارک کے برابر میں کھڑے پولیس اہلکاروں کے سامنے دھماکہ خیز مواد سے اڑاد دیا۔ترک صدر رجب طیب اردگان نے دھماکوں کو پولیس اور عوام پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد حملوں کا مقصد فٹ بال میچ دیکھنے کے لیے آنے والے ہزاروں لوگوں کو نشانہ بنانا تھا۔رجب طیب اردگان کا کہنا تھا کہ ہمیں اللہ کی مرضی پر شک نہیں ہونا چاہئیے، ہم ایک قوم بن کر فوج کی مدد سے دہشت گردی پر جلد قابو پالیں گے۔ترکی کے وزیر داخلہ سلیمان سوئل کے مطابق پہلا کار دھماکہ بئشکتاش اور برساسپور فٹ بال ٹیموں کے درمیان ہونے والے میچ کے 2 گھنٹے کے اختتام کے بعد سیکیورٹی کے لیے کھڑے اہلکاروں کے قریب ہوا جب کہ دوسرے دھماکے میں خودکش حملہ آور نے خود کو پارک کے سامنے کھڑے پولیس اہلکاروں کے سامنے اڑا دیا۔وزیر داخلہ کے مطابق دھماکوں کے نتیجے میں پولیس چیف سمیت پولیس کے اعلی عہدداروں سمیت 27 اہلکار جب کہ 2 عام شہری ہلاک ہوئے۔

دھماکوں سے زخمی ہونے والے 6 افراد کو انتہائی نگہداشت والے وارڈ میں رکھا گیا ہے، جب کہ 17 زخمیوں کی سرجری کی جا رہی ہے۔سلیمان سوئل کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد جائے وقوع سے 10 افراد کو مشتبہ ہونے پر حراست میں لیا گیا ہے، تاہم حکام کا خیال ہے کہ ان میں سے کوئی بھی شخص دھماکوں میں ملوث نہیں ہے۔فٹ بال گرانڈ کے قریب ہی واقع ایک مسجد میں صفائی کا کام کرنے والے عمر یلماز نے بتایا کہ وہ ہوٹل میں بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ یکے بعد دو دھماکے ہوئے، دھماکوں سے اٹھنے والے آگ کے شعلے آسمان پر پھیل گئے۔عمر یلماز کے مطابق دھماکے کے وقت سیکڑوں فٹ بال شائقین ہوٹل پر چائے پی رہے تھے، دھماکے کے بعد لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے جب کہ خواتین نے خوف سے رونا شروع کردیا۔دھماکوں کے بعد وزیر کھیل اکف کاگزائے کلف نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ دھماکوں سے قوم کے اتحاد اور یکجہتی کو شکست نہیں دی جاسکتی، وزیر ٹرانسپورٹ نے بھی دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے دھماکوں کو دہشت گردی قرار دیا۔ادھر نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹالٹن برگ نے بھی دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں دہشت گردی کی ہولناک کارروائی قرار دیا۔ وزیراعظم نوازشریف اور صدرمملکت ممنون حسین نے ترکی میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام عالم کو دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑنا ہو گا۔ وزیر اعظم نوازشریف اور صدر ممنون حسین نے ترکی میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی اقوام عالم کا مشترکہ مسئلہ ہے ۔

جس سے مل کر نمٹنا ہوگا، پاکستان ہرقسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ وزیراعظم نے ترکی دھماکوں میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت غم کی اس گھڑی میں ترک عوام اور حکومت کے ساتھ ہے۔واضح رہے کہ ترکی نارتھ ائٹلانٹک ٹریٹی آرگنائیزیشن(نیٹو)افواج کا ممبر ملک ہے، ترکی داعش کے خلاف امریکی سرپرستی میں بنے اتحاد کا حصہ بھی ہے، ترکی نے رواں برس اگست میں داعش کے خلاف شام میں فوجی آپریشن بھی شروع کیا تھا، جب کہ ترکی کو اپنے ملک کے جنوب مشرقی حصے میں کرد بغاوت کا سامنا بھی ہے۔فٹ بال گرانڈ کے باہر ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری تاحال کسی نے بھی قبول نہیں کی ہے، مگر یہ دھماکے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب داعش نے ایک ہفتہ قبل ہی ترکی کے سیکیورٹی اہلکاروں سمیت، میڈیا اور کاروباری مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔خیال رہے کہ اس سے قبل بھی رواں برس ترکی کے دارالحکومت انقرہ اور استنبول سمیت دیگر شہروں میں متعدد دھماکے ہوچکے ہیں،کچھ لوگ دھماکوں کے الزامات داعش پر عائد کرتے ہیں جب کہ بعض افراد کا خیال ہے کہ دھماکوں کے پیچھے کردش جنگجوں کا ہاتھ ہے۔ترکی میں رواں برس جولائی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد دھماکوں اور دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے،رواں برس استنبول کی اتاترک ایئرپورٹ پر دھماکے سے بھی 45 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔