بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / چیف جسٹس آف پاکستان کا خطاب

چیف جسٹس آف پاکستان کا خطاب

چیف جسٹس آف پاکستان نے وطن عزیز میں بعض خرابیوں کی نہ صرف نشاندہی کی ہے بلکہ ان کے سدھار کیلئے تجاویز بھی دی ہیں، جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا ہے کہ بلیک مارکیٹنگ، رشوت ستانی اور بدعنوانی سے نمٹنا ناگزیر ہے ، لاہور ہائی کورٹ کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے برسرزمین صورتحال کے تناظر میں تجویز دی کہ کوئی بھی ادارہ اپنی ماضی کی کوتاہیوں اور ناکامیوں کا جائزہ لے کر درپیش مشکلات سے بہتر انداز میں نبردآزما ہوسکتاہے، ان کا کہنا ہے کہ تقسیم اختیارات کے ذریعے اداروں کے مابین توازن کا نظام قائم ہوتا ہے جوکہ جمہوریت کی اساس ہے، ان کا کہنا ہے اسی توازن کے ذریعے اداروں کو مطلق العنان بننے سے روکا جاسکتا ہے، خود عدلیہ سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ عدالتیں خودمختار اور آزاد ہیں، دباؤ میں آکر یا کسی کو خوش کرنے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتے، اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ وطن عزیز میں رشوت اور بدعنوانی نے نہ صرف میرٹ کی دھجیاں بکھیری ہیں بلکہ لوٹ مار نے قومی معیشت کو اربوں روپے کے بیرونی قرضوں تلے دبا دیا ہے، توانائی بحران کے ہاتھوں بھاری یوٹیلٹی بل دینے والے شہری بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کررہے ہیں، بنیادی شہری سہولتوں کا فقدان ہے۔

نوجوان بیروزگاری کے ہاتھوں پریشان ہیں، غریب اور متوسط طبقے کے شہری مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، دفتری سیٹ اپ میں فائلوں کی گردش کا طریقہ کار اور رفتار حکومتوں کے اعلانات واقدامات کو بے ثمر کررہی ہے، اس ساری صورتحال میں یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنیوالی حکومتوں کا اصلاح احوال کیلئے اقدامات سے گریز بھی ریکارڈ پر ہے، بعد از خرابی بسیار ہی سہی اب بھی وقت ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی بگاڑ کے سدھار کیلئے دی گئی تجاویز کی روشنی میں اپنی ناکامیوں اور کوتاہیوں کا جائزہ لیتے ہوئے سسٹم کی درستگی پر کام شروع کیاجائے، اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کیساتھ اختیارات میں توازن یقینی بنایاجائے، کرپشن اور لوٹ مار کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہئے،عدل وانصاف پر مبنی ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیاجائے جس میں حقوق وفرائض یقینی ہوں بصورت دیگر تعمیر وترقی کا گراف روبہ زوال ہی رہے گا۔

مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس

وزیراعظم نوازشریف نے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 15دسمبرکو طلب کیا ہے، اجلاس کا ایجنڈا سات نکات پر مشتمل ہے، جس میں سرفہرست مردم شماری ہے، خبر رساں ایجنسی کے مطابق فاٹااصلاحات کا معاملہ بھی اجلاس میں زیر غور آئیگا اس حوالے سے سمری سیفران نے ارسال کررکھی ہے، اجلاس میں گزشتہ میٹنگ کے فیصلوں پر عمل درآمد کاجائزہ بھی لیاجائیگا، مشترکہ مفادات کونسل ایک اہم اورموثر پلیٹ فارم ہے، اس اجلاس کے ایجنڈے کا تقاضا ہے کہ اس میں شرکت کیلئے ہوم ورک نہایت احتیاط سے کیاجائے، خصوصاً فاٹا کے حوالے سے خیبرپختونخوا کو کام کرنا ہوگاکیونکہ یہ صوبہ ان اصلاحات میں ایک اہم سٹیک ہولڈرہے، کونسل کو بھی چاہئے کہ وہ خیبرپختونخوا کی تجاویز کو اہمیت دے‘ اس ضمن میں قبائلیوں کو بھی اعتماد میں لینا چاہئے، مردم شماری کے حوالے سے بھی فیصلوں میں خیبرپختونخوا کے جغرافیے برسرزمین حالات کے تناظر میں فیصلے ہونے چاہئیں، اس سب کیساتھ ضرورت اس اہم پلیٹ فارم پر ہونیوالے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہے، مشترکہ مفادات کونسل کیساتھ این ایف سی کے ایجنڈے پر موجودہ معاملات کو بھی سنجیدگی سے نمٹانا ضروری ہے۔