بریکنگ نیوز
Home / کالم / سوانحی خاکہ :جنیدجمشیدتبلیغ کے مشن پر

سوانحی خاکہ :جنیدجمشیدتبلیغ کے مشن پر

جنید جمشید کی طیارہ حادثے میں ہلاکت کے بعد تبلیغی جماعت توجہات کا مرکز بنی ہوئی ہے پاکستان کے ایک معروف اور صف اول کے گلوکار جنید جمشید کی المناک موت پر صرف انکے عزیز واقارب اور پاکستانی ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی مداحوں کی ایک بڑی تعداد اداس ہے اور وہ جنید جمشید کی زندگی کے پوشیدہ پہلوؤں کے بارے زیادہ کچھ جاننے کیلئے بیتاب دکھائی دیتے ہیں جنید جمشید ایک بھرپور اور رنگارنگ زندگی کے مالک رہے لیکن پھر انکی زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا جس نے انکی توانائیوں کو سماجی خدمات اور اسلام کی تبلیغی خدمات کی طرف موڑ دیا جس کے بارے میں ان کے دوست احباب مختلف پہلوؤں سے روشنی ڈال رہے ہیں بہت سے لوگ جنید جمشید کی شخصیت کے سماجی پہلو سے روشناس نہیں اور وہ نہیں جانتے کہ کس طرح پاکستان کے سب سے بڑے اور مالدار شہر کو خوبصورت بنانے کے لئے گندگی یکجا کرنے کی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور دیواروں پر ہوئی ’وال چاکنگ‘ ختم کرنے کیلئے بھی انہوں نے ایک فعال کردار ادا کیا۔ جنید جمشید کی زندگی کا مستند تعارف ان کی تبلیغی جماعت سے وابستگی رہی جس نے اُن سمیت بہت سے لوگوں کی زندگی میں انقلاب برپا کیا تبلیغی جماعت کا طریقۂ کار ایک کھلا راز ہے جس میں کچھ بھی خفیہ نہیں لیکن اِس تحریک کو چلانیوالے اِسے ذرائع ابلاغ اور سیاسی و دیگر جماعتوں سے الگ اِس لئے رکھے ہوئے ہیں تاکہ اِس پر کسی گروہ کی چھاپ نہ لگے اور یہ غیرمتنازعہ رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے دین کو عام کرنے اور مسلمانوں کے قول و فعل اور طرزمعاشرت کی اصلاح کا فریضہ خاموشی سے سرانجام دیتی رہے۔ تبلیغی جماعت کے اراکین اپنی اور دوسروں کی اصلاح کے لئے منظم انداز میں کوششیں کرتے ہیں اور بناء نمودونمائش یا کسی انعام کی لالچ رکھتے ہوئے دعوت دین کے کام کیلئے اپنا وقت اور وسائل وقف کرتے ہیں ۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ بیسوی صدی میں تبلیغی جماعت اسلام کی نہایت ہی بااثر تحریک کا نام ہے جس سے وابستہ افراد میں نامور مذہبی دانشور‘ فنکار‘ کھلاڑی‘ کاروباری شخصیات‘ مفکر‘ ریٹائرڈ سینئر سول و فوجی اہلکاروں سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں جو اپنا وقت اور وسائل دعوت و تبلیغ کے کام کے لئے وقف کئے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ‘ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل جاوید نثار جب ایک تبلیغی نشست سے خطاب کرنے کے لئے پشاور آئے تو اُن کے فرمودات سننے کے لئے تبلیغی جماعت کے اراکین کی ایک بڑی تعداد ’پشاور صدر‘ کے علاقے میں چاردیواری کے اندر رہنے والی رہائشی کالونی کی مسجد آئی معروف شخصیات کا دعوت و تبلیغ کے کام میں دلچسپی کی وجہ سے تبلیغی جماعت کو کافی مقبولیت ملی ہے آئی آیس آئی کے ایک اور سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمود احمد بھی تبلیغی جماعت میں شامل ہوئے تھے جو اِس لحاظ سے بھی شہرت رکھتے تھے کہ انہوں نے 1999ء میں نواز شریف حکومت کا خاتمہ کرنے کیلئے صدر مشرف کی فوجی بغاوت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ شوبز اور کھیل کی دنیا سے تعلق رکھنے والی کئی نامور شخصیات تبلیغی جماعت کا حصہ بنیں اور انکی اکثریت مولانا طارق جمیل کے بیانات و خطبات سے متاثر ہوئی ۔جیسا کہ آج ہم سب جانتے ہیں کہ جنید جمشید چترال گئے تھے جہاں سابق کرکٹر سعید انور کی ایک تبلیغی جماعت کیساتھ تشکیل ہوئی ہے اور وہ انہی کی دعوت پر معاونت کے لئے چترال گئے تھے۔ تبلیغی جماعت کی اصطلاح میں اِس قسم کا سفر ’نصرت‘ کہلاتا ہے جنید جمشید اپنی دوسری اہلیہ ’نیہا جمشید‘ کے ہمراہ چترال گئے جہاں سے پاکستان انٹرنیشنل ائرلائن کی پرواز کے ذریعے وہ اسلام آباد واپس آ رہے تھے کہ راستے میں حویلیاں کے مقام پر ان کا جہاز گر کر تباہ ہو گیا۔

جس میں جنید جمشید اور انکی اہلیہ سمیت پینتالیس دیگر افراد بشمول عملے کے اراکین ہلاک ہوئے چترال میں تبلیغی جماعت کے نگران محمد ایوب کے بقول جنید جمشید نے چترال میں اپنے قیام کے دوران مسجد ہی میں قیام کیا جہاں جماعت کے دیگر ساتھی رہائش پذیر تھے جبکہ انکی اہلیہ ان کے گھر پر خواتین کے ہمراہ رہیں۔ تبلیغی جماعت میں شادی شدہ جوڑے اپنے مالی وسائل سے اِسی طرح اکٹھے سفر کرتے ہیں اور وہ نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی سفر کے دوران اپنی عملی زندگیوں کا بڑا حصہ شرعی احکامات کی تبلیغ کیلئے وقف کرتے ہیں کرکٹر سعید انور کو ان کے بھائی نے تبلیغی جماعت کی طرف متوجہ کیا جو پہلے ہی کرکٹر یوسف یوحنا کو عیسائیت ترک کے دائرہ اسلام میں شامل کرچکے تھے اور یوسف یوحنا نے مشرف با اسلام ہونے بعد اپنا نام ’محمد یوسف‘ رکھا اور وہ بھی دعوت و تبلیغ میں مصروف ہو گئے۔ اسی طرح انضمام الحق‘ مشتاق احمد اور ثقلین مشتاق کے نام بھی تبلیغی جماعتوں کا حصہ ہیں جبکہ شاہد آفریدی بھی تبلیغ میں کبھی کبھار اپنا وقت خرچ کرتے ہیں اکثر پاکستانی کرکٹرز جب کسی میچ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کریں تو سجدہ ریز ہو جاتے ہیں کسی فتح یا کامیابی پر کرکٹرز کا اِس قسم ردعمل تبلیغی جماعت سے وابستگی کے باعث ہے ۔ اگرچہ تبلیغی جماعت کا آغاز 1927ء میں مولانا محمد الیاس نے بھارت میں کیا تھا لیکن اِس سے وابستہ رضاکاروں کی بڑی تعداد پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھتی ہے اور اب تبلیغی جماعت کے اراکین پوری دنیا میں پھیل کر تبلیغی مشن سرانجام دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں دنیا میں تبلیٖغی جماعت کا سب سے بڑا اجتماع تونگی (Tongi) بنگلہ دیش میں جبکہ اِسی قسم کا ایک سالانہ بڑا اجتماع پاکستان کے شہر رائے ونڈ جو کہ لاہور کے قریب واقع ہے میں ہوتا ہے رائے ونڈ میں تین روزہ اجتماع ہر سال نومبر میں ہوتا ہے۔

جس میں شرکاء کی تعداد کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ منتظمین نے بہتر انتظامات کیلئے اِس اجتماع کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے اور یکے بعد دیگرے سالانہ اجتماعات منعقد کئے جاتے ہیں جس میں مقامی افراد کے علاوہ اندرون و بیرون ملک سے آئے وفود شریک ہوتے ہیں۔ بابرکت و روحانی اجتماع کے آخری روز حافظ عبدالواہاب دعا کرواتے ہیں جس میں دس لاکھ سے زائد افراد شریک ہوتے ہیں برسراقتدار اور مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے نامور افراد اِس اجتماع میں شریک ہوتے ہیں جن کیلئے الگ انتظامات کئے جاتے ہیں ایسے افراد کو دعوت و تبلیغ کی کوششوں میں باقاعدہ شرکت کیلئے رضامند کیا جاتا ہے تاکہ ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے اِس عالمی غیرسیاسی پرامن تحریک سے وابستہ ہوجائیں۔ جنید جمشید بھی ایسے ہی ایک شخص تھے جنہوں نے بہت سے دیگر ساتھیوں کیساتھ دعوت و تبلیغ کی صفوں میں شمولیت اختیار کی اور بہت سے دوسروں کو اپنے شخصیت کے سحر اور دعوت و تبلیغ کے نصاب سے اسلامی تعلیمات کے مطابق دنیاوی و اخروی کامیابیوں کیلئے زندگیاں بسر کرنے پر ہمراہ کر لیا (بشکریہ: دی نیوز۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)