بریکنگ نیوز
Home / کالم / مسلمان ڈاکٹر کی خصوصیات

مسلمان ڈاکٹر کی خصوصیات

چند دن پہلے خیبرمیڈیکل یونیورسٹی پشاور میں ایک انتہائی سادہ مگر پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں ملک کے معروف سرجن اورمیڈیکل ایجوکیشنسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد ادریس انور نے حال ہی میں تصنیف کی گئی اپنی کتاب ’دی مسلم ڈاکٹر‘ کے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد حفیظ اللہ کو پیش کی۔واضح رہے کہ پروفیسر ڈاکٹر ادریس انور راولپنڈی میڈیکل کالج میں سرجری کے پروفیسرہیں انہوں نے گلاسکو یونیورسٹی برطانیہ سے ایف سی پی ایس کے علاوہ کالج آف فزیشن اینڈ سرجن کراچی سے ڈی سی پی ایس اور کے ایم یو سے ایم ایچ پی ای کی ڈگریاں حاصل کررکھی ہیں ڈاکٹر صاحب دی مسلم ڈاکٹر کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ ان کی یہ کاوش دراصل ان کے دوعشروں پرمشتمل پیشہ ورانہ پریکٹس کاماخذ ہے وہ لکھتے ہیں کہ پریکٹس اورتدریس کے دوران انہوں نے ایک مسلمان ڈاکٹر کی حیثیت سے جوکچھ محسوس کیا اوراس ضمن میں انہیں جن تجربات سے گزرنا پڑا یہ کتاب ان کے ان تجربات کا نچوڑ ہے۔دی مسلم ڈاکٹر بیس ابواب پرمشتمل ہے اس کے پہلے باب میں اخلاقیات اور پروفیشنل ازم کو موضوع بحث بنایاگیاہے انہوں نے اس باب میں مریض اورڈاکٹر کے تعلق اوراس ضمن میں طبی اخلاقیات کی تعریف اوراہمیت کو واضح کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے کتاب کادوسرا باب مرض اور علاج سے متعلق ہے۔ اس باب میں ڈاکٹر ادریس انور نے بیماری اور صحت کو اسلامی تعلیمات بالخصوص حضورنبی کریمؐ کی اسوہ حسنہ سے مثالوں کی صورت میں بیان کیاہے۔

ان کہناہے کہ بیماری اللہ تعالیٰ کے اذن سے آتی ہے اور اس کا سزا یامریض کے گناہگار ہونے کے تصور سے کوئی تعلق نہیں اگرکوئی بیمار پڑتاہے تو اسے نہ صرف دستیاب علاج بروقت کروانا چاہئے بلکہ شفایابی کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرنی چاہئے۔وہ کہتے ہیں کہ معالج کو مریض کو ہمیشہ امید دلانی چاہئے اوراسے ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کاشکراداکرنیکی تلقین کرنی چاہئے نیزمریضوں کو اللہ تعالیٰ کے سب سے بڑے شفیع ہونے کی توجہ دلانی چاہئے ایک ڈاکٹر سے بالعموم معاشرے کو کیاتوقعات ہوتی ہیں اورمعاشرے کی نظرمیں ایک اچھا اورمثالی ڈاکٹر کیسا ہوتاہے تیسرے باب میں ان موضوعات کو زیر بحث لایاگیاہے اس باب میں ڈاکٹر کی مثال ایک ہر دلعزیز رہنما کے طورپر دی گئی ہے جس سے اس کے پیروکار اورچاہنے والے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں کتاب کے چوتھے باب میں اخلاقیات کے اسلامی اصولوں پربحث کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ اسلامی اخلاقیات کی بنیاد تقویٰ پراستوارہے اورہرمسلمان ڈاکٹر کافرض ہے کہ وہ دوران پریکٹس تقویٰ اختیارکرے اور انہیں حقوق اللہ کیساتھ ساتھ حقوق العبادکاخیال بھی رکھنا چاہئے اسی طرح ایک مسلمان ڈاکٹر کواحسان، عدل، اخلاق حسنہ، اخلاص اورعیادت کے اسلامی تصورات کوبھی مدنظر رکھنا چاہئے۔پانچوا ں باب ایک ڈاکٹر کے اوصاف حمیدہ پرمشتمل ہے یعنی یہ کہ ایک ڈاکٹر کو کن اوصاف اورخصوصیات کاحامل ہوناچاہئے۔چھٹے باب میں ڈاکٹر کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پربحث کی گئی ہے۔

لباس چونکہ کسی بھی انسان کی شخصیت کااہم جزو تصورکیاجاتاہے اسلئے ڈاکٹر ادریس انور نے اس باب میں ڈاکٹروں کے لباس حتیٰ کہ انکے جوتوں کے حوالے سے بھی مفید توجہات دلائی ہیں۔کتاب میں ڈاکٹروں کے بعض باطنی امراض مثلاً تکبر، غصہ، حرص، لالچ، غرور اور ناانصافی پرمبنی رویئے کو بھی موضوع بحث بنایاگیاہے جسمیں ایک مسلمان ڈاکٹرکوان امراض سے نہ صرف پرہیز کی نصیحت کی گئی ہے بلکہ ان عوارض کے اخلاقی ،سماجی اوراجتماعی مضر اثرات پر بھی بحث کی گئی ہے۔ آٹھویں باب میں سلام کی اہمیت اورا سکے مفید اثرات جبکہ نویں باب میں مریض کا علاج کرتے وقت اس سے اجازت طلب کرنے کی ضرورت اورطریقہ کار پر روشنی ڈالی گئی ہے پروفیسر ڈاکٹر ادریس انور نے کتاب میں جن موضوعات پر تبادلہ خیال کیاہے انکی اہمیت اور افادیت سے قطع نظر یہ بات بجائے خود اہمیت کی حامل ہے کہ ایسے میں جب پورامعاشرہ مادہ پرستی کے دلدل میں دھنسا ہواہے اوربالخصوص ہمارے ہاں ڈاکٹروں کی اکثریت چونکہ اس مرض میں کچھ زیادہ ہی مبتلاہے ایسے میں ایک ڈاکٹر کا اپنے عملی تجربات کی روشنی مسلمان ڈاکٹر کے اوصاف، کردار اور مقاصد کوضبط تحریر میں لانا بذات خود ایک بڑی بات ہے۔