بریکنگ نیوز
Home / کالم / آہ۔۔جنیدجمشید

آہ۔۔جنیدجمشید

اپریل 2011ء کی بات ہے اس وقت ہم ایک اخبار میں کام کر رہے تھے ایک دن ہمیں بتایا گیا کہ معروف مبلغ جنید جمشید ایک نجی میڈیکل کالج کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی آ رہے ہیں ہمیں وہ تقریب جا کر کور کرنا تھی ویسے تو اس قسم کی تقاریب میں شرکت ہمیشہ ہمارے لئے ناگواری کا باعث رہی ہے مگر جنید جمشید کا نام سن کر ہم ذوق و شوق کیساتھ پہنچے جنید جمشید آئے سٹیج پر جلوہ افروز ہوئے میڈیکل کالج کے نوجوان طلبہ و طالبات کا جوش و خروش دیدنی تھا اللہ مغفرت نصیب کرے ‘ اس عظیم انسان نے نوجوانوں کو جو لیکچر دیا پہلی مرتبہ ہم نے محسوس کیا بلکہ مشاہدہ کیا کہ حاضرین میں سے کوئی ایک لمحہ کیلئے بھی اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوا کسی کے چہرے پر بوریت اور ناگواری کے آثار نظر نہ آئے ۔ اول سے آخر تک جس دلچسپی اور انہماک سے جنید کو سنا گیا اس قسم کا ماحول کم ہی کبھی دیکھنے کو ملا۔ جنید نے کھل کر اپنی زندگی اور مولانا طارق جمیل صاحب کی محبت و خلوص پر بات کی اسی تقریب کے دوران ہم پر یہ ’ انکشاف ‘ بھی ہوا کہ جنید جمشید نسلاً پختون ہیں اور خوب پشتو بولتے ہیں کیونکہ فرمائش پر انہوں نے بہت خوبصورت انداز میں پشتو کی ایک نعت بھی سنائی کہنے لگے کہ اپنے بچوں کو اپنی سات پشتوں کے بزرگوں کے نام یاد کراتے رہتے ہیں جنید جب تقریب سے فارغ ہو کر کھانے کی طرف چلے تو ہم نے گزارش کی کہ چند لمحے ہمیں عنایت کر دیں انٹرویو کرنا ہے‘ ہنس کر کہا کہ بھائی سب کچھ تو سٹیج پر سنا چکا ہوں اور کیا باقی ہے‘ مگر ہمارے اصرار پر کہنے لگے نماز پڑھ کر بات کر لیں گے انکے ساتھ ظہر کی نمازادا کی پھر کچھ بچے آئے اور ان کے ساتھ تصاویر کی فرمائش کی جو انہوں نے پوری کرنے کی کوشش کی مگر بچے زیادہ تھے وقت کم تھا۔

انہوں نے کھانا کھا کر ہم سے بات بھی کرنی تھی اور پھر فوری اسلام آباد نکلنا تھا ‘ مگر انہوں نے یہ سارے کام کئے کھانے کے دوران ہی ہمارے ساتھ کھل کر بات کی ‘ انکے اس انٹرویو پر بات پھر کبھی ہوگی‘ کہنا صرف یہ ہے کہ اس بندے کو ہم نے سراپا عجز و انکسار پایا غرور تکبر اور خود ستائشی دور دور تک نظر نہیں آئی اپنی غلطیوں ‘ لغزشوں اور کوتاہیوں کا کھل کر اظہار کرنیوالے انسان تھے ‘ اگر میں جنید جمشید کو مولانا طارق جمیل کی محنت کا سب سے بڑا کرشمہ قرار دوں تو غلط نہ ہوگا‘ اللہ کا یہ نیک بندہ ایک ایسے مرحلے پر چہرے کو سنت سے سجا کر تبلیغ دین کیلئے آگے آیا جب شہرت و دولت ہاتھ باندھ کر اس کے در پر کھڑی تھیں جب اس کے گانوں کی گونج سرحد کے پار جا چکی تھی بھارت کے بعد یورپ اور امریکہ میں بھی جنید کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا‘ بڑی بڑی کمپنیوں کے ساتھ کروڑوں کے معاہدے ہو رہے تھے مگر جب پلٹا کھایا تو سب کچھ تج دیا کسی چیز کی پرواہ نہیں کی خود کہتے تھے کہ ایک ہی رات میں بچوں سمیت سڑک پر آگیا تھا مگر دین کا راستہ نہیں چھوڑا چونکہ معاہدے سارے ختم کر دیئے تھے اس لئے انکے پاس کچھ بھی نہ بچا ‘ دوران گفتگو کہنے لگے کہ ایک دن مسجد میں اس فکر میں بیٹھا تھاکہ اب کروں گا کیا کہ ایک ساتھی آئے اور وجہ پوچھی میرے بتانے پر انہوں نے کہا کہ سرمایہ میرا نام تمہارا گارمنٹس کا کام شروع کرتے ہیں جسکے بعد پھر اللہ نے بہت کرم کیا میں نے بھی لندن کے فلیٹس بیچ کر کچھ رقم ڈالی بعد ازاں ایک مفتی صاحب کے پاس گیا چونکہ وہ فلیٹس میں نے گانوں کی رقم سے خریدے تھے تو ایک خلش سی تھی‘ چنانچہ ان کی ہدایت پر ان فلیٹس سے جتنی رقم حاصل ہوئی تھی۔

وہ بعد ازاں اپنے کاروبار سے نکال کر خیرات کر دی اور دل کا بوجھ ہلکا کر لیا جنید جمشید کی زندگی نوجوانوں کیلئے ایک قابل رشک اور درخشاں مثال تو تھی ہی اب اللہ تعالیٰ نے ان کو موت بھی اس شہادت کی عطا کی کہ جس کی تمنا سیف اللہ کا لقب پانے والے عظیم صحابی و نامور فاتح خالد بن ولیدؓ کیا کرتے تھے دنیا کے اندھیروں سے دین کی روشنی کی طرف آنے کے حوالے سے شاندار مثال بننے والے جنید جمشید کی موت ان کو شہادت کی صورت میں امرکر گئی۔طیارہ حادثہ میں وہ ایک ایسے موقع پر جام شہادت نوش کر گئے جب اللہ کی راہ میں نکلے ہوئے تھے ‘ ان کی زوجہ محترمہ بھی ان کے ہمراہ تھیں جنید جمشید اس دنیا سے تو رخصت ہوگئے مگر ان کا پر نور چہرہ صدا نگاہوں کے سامنے گھومتا رہے گا ۔ 5 سال قبل ہونے والی اس ملاقات کا ایک ایک لمحہ یاد ہے اور کبھی بھولے گا نہیں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جنید جمشید سمیت اسامہ وڑائچ اور طیارے کے حادثے میں راہی ملک عدم ہونے والے تمام افراد کی مغفرت کرے ان کے درجات بلند فرمائے اور ساتھ ہی ان کے لواحقین کو صبر کی توفیق دے ۔