بریکنگ نیوز
Home / کالم / مستقبل کی جنگیں

مستقبل کی جنگیں


مستقبل میں جنگیں روایتی نہیں ہوں گی جیسا کہ ایک زمانے تک جنگیں زمین‘ ہوا یا سمندروں میں لڑی جاتی رہی ہیں لیکن مستقبل میں ایک نئے محاذ کا بھی اضافہ ہو جائے گا‘ جو کہ ’سائبر سپیس‘ کہلاتا ہے۔ سائبر وار فیئر کا مطلب یہ ہے کہ ممالک کے درمیان انٹرنیٹ پر انحصار کرنیوالی معلومات (انفارمیشن) یا معلومات یکجا رکھنے والے نظاموں (انفارمیشن سسٹم) کو نشانہ بنایا جائے۔ اِس قسم کے حملوں کی مدد سے کسی ملک کی ویب سائٹس‘ رابطہ کاری کے وسائل کی کارکردگی کو یا تو جزوی طور پر نقصان پہنچایا جا سکتا ہے یا پھر انہیں متاثر کیا جاسکتا ہے جس سے بنیادی سہولیات کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ سائبر وار فیئر ہی کے ذریعے کسی ملک کی حساس نوعیت کی معلومات چوری بھی کی جا سکتی ہیں یا اس کے اقتصادی نظام کو مفلوج کیا جاسکتا ہے یا اس قسم کے دیگر درجنوں امکانات ہیں۔سائبر وار فیئر کیسے کام کرتا ہے؟ ایک ایسی فوج جو الیکٹرانک آلات کو چلانے میں مہارت رکھتی ہے ایک فرد واحد جو انٹرنیٹ کے ذریعے کسی ایسے کمپیوٹر سے منسلک ہو سکتا ہے جس میں حساس نوعیت کی معلومات جمع ہوں اور اِن کا مقصد یہ ہو کہ وہ کسی حکومتی یا نجی ادارے کے نظم و نسق کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ یہ ایک خوفناک منظرنامہ ہے کیونکہ آج کل کے صنعتی و کاروباری یونٹس اور حکومتی ادارے کمپیوٹرز ہی کے ذریعے منظم و فعال ہوتے ہیں اور اگر اس قسم کی مداخلت ہوئی تو اِس سے کسی ملک کی آبادی کو ملنے والی سہولیات معطل ہو جائیں گی اور اس سے ایک نہایت ہی سنجیدہ نوعیت کا بحران جنم لے گا۔

سال 2009ء میں امریکہ کی حکومت نے ’سائبر کمانڈ یونٹ (USCYBERCOM) بنایا جس کے مقرر کردہ کمانڈر ایڈمرل مائیکل راجرز آج بھی اِس خصوصی یونٹ کے نگران ہیں۔ اِسی قسم کے یونٹ چین‘ برطانیہ‘ جرمنی‘ ایران اور روس میں بھی قائم کئے گئے ہیں جن کا مقصد ملک کو ہونے والے ممکنہ سائبر حملوں سے محفوظ بنانا ہے توجہ طلب اَمر یہ ہے کہ دیگر شعبوں میں دفاعی صلاحیت کی طرح سائبر میدان میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کرنے اور ممکنہ حملے پسپا کرنے کی تیاریاں کر لی گئی ہیں۔ سائبر حملوں سے بچنے سے زیادہ بھارت کے عزائم اسرائیل سے ہونے والے اتحاد سے عیاں ہیں جنہوں نے مشترکہ طور پر سائبر حملوں کے لئے حکمت عملی وضع کی ہے اور ایسے ادارے بنائے ہیں جن کا استعمال پاکستان کے خلاف کیا جائے گا۔ سال 2010ء میں خود کو ’انڈیا سائبر آرمی‘ کہلانے والے ہیکروں نے 36 پاکستانی حکومت کی ویب سائٹس کو نشانہ بنایا۔ سال 2013ء میں بھارتی سائبر حملہ آوروں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ کو ہیک کر لیا تھا۔ جواب میں پاکستانی ہیکرز جو خود کو ’ٹرو سائبر آرمی‘ کہتے ہیں نے 1059 بھارت میں انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والے اداروں کی ویب سائٹس کو مفلوج کر دیا۔ دنیا میں سائبر حملے کرنے اور ان کے خلاف کارگر دفاعی صلاحیت رکھنے والے پانچ سرفہرست ممالک میں امریکہ‘ چین‘ روس‘ اسرائیل اور برطانیہ شامل ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ کے محکمۂ دفاع پینٹاگون نے سال 2014ء میں 1800 ایسے پیشہ وروں کی خدمات حاصل کی تھیں جو سائبر دنیا کے بارے میں علم رکھتے تھے اور سال 2016ء میں یہ تعداد بڑھاکر 6000 کردی گئی ہے۔ سائبر حملوں کا صرف خطرہ ہی نہیں بلکہ امکان موجود ہے۔ امریکہ اپنی دفاعی صلاحیت کے ساتھ ساتھ سائبر حملوں کا استعمال بھی کر رہا ہے اور اُس نے یہ صلاحیت ایران کے خلاف متعدد مواقعوں پر استعمال کی ہے لیکن جہاں تک پاکستان کی بات ہے تو اِس سلسلے میں خاطرخواہ توجہ نہیں دی جارہی۔ پاکستان کی اشد ضرورت ہے کہ ’نیشنل سائبر سکیورٹی پالیسی‘ تشکیل دی جائے تاکہ مستقبل میں درپیش ممکنہ چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)