بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان میں اسلام کے نام پر فساد پھیلانے کا دروازہ بند کردیا،نوازشریف

پاکستان میں اسلام کے نام پر فساد پھیلانے کا دروازہ بند کردیا،نوازشریف


لاہور۔وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ نبی اکرمؐ سارے جہانوں کے لئے رحمت ہیں لیکن بدقسمتی ہے کہ ہم نے سلامتی والے دین کو خوف کی علامت بنا دیا، ماضی میں اسلام کے نام پر فساد پھیلایا گیا، تین سال کی کوششوں سے پاکستان میں فساد کا دروازہ بند کر دیا، انتہا پسندی کا وہ دروازہ بند کرنا ہے جس نے دہشت گردی کی بنیاد رکھی، ریاستی اداروں کی کوشش سے دہشت گردی کے تمام مراکز تقریبا ختم ہو چکے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی سیرت النبیؐ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف ، صدر مذہبی امور ترکی ڈاکٹر مہمت گورمیز ، نائب وزیر مذہبی امور مالدیپ علی وحید سمیت اراکین سینٹ ، قومی و صوبائی اسمبلی، وفاقی وزراء ، علماء کرام و مشائخ عظائم اور تمام مذاہب کے سکالرز موجود تھے ۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ نبوت کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا جو حضرت محمدؐ پر پہنچ کر اختتام پزیر ہوا، اس دوران انسانی زندگی نے ارتقا کے بہت سے مراحل طے کئے، تہذیب نے بہت سے رنگ بدلے، علم کی دنیا میں نئے نئے خیالات اور نظریات نے جنم لیا، اس ارتقائی سفر نے انسان میں وہ صلاحیت پیدا کر دی کہ اب وہ آسمانی ہدایت کو پوری گہرائی کے ساتھ سمجھ سکتا تھا اور اس کی روشنی میں ایک نئی دنیا تعمیر کر سکتا تھا۔ تاریخ کے اس مرحلے پر اللہ رب العزت نے اعلان فرمایا کہ میں نے اب دین کی تکمیل کردی ہے، اور اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آ سکتا۔وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ حضرت محمدؐ پر بعثت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے اور نبوت کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد ان کے پیغامات اور عمل کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری امت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرمؐ کی تعلیمات پر عمل کرنے میں ہی ہماری کامیابی ہے، امن و ترقی کی منزل نبی اکرمؐ کے نقش قدم پر چلنے اور ان کی سنتوں پر عمل کرنے سے ہی مل سکتی ہے، جو نبی اکرمؐ کے سنتوں پر چلے گا۔

جنت اسی کا مقدر بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسولؐ نے حق کی شہادت دی اور پھر یہ ذمہ داری امت کو سونپ دی گئی کہ وہ اس حق کی گواہ بن کر کھڑی ہو جائے، صحابہ کرام اور اہل بیت نے اس حق کی گواہی دی، پھر ہمارے اسلاف نے یہ ذمہ داری اٹھائی اور تاریخ نے آج یہ فرض ہمیں سونپا ہے۔ ہم دین اسلام کے وارث ہیں لیکن کیا ہم جانتے ہیں کہ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، اپنی ذمہ داریوں سے متعلق جاننے کے لئے ہمیں رحمت العالمینؐ کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ سرور عالمؐ جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو انہوں نے پہلے معاشرے کی بنیاد رکھی جس میں مسلمان بھی تھے اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل تھے، آپؐ نے سب لوگوں کے ساتھ معاہدے کئے اور سب لوگوں نے اپنی مرضی سے ان معاہدوں کو قبول کیا، تاریخ اسے میثاق مدینہ کے نام سے جانتی ہے اور بہت سے اسکالرز اسے دنیا کا پہلا تحریری آئین قرار دیتے ہیں۔ پھر مکہ فتح ہوا اور آپؐ کا برپا کیا ہوا انقلاب اپنی منزل مراد تک پہنچا، دنیا سے رحلت فرمانے سے چند ماہ پہلے خاتم المرسلینؐ نے پہلا اور آخری حج کیا اور ایک تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا، اس موقع پر آپؐ نے دنیا کے سامنے انسانی حقوق کا عالمی چارٹر پیش کیا، اس طرح آپؐ جدید انسانی تاریخ کی پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے ایک ریاست کو آئین کے تشخص سے روشناس کرایا۔

آج 1400 سال بعد تہذیب کے ارتقا نے انسان کو اسی جگہ لا کھڑا کیا ہے اور ساری دنیا اس پر متفق ہے کہ ریاست کو قائم رکھنے کے لئے ایک آئین کی ضرورت ہے۔ معاہدے انسانی تاریخ میں پہلے بھی ہوتے رہے لیکن اللہ کے آخری نبیؐ نے اسے ایک ضابطے اور اخلاق کا پابند بنا دیا، آج دنیا آپﷺ کے قدموں کے نشانوں سے اپنی ترقی کی منازل ڈھونڈنے پر مجبور ہے۔وزیراعظم پاکستان نے مزید کہا کہ میثاق مدینہ نے سکھایا کہ مہذب معاشرے کی پہلی اینٹ انسانیت کا احترام ہے، ایک مرتبہ ایک یہودی کا جنازہ گزر رہا تھا تو آپؐ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے، صحابہ کرام سے عرض کیا، اے اللہ کے حبیب یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے تو آپؐ نے فرمایا کہ کیا یہ انسان نہیں ہے اور پھر احترام انسانیت کی مثال انسانی تاریخ کا ناگزیر حصہ بن گئی۔ خطبہ حجتہ الوداع میں آپؐ نے انسانی جانوں کی حرمت کو خانہ کعبہ کی حرمت قرار دیا، آپؐ نے معاشرے میں باہمی تعلقات کی فضا کو استوار کیا اور الزام تراشی و تہمت کو جرم قرار دیا، بیہودہ گفتگو کو ناپسند فرمایا، لوگوں کے ایسے نام رکھنے سے روکا جس سے دوسروں کی دل آزاری ہو۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرمؐ کی تعلیمات ہی وہ اسوہ حسنہ ہے جس پر ہمیں اپنے آپ کو پرکھنا ہے۔

حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس اور عوام کو اپنے فرائض کا احساس کرنا ہے۔ حضور اکرمؐ تو سارے جہانوں کے لئے رحمت بن کر آئے اور انہوں نے تو امن و محبت کا درس دیا لیکن بدقسمتی ہے کہ ہم نے سلامتی والے دین کو خوف کی علامت بنا دیا اور اختلاف رائے کی بنیاد پر ایک دوسرے کے گلے کاٹے گئے، ہماری مسلسل کوششوں سے فساد کا دروازہ بڑی حد تک بند ہو گیا ہے اور علما کی ذمہ داری ہے کہ معاشرے کی رہنمائی کریں۔وزیر اعظم نے زور دیا کہ علما، سکالرز معاشرے اور حکومت کی رہنمائی کریں۔ ہمیں انتہا پسندی کا وہ دروازہ بند کرنا ہے جس نے دہشت گردی کی بنیاد رکھی۔ ہماری تین سالہ کوشش اور ریاستی اداروں کی کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے تمام مراکز تقریبا بند ہو چکے ہیں اور فساد کا دروازہ بھی کافی حد تک بند ہو چکا ہے۔