بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / گوادر کے سمندری راستوں کی حفاظت خصوصی دستے کے سپرد

گوادر کے سمندری راستوں کی حفاظت خصوصی دستے کے سپرد

گوادر۔ سی پیک منصوبہ کے تحت مختلف منصوبوں اور گوادر پورٹ کے تحفظ کے لئے پاک بحریہ کی خصوصی فورس ٹاسک فورس (ٹی ایف) 88 باقاعدہ طور پر قائم کر دی گئی۔ ٹاسک فورس 88 میں بحری جہاز، طیارے اور ڈرون شامل ہونگے۔ کموڈور محمد وارث ستارہ امتیاز ملٹری، ستارہ بصالت کو کمانڈر ٹاسک فورس 88 مقرر کیا گیا ہے۔ وہ نیوی ریگولیشنز اور نیول ہیڈکوارٹرز کے احکامات کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دینگے جبکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ سی پیک منصوبہ نے پاکستان کے لئے بے شمار معاشی ترقی کے مواقع پیدا کئے ہیں اور یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطہ میں خوشحالی لائے گا۔ پاکستان نیوی سمندری حدود کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے مطلوبہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ پاکستان نیوی ملک کے میری ٹائم مفادات کا تحفظ بھرپور انداز میں کرتی رہے گی۔

ان خیالات کا اظہار چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے گوادر میں جاری میری ٹائم کانفرنس میں سی پیک کی سیکیورٹی کے لئے بنائی گئی ٹاسک فورس 88 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کی سکیورٹی اصولی طور پر ایک جامع طریقہ (تصور)ہے۔ اس میں زمینی، فضائی اور بحری تمام شعبے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری ٹائم سکیورٹی کی ذمہ داریوں میں سی پیک منصوبہ کے تحت سمندر کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹاسک فورس 88 کا قیام سی پیک تصورکے لئے اہم کردار ادا کرے گا۔ سی پیک منصوبہ کے سر کا تاج گوادر سی پورٹ ہے۔ سی پیک منصوبہ نے پاکستان کے لئے بے شمار معاشی ترقی کے مواقع پیدا کئے ہیں اور یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطہ میں خوشحالی لائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں پرامید ہوں کہ گوادر پورٹ اور سی پیک کے آپریشنل ہونے سے پاکستان کی معیشت میں بے پناہ ترقی ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تمام شعبوں میں مستقبل میں ترقی ہو گی۔ اس میں میری ٹائم شعبہ بھی شامل ہے۔

جنرل زبیر کا کہنا تھا کہ یہ شعبہ اطمینان بخش انداز میں ترقی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک بحریہ میری ٹائم سکیورٹی کے حوالے سے اہم کردار ادا کر رہی ہے چیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا کہنا تھا کہ دنیا کے دیگر کئی ممالک کے ساتھ بین الاقوامی سیکورٹی کے تحفظ کے لئے پاکستان نیوی کا کردار امن کے لئے ہمارے عزم کی گواہی ہے اور پاکستان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں دیکھ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نیوی میری ٹائم سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے مطلوبہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ میں توقع کرتا ہوں کہ پاکستان نیوی اپنی اضافی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لئے مطلوبہ صلاحیتیں حاصل کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں میری ٹائم سکیورٹی کو یقینی بنانے اور سی پیک نظریہ کو کامیاب بنانے کے لئے پاکستان نیوی کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ آج کے تاریخی موقع پر دعوت دینے پر نیول چیف کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں پرامید ہوں کہ پاکستان نیوی ملک کے میری ٹائم مفادات کا تحفظ بھرپور انداز میں کرتی رہے گی۔ چیئرمین گوادر پورٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میر دو ستین جما لدینی اور ڈپٹی چیف آف نیول سٹاف آپریشنز وائس ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے بھی تقریب سے خطاب کیا جبکہ وزیر برائے بندرگاہیں و جہاز رانی میر حاصل خان بزنجو، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف آف ایئر اسٹاف سہیل امان، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل محمد ذکاء اللہ، کورکمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض،وزیراعلی بلوچستان سمیت وفاقی اور صوبائی وزرا اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی تقریب میں شرکت کی۔وزیراعظم نواز شریف موسم کی خرابی کے باعث تقریب میں شرکت نہیں کرسکے۔

اس خصوصی میری ٹائم فورس کی تیاری پاک چین اقتصادی راہداری سے آپریشنز کے آغاز کے بعد ضروری تھی، جس سے گوادر میں سمندری سرگرمی اور بحری راستے مزید محفوظ ہونے کی توقع ہے اور میری ٹائم کی اثر پذیری میں اضافہ ہوگا۔اس حوالے سے پاک بحریہ کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ ٹاسک فورس 88 بحری جہازوں، فاسٹ اٹیک کرافٹ، ایئرکرافٹ، ڈرونز اور نگرانی کے جدید آلات سے لیس ہوگی جبکہ میرینز کو سمندر اور گوادر کے اطراف میں سیکیورٹی آپریشنز کے لیے تعینات کیا جائے گا۔سی پیک کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ ٹاسک فورس منصوبے کی مجموعی سیکیورٹی کے لیے انتہائی کارگر ہوگی، راہداری کے زمینی راستوں کو پہلے ہی خصوصی سیکیورٹی ڈویژن کے ذریعے محفوظ بنایا جاچکا ہے اور اب سی پیک میں مرکزی حیثیت رکھنے والے گوادر کو بھی محفوظ بنایا جاسکے گا۔