بریکنگ نیوز
Home / کالم / عام انتخابات کیلئے سیاسی پارٹیوں کی تیاریاں

عام انتخابات کیلئے سیاسی پارٹیوں کی تیاریاں


تمام سیاسی جماعتوں نے 2018ء کے عام انتخابات کیلئے تیاریوں کا آغاز کرتے ہوئے اپنی صفوں کو منظم اور کارکنوں کو متحرک کرنا شروع کردیا ہے جبکہ ہم خیال پارٹیوں کے درمیانی انتخابی اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلئے بھی مشاورت تیز ہوگئی ہے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے امیداواروں کی نامزدگی سمیت انتخابی مہم کی براہ راست نگرانی کیلئے اپنا ہیڈکوارٹر لاہور میں قائم کرلیا ہے 18سالہ بلاول آئندہ انتخابات کے بعد وزیراعظم کے عہدے پر خود فائز ہونے کا خواب دیکھ رہے ہیں ‘انہوں نے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اس کا باقاعدہ اعلان بھی کردیا ہے تاہم تجزیہ کار کہتے ہیں کہ شاید آصف علی زرداری کو ان کا یک طرفہ اعلان پسند نہیں آیا ہے کیونکہ اس طرح وجود میں آنیوالے نئے انتظامی ڈھانچے سے انہیں نفی کردیا گیا ہے چنانچہ بلاول نے کارکنوں کے اگلے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اپنے سابقہ اعلان میں ترمیم کی اور اعلان کیاگیا کہ اگلے انتخابات کے بعد ملک کے صدر آصف زرداری اور وہ خود وزیراعظم ہوں گے چار سال قبل عوام نے2008ء سے 2013ء تک پیپلزپارٹی کی انتہائی ناقص کارکردگی ‘کرپشن اور بدعنوانی کے سبب2013ء کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کا جو حشر کیا اور قومی سطح کی چاروں صوبوں میں نمائندگی رکھنے والی واحد قومی پارٹی کو صرف ایک صوبے کے دیہی علاقوں تک محدود کردیا‘ غالباً نظر نہ آنے والے اندیشوں اور خدشوں کے پیش نظر بلاول بھٹو زرداری آئندہ انتخابات میں سولو فلائٹ کا خطرہ مول لینے کے بجائے ہم خیال پارٹیوں کے ساتھ اتحاد بناکر الیکشن کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں اس مقصد کے تحت انہوں نے روشن خیال‘ترقی پسند جماعتوں کا انتخابی اتحادقائم کرنے کا اعلان کردیا ہے انہوں نے اس اتحاد کی ضروری جھنگ سے پنجاب اسمبلی کے حالیہ ضمنی انتخاب میں بنیاد پرست کالعدم تنظیم کے امیداوار کی کامیابی کے بعد محسوس کی ہے۔

اس ضمنی انتخاب میں بظاہر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے والے دائیں بازو کی بازجماعتوں کے حمایت یافتہ امیدوار مولانا سرور نواز جھنگوی نے کامیابی حاصل کی ‘ ان کے ووٹوں کی تعداد دوسری تمام جماعتوں کے امیداواروں کو ملنے والے ووٹوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ تھی‘ سرور نواز جھنگوی کا لعدم سپاہ صحابہ کے مقتول بانی صدر مولانا حق نواز جھنگوی کے فرزند ہیں‘ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ن‘پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف تمام بڑی قومی جماعتوں کے امیدوار موجود تھے اپوزیشن پارٹیاں الزام لگا رہی ہیں کہ مسلم لیگ ن نے اگرچہ اپنا امیدوار کھڑا کیا تھا لیکن در پردہ وہ سرور نواز جھنگوی کی حمایت کرہی تھی جو اپنے قریب ترین حریف امیدوار سے تیراہ ہزار ووٹ زیادہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف بھی خفیہ طور پر کالعدم بنیاد پرست تنظیم کے امیدوار کی حمایت کرتی رہیں‘پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی اب دھرنوں اور سڑکوں کی اجتماعی سیاست ترک کرکے انتخابات کے لئے تیاری کا اعلان کیا ہے اور کارکنوں کو تیاریوں کی ہدایات جاری کردی ہیں ‘بلاول بھٹو زرداری نے عام انتخابات کا انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پر پارلیمانی سیاست کے میدان میں اترنے کیلئے کمر کس لی ہے چنانچہ وہ قومی اسمبلی میں آنے کیلئے لاڑکانہ میں اپنی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی روایتی نشست سے الیکشن لڑیں گے۔

انہوں نے پیپلزپارٹی کی تنظیم نو کا عمل بھی تیز کردیا ہے سندھ کے بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بھی نئی قیادت کو آگے لایا گیا ہے پنجاب میں منظور احمد ووٹو کی جگہ قمر زمان کائرہ کو پارٹی کی صوبائی قیادت تفویض کی گئی ہے‘ منظور وٹو کے تقرر سے پارٹی کے نظریاتی کارکن قطعاً خوش نہیں تھے‘اسی طرح بلاول بھٹو زرداری نے خیبر پختوا میں دیرینہ نظریاتی کارکن انجینئر محمد ہمایوں خان کو پارٹی کا صوبائی صدر نامزد کرکے انہیں صوبے میں انتخابی مہم کی قیادت سونپی ہے ہمایوں خان ذوالفقار علی بھٹو کے معتمدرفیق ‘پارٹی کے بانی رہنما محمد حنیف خان کے صاحبزادے ہیں حنیف خان بھٹو شہید کی کابینہ میں وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات بھی رہ چکے تھے ‘پارٹی کی تنظیم نو کے لئے بلاول بھٹو زرداری نے انوکھا طریقہ اختیار کیا پارٹی کے 49ویں یوم تاسیس کے موقع پر انہوں نے بلاول ہاؤس لاہور میں ایک ہفتے جاری رہنے والی تقریبات کا اعلان کیا ان تقریبات کے دوران لاہور میں ہر صوبے کے کارکنوں کے ورکرز کنونشن کا اہتمام کیاگیا ہفتہ23 دسمبر خیبر پختونخوا کے ورکرز کنونشن کے لئے مختص تھا‘ جماعت اسلامی نے بھی انتخابات کے لئے تیاریوں کے ابتدائی اقدام کے طور پر ورکرز کنونشن کا سلسلہ شروع کردیا ہے ایک عرصے تک جمود و سکوت کا شکارجماعت اسلامی کی نشاۃ ثانیہ میں مرحوم قاضی حسین احمد کے بھرپور کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا انہوں نے جماعت کے احیاء نو کی بنیاد رکھی اور اسے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہر دلعزیز جماعت بنایا سراج الحق اس بنیاد پر مضبوط عمارت بلکہ کثیر المنزلہ پلازہ کھڑا کررہے ہیں انہوں نے جماعت کو نوجوانوں میں مقبول بنانے پر خاص توجہ دی ہے۔

جس کے تحت ملک بھر میں نوجوانوں کے اجتماعات منعقد کئے جارہے ہیں خیبر پختونخوا میں جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق احمد خان تنظیم نو کی اس لہر کو کامیاب بنانے کیلئے ذاتی طورپر گہری دلچسپی لے رہے ہیں انہوں نے کارکنوں کو متحرک کرنے کے لئے صوبے بھر میں تنظیم نوکے جس شیڈول کا اعلان کیا ہے اس کے تحت تمام اضلاع میںیوتھ کے انٹرا پارٹی الیکشن کرائے جائیں گے ‘انہوں نے 23 دسمبر کی تاریخ رکن سازی کے لئے مقرر کی ہے جس کے بعد یکم جنوری کو خیبر پختونخوا کے 23 اضلاع اور فاٹا کی پندرہ تحصیلوں میں یونین کونسل کی سطح پر انتخابات ہوں گے‘یونین کونسل کی سطح پر ہر رکن صدر‘جنرل سیکرٹری اور کیبنٹ ممبر کے چناؤ کیلئے تین ووٹ کاسٹ کرسکے گا ‘مشتاق احمد خان نے بتایا کہ ان انتخابات کے ذریعہ نوجوانوں کے پچاس ہزار عہدیداروں کی مضبوط ٹیم تشکیل پائے گی ان عہدیداروں کے لئے زندگی کے مختلف شعبوں میں تربیت کا انتظام کیا جائیگا پھر اپریل میں جماعت اسلامی ایک لاکھ نوجوانوں کا بڑا کنونشن منعقد کریگی ‘تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آئندہ انتخابات کے لئے جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف میں اتحاد ہوگا جو اس وقت بھی خیبر پختونخوا کی سطح پر اتحاد میں شریک ہیں اور انہوں نے مخلوط حکومت بھی قائم کی ہوئی ہے۔