بریکنگ نیوز
Home / کالم / رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے

رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے


شنید ہے کہ کراچی کے ڈاکٹروں کے مطابق سندھ کے گورنر جسٹس سعید الزمان صدیقی کے پھیپھڑے آکسیجن جذب کرنے کی سکت سے محروم ہو چکے ہیں اور یہ کہ ان کا ٹرانسپلانٹ ضروری ہے خود کردہ را علاج نیست ‘ سعیدالزمان صاحب نے اپنی اس جسمانی حالت زار اور اس پیرانہ سالی میں سندھ کے گورنر کا منصب قبول کرکے اپنے ساتھ خود دشمنی کی ہے اگر وزیراعظم کو ان کی اس جسمانی کیفیت کا اندازہ نہ تھا تو صدیقی صاحب کو تو خواہ مخواہ اپنی جسمانی کمزوریوں کا بخوبی علم ہو گا اور یا پھر یہ بات ہے کہ وہ مرزا غالب کے اس شعر پر عمل پیرا ہونا چاہتے تھے کہ ’’گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے ۔ رہنے دو ابھی ساغر و مینامیرے آگے‘‘ اگلے روز ٹیلی ویژن سیکرین پر ہم نے طارق عزیز کو ایک مرتبہ پھر اپنے پرانے ہر دلعزیزپروگرام نیلام گھر کو’’بزم طارق عزیز‘‘ کے نام سے کنڈکٹ کرتے دیکھا موصوف نے گو بڑی مضبوطی سے مائیک کو اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا لیکن وہ ان کے ہاتھوں میں رعشہ اترنے کی وجہ سے زور زور سے ہل رہا تھا ہمیں یہ دیکھ کر دکھ بھی ہوا اور افسوس بھی دیکھ اسلئے ہوا کہ انسان بہرحال انسان ہے پانی کا بلبلہ ہے ہرکمالے را زوالے ‘عمر کبھی بھی کسی سے وفا نہیں کرتی شاعر نے بالکل ٹھیک ہی تو کہا ہے کہ جو ’’جاکے نہ آئے وہ جوانی دیکھی اور جو آکے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا‘‘ افسوس ا س لئے ہوا کہ اب عمر کے اس حصے میں کہ جب وہ اسی برس کو پھلانگ رہے ہیں ان کو آخر کیا ضرورت پڑی کہ وہ ٹیلی ویژن سکرین پر دوبارہ آ کر اپنا وہ پرانا پبلک امیج خراب کریں کہ جو ان کے چاہئے والوں کے ذہن میں رچا بسا ہوا ہے خضاب سے بال کالے کرنے سے تو انسان جوان نہیں ہو جاتا۔

امریکہ کے ایک سابق صدر رونلڈ ریگن نے ہالی وڈ میں بطور ایک فلمی ہیروبھی بڑا اچھا وقت گزارا تھا وہ ایک ہر دلعزیز اداکار تھے بعد میں انہوں نے بطور امریکی صدر بھی دس برس تک بڑے دھڑلے سے وقت گزارا پر زندگی کے آخری دس برسوں میں وہ ا ز حد ضعیف بھی ہو گئے تھے اور ساتھ ہی ساتھ ڈیمنشیا کے مریض بھی ان آخری دس برسوں میں ان کی اہلیہ نے کمال عقلمندی سے ان کو میڈیا کے کیمروں سے دوررکھا کہ مبادا ان کے منہ سے کوئی ایسی بات نکل جائے کہ جو ان کا پرانا پبلک امیج خراب کردے کیونکہ اس عمر میں انسان کے حواس خمسہ مکمل طورپر کام نہیں کرتے اور زبان اکثر دل اور دماغ کا ساتھ نہیں دیتی دلیپ کمار آج کل 94 برس کی عمر گزا ر رہے ہیں اور ان کی اہلیہ سائرہ بانو نے بھی ان کو کیمرے کی زد سے حتی الوسع دور رکھا ہوا ہے کیونکہ پبلک نے جس روپ میں ان کو گزشتہ 70 برس تک دیکھا ہے آج پیرانہ سالی کی وجہ سے وہ اس روپ میں نہیں ہیں نہ جانے ہمارے ملک کے Celebrities آخر ی دم تک کرسی سے کیوں چپکے رہنا چاہتے ہیں نیلسن مینڈیلا جنوبی افریقہ کے صدر تھے ، ابھی وہ مزید دس برس تک اپنے منصب پر قائم رہ سکتے تھے۔بلکہ جنوبی افریقہ کے عوام تو ان کو تا حیات صدر کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے۔

لیکن وہ از خود استعفے دے کر چلے گئے تاکہ زندگی کے آخری ایام وہ سکون سے گزار سکیں تنزانیہ کے صدر جولیس نیراوئے نے بھی یہی کچھ کیا اور تو اور فیڈل کاسٹرو نے جب محسوس کیا کہ اب ان کی صحت ان کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ مزید کیوبا کے حکمران رہیں تو وہ رضا کارانہ طور پر مستعفی ہو گئے ۔ برطانوی وزیراعظم ولسٹن چرچل نے بھی از خود وزارت عظمی سے استعفے دیا تھا ‘ایک ہمارے حکمران ہیں کہ ان کی ٹانگیں قبر میں لٹکی ہوتی ہیں لیکن وہ اقتدار کے سنگھا سن سے اترنے کا نام تک نہیں لیتے سنا ہے کہ زرداری صاحب اب کی دفعہ ملک کے وزیراعظم بننے کا سپنا دیکھ رہے ہیں اس ملک میں جنرل راحیل شریف جیسے لوگ کم ہیں کہ جو اقتدار کو ہر وقت لات مارنے کیلئے تیار ہوں پیرانہ سالی میں انسانی کی ذہنی اور جسمانی کیفیت کیا ہو جاتی ہے اس کا اندازہ لگانے کے لئے مرزا غالب کا یہ خط ضرور پڑھے گا کہ جس میں وہ اپنے ایک دیرینہ دوست سے مخاطب ہیں ’’پایان عمر ہے دل و دماغ جواب دے چکے ہیں ۔ اب وہ دل کہاں سے لاؤں ‘ طاقت کہاں سے پاؤں نہ آموں کی طرف وہ رغبت نہ معدہ میں اتنے آموں کی گنجائش ‘ سترواں برس شروع اور اسقام و آلام کا آغاز ہے نسیان کا مرض لاحق ہے حافظہ گویا ندارد‘ شامہ ضعیف‘ سامعہ باطل‘ باصرہ میں نقصان نہیں البتہ حدت کم ہو گئی ہے برسوں سے فساد خون کے عوارض میں مبتلا ہوں ‘ صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک پلنگ پر پڑا رہتا ہوں نشست و برخاست کی طاقت نہیں ہی ۔ پلنگ کے پاس حاجتی لگی رہتی ہے کھل پڑا بعد رفع حاجت پھر لیٹ رہا ‘ بہرا ہو گیا ہوں مگر حضرت بصر ہنوز باقی ہے ۔