بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بھارت کی گیڈر بھبکی

بھارت کی گیڈر بھبکی


بھارتی وزیر داخلہ راج نارتھ سنگھ نے اپنی نئی گیڈر بھبکی میں کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی پالیسیاں تبدیل نہ کیں تو اسکے 10 ٹکڑے ہو جائیں گے بھارتی وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ پاکستان بھارت کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش کر رہا ہے‘ بھارتی وزیر کے بے بنیاد الزامات اور گیڈر بھبکی پر رد عمل میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی موجودگی میں کسی اور کو ہندوستان کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کی ضرورت ہی نہیں چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ بھارت کوخود ہی بی جے پی سرکار کی پالیسیاں تقسیم کرر ہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ٹکڑے کرنا محض ایک دیوانے کا خواب ہے جو کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش اور سی پیک منصوبے پر سخت تکلیف کے عالم میں بھارت ایک طرف اشتعال انگیزی کر رہا ہے تو دوسری جانب پاکستان کیخلاف بے بنیاد بیانات اور الزامات عائد کرنیکا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ‘ اس سب کیساتھ پاکستان کے اندر دہشتگردی میں بھارت کے ملوث ہونے سے متعلق دفتر خارجہ کے ترجمان محمد نفیس ذکریا کا کہنا ہے کہ بھارت اس مقصد کیلئے افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہا ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا فوکس اس چیز پر ہے کہ خطے میں امن کس طرح قائم کرنا ہے اور اس میں کیاحصہ ڈالنا ہے اس ضمن میں افغانستان کے حوالے سے بھی پاکستان کا کردار بھارت سے کہیں زیادہ اہم ہے افغانستان کی تجارت کا انحصار پاکستان پر ہے پاکستان افغانستان میں صرف انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے 500 ملین ڈالر صرف کر چکا ہے ۔ اس ساری صورتحال کے تناظر ہی میں سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑ خود ان کیلئے نقصان دہ ہے پاکستان افغانستان میں امن کاخواہاں ہے جبکہ بھارت کیساتھ تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کرنیکی کوشش کر چکا ہے تاہم ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری اس معاملے میں پاکستان کے موقف کو سپورٹ کرے جس کا مطالبہ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی کیا ہے ۔

بجلی کیساتھ گیس کی قلت

بجلی کی لوڈشیڈنگ سے ستائے شہریوں کیلئے گیس کی قلت مزید اذیت کا باعث بن گئی ہے موسم سرما کی آمد کے ساتھ گیس کے پریشر میں کمی نے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں چلنے والے گیس جنریٹرز کو بھی ناکارہ کر دیا ہے گھریلو صارفین کے ساتھ نانبائیوں کی دکانوں اور ہوٹلوں میں بھی کاروبار متاثر ہو رہا ہے گیس کی قلت ایک حقیقت ہے جس کی بنیاد کم رسد پر بے تحاشا لوڈ ٗ سی این جی سیکٹر کی کھپت میں اضافہ اورلائن لاسز بھی شامل ہیں موسم سرما میں سپلائی اور ڈیمانڈ کے درمیان عدم توازن پر گیس کی قلت روٹین کا حصہ بن کر رہ گئی ہے۔

اس قلت پر قابو پانے میں منصوبہ بندی سے گریز بھی ایک واضح حقیقت ہے موسم سرما اچانک نہیں آتا وطن عزیز میں ہر موسم کی شدت کے مہینے سب کو معلوم ہیں سردی سے پہلے اگر گیس کی تقسیم اور استعمال کے حوالے سے ایک موثر مینجمنٹ پلان بنالیا جاتا تو شہریوں کو مشکلات سے بچایا جاسکتا تھا اب بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ذمہ دار حکام مینجمنٹ پلان کیساتھ گیس کے بلوں اور ایمرجنسی سروسز کے حوالے سے صارفین کی مشکلات دور کرنے پر توجہ مرکوز کریں لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کے ہاتھوں ستائے ہوئے گیس صارفین کو اپنے بلوں کی درستگی کے لئے دفتروں کے چکر کاٹنے پر مجبور نہ کیا جائے۔