بریکنگ نیوز
Home / کالم / افراد اور نظام

افراد اور نظام

برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ سروس 1948ء میں لیبر کی حکومت نے شروع کی۔ جب تک یہ سروس افسر شاہی کے دباؤ سے آزاد رہی اور ڈاکٹروں کو علاج ،تشخیص اور ویٹنگ لسٹ کی آزادی رہی، برطانیہ بجا طور پر پورے یورپ میں صحت کے معاملے میں ممتاز رہا۔نوّے کی دہائی سے افسر شاہی نے اس میں مداخلت شروع کردی اور رفتہ رفتہ ڈاکٹروں اور سپیشلسٹوں کے اختیارات محدود ہوتے گئے۔ جہاں صحت سے براہ راست تعلق رکھنے والے سٹاف کی چھانٹی شروع ہوئی، وہیں ایڈمنسٹریٹروں، منیجروں اور بابوؤں کی اسامیوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ اگرچہ ان ایم بی اے منیجروں نے اعداد وشمار کے گورکھ دھندوں میں بظاہر زیادہ کام دکھانا شروع کیا لیکن اصل میں مریضوں کی سہولیات کم ہوتی گئیں۔ خیر یہ تو چند جملہ ہائے معترضہ تھے۔ میں اصل میں ان کے ایمرجنسی سسٹم کے بارے میں بتانا چاہ رہا تھا۔ اُن دنوں خصوصاً میڈیکل ایمرجنسیوں کی حالت بہت بری تھی۔ وہ مریض جو طویل بیماریوں میں مبتلا تھے، اگر ان میں کوئی نئی ایسی ایمرجنسی ہوجاتی جسے سرجیکل آپریشن کی ضرورت نہ ہوتی تو ایکسیڈنٹ اینڈ ایمرجنسی میں داخل ہونے کے بعد اکثر بُھلادئیے جاتے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ مریض داخل ہوئے ہفتے ہوگئے لیکن نہ تشخیص ہوئی اور نہ صحیح علاج۔ برطانیہ کے این ایچ ایس میں ہندوپاک کے ڈاکٹروں کا بہت بڑا حصہ رہا ہے۔ جہاں ان ڈاکٹروں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ، وہاں ان کی تربیت بھی جدید سائنس کے طریقوں سے ہوتی رہی اور یوں جو ڈاکٹر وہاں تربیت پاکر واپس اپنے ملک آئے تو انہوں نے وہی سسٹم قائم کرنے کی کوشش کی۔ ایسے ہی ایک ڈاکٹر ہمارے اطہرصاحب تھے۔

جب این ایچ سروس میں ایمرجنسی میں انتظام بگڑنا شروع ہوا تو اطہر کو مریضوں کی حالت زار پر بہت ترس آتا تھا۔ انہوں نے بیٹھ کر ایک چھوٹا سا مقالہ لکھا کہ ان مریضوں کیلئے کیسا نظام زیادہ بہتر ثابت ہوگا۔ ان کے سینئر کنسلٹنٹ نے جب اطہر کی پوٹنشل دیکھی تو ان کی حوصلہ افزائی کی۔ یوں ایک مقالہ پوری تھیسس بن گیا اور تقویم صاحب کو ماسٹر کی ڈگری مل گئی۔ تاہم اسکا سب سے دیرپا اور مضبوط اثر نیشنل ہیلتھ سروس میں ایمرجنسی میڈیکل وارڈ کی شکل میں ظاہر ہوا۔ چنانچہ آج بھی کسی میڈیکل ایمرجنسی کو فوراً نہ صرف بیڈ مل جاتا ہے بلکہ اسکا علاج بھی پہلے سے طے شدہ اصولوں کے مطابق شروع ہوجاتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک اور ترقی یافتہ ممالک میں طرزِ حکومت تقریباً ایک ہی جیسا ہے لیکن فرق صرف نظام یا سسٹم کا ہے۔ مہذب ممالک میں قوانین کی پیروی کی جاتی ہے۔ ہر شخص کو اپنے فرائض بھی معلوم ہیں اور حقوق بھی۔ ان کا نظام اپنے شہریوں میں کسی قسم کی تفریق نہیں کرتا۔ اسکی مثال ایسی ہے جیسے ایک بہترین کَل پُرزوں والی گھڑی جس میں ہر چرخی ثابت ہے، تیل سے تر ہے اور نہایت سبک روی سے حرکت میں ہے۔ ایسے میں اگر کوئی ایک پرزہ ٹوٹ بھی جائے تو دوسرے پرزے اسکو حرکت میں رکھتے ہیں۔ اسکے مقابلے میں ہمارے نظام کی حیثیت ایک بے لگام چرخیوں کے ہجوم کی ہے جس میں ایک پرزہ ایک طرف گھوم رہا ہے تو دوسرا دوسری طرف۔ ایسے میں اگر کوئی دیانت دار اور سمجھدار کارکن نظام کا حصہ بن جاتا ہے تو اسے ایک اکلوتی سالم ثابت چرخی کی طرح باقی تمام ٹوٹی پھوٹی چرخیوں کو چلانا پڑتا ہے۔ کچھ عرصے تک تو وہ کام کرتا رہتا ہے لیکن آخر کارنظام کا جمود اسے بھی توڑ پھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ صحت میں اسکی مثال آپ کے سامنے ہے کہ یہی ڈاکٹر جو برطانیہ، یورپ اور امریکہ میں اُسی نظام کا حصہ ہوتے ہوئے بالکل صحیح کام کررہا ہوتا ہے لیکن یہاں آکر تھوڑے ہی عرصے میں باؤلا ہوکرپاکستانی رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ آج بھی بے شمار طلبہ اور طالبات اعلیٰ تعلیم کیلئے ترقی یافتہ ممالک میں جابستے ہیں۔

وہاں وہ ایک اچھے ثابت پُرزے کے طور پر ایک مکمل نظام میں فٹ ہوجاتے ہیں۔ تاہم یہاں ایک بنیادی کمزوری ایک کامیاب تربیت اور بے لگام تعلیم کے درمیان فرق ظاہر کرتی ہے۔ وہ کمزوری ہے نظام کا مطالعہ نہ کرنے کی۔ کچھ لوگ اُس نظام میں ایک پُرزے کے طور پر فِٹ ہوجاتے ہیں اور اِدھر اُدھر دیکھنے سے گریز کرتے ہیں۔ ان کو سرٹیفکیٹ اور ڈگریاں بھی مل جاتی ہیں اور ان کی سی وی بھی قابل رشک ہوجاتی ہے لیکن جونہی وہ اُس سسٹم سے قدم باہر رکھ اپنے ملک کے ماحول میں کام کرنا شروع کرتے ہیں تو ان کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں اور یہاں کے لوگ حیران ہوتے ہیں کہ اتنا قابل، پڑھا لکھا اورفارن ڈگری یافتہ شخص کیونکر یہاں بالکل بے کار ثابت ہوتا ہے۔ اس لئے میری گزارش ان تمام نوجوانوں سے ہے جو بیرون ملک تعلیم و تربیت کیلئے جاتے ہیں کہ وہ ایک پرزے کے طور پر کام کرتے ہوئے اِدھر اُدھر سے بے فکر نہ رہیں۔ وہ کسی بھی لمحے غافل نہ ہوں کہ یہی نظام انہوں نے اپنے بدقسمت ملک میں رائج کرنا ہے۔ جہاں وہ غیر ملک کے سسٹم میں کام کرے وہاں وہ اپنے ملک کی کمزوریاں اور رکاوٹیں بھی ذہن میں سامنے رکھیں اور سوچتے رہیں کہ کس طرح سے ان رکاوٹوں کو عبور کرکے اُس شعبے کے پرزوں کو خراماں خراماں کیسے چلاسکیں گے۔

اگر وہ سول انجینئر ہے تو سوچے کہ کیوں کر وہاں کی سڑکیں بارشوں سے ٹوٹ پھوٹ نہیں جاتیں اور اگر پانی کی نکاسی کا بندوبست کیا بھی جائے تو لوگوں کو پلاسٹک کے بیگ کس طرح سے پھینکنے سے منع کرسکیں گے۔یا ترقی یافتہ ممالک کے حفاظتی اقدامات اپنے ملک کے ماحول میں کیسے تبدیل کئے جائیں کہ وہ موثر ثابت ہوں۔ تعلیم کے میدان میں کیونکر طلبہ کو رٹّے سے روکاجائے اور کس طرح سے ان کو محض نصابی کتب کے باہر بھی مطالعے کا شوق دلایا جائے۔ یہ تو ان طلبہ اور طالبات کیلئے ہے جو اعلیٰ تعلیم و تربیت کیلئے جاتے ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو باہر ملازمت کے سلسلے میں قیام رکھتے ہیں، ان کو بھی یہ بھولنا نہیں چاہئے کہ واپس ان کو اپنے ہی ملک آنا ہے۔ اپنے نظام کی رکاوٹوں، کرپشن اور سفارش کو مدّنظر رکھتے ہوئے، کیسے ان ترقی یافتہ اقوام کی نقل کی جائے۔ قطار کی عادت کیسے امپورٹ کی جائے، صبر اور تحمل کیسے معاشرے کا حصہ بنائیں، جھوٹ کے کلچر سے کیسے چھٹکارا پایا جائے۔ یہ وہ لیڈرانہ صلاحیتیں ہیں جو ہم میں سے ہر ایک کسی بھی درجے میں سیکھ کر واپس اپنے ملک و قوم کو لوٹاسکتے ہیں۔ یہ مٹی بڑی زرخیز ہے اور بیج بھی اعلیٰ بس ذرا نم کی ضرورت ہے جو باہر سے آنیوالے ساتھ لے کر آسکتے ہیں۔