بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سپریم کورٹ کا وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں میں مبینہ کرپشن پراظہار برہمی

سپریم کورٹ کا وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں میں مبینہ کرپشن پراظہار برہمی


اسلام آباد۔سپریم کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں میں مبینہ کرپشن ،اداروں کے سربراہان کی عدم تقرری پر برہمی کا اظہا رکرتے ہوئے ابزرویشن دی ہے کہ جان بوجھ کر معاملات میں ابہام پیدا کیا جاتا ہے تاکہ لولا لنگڑا نظام چلتا رہے اور کوئی کام میرٹ پر نہ ہو وفاقی دارالحکومت کے بڑے ہسپتال پمز کے بارے میں حکومت نے عدالت کو گمراہ کیا کہ اس میں تقرریوں میں قواعد و ضوابط ہی نہیں ہیں ۔ ہسپتالوں میں تمام تقرریاں ایڈہاک پر کی گئی ہیں ۔ ڈاکٹروں کو انتظامی معاملات میں ملوث کرکے ان کے اصل کام سے ہٹا دیا گیا ۔

انتظامی عہدوں پر اہل لوگوں کو بھرتی نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے کرپشن میں اضافہ ہوا۔ عدالت نے مقدمہ میں معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو جمعہ کے روزطلب کرلیاہے عدالت نے پمز کے ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی کے ساتھ الحاق کیلئے پاس کئے گئے ایکٹ کا جائزہ لینے کا عندیہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی کو انسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ایک عوامی ہسپتال کو کیسے ایک یونیورسٹی میں ضم کیا جا سکتا ہے ۔ چیف جسٹس انورظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے منگل کے روز از خود نوٹس کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی کا الحاق پمز سے کیا گیا ہے جس کی وجہ سے بہت سے معاملات گھمبیر صورتحال اختیار کرچکے ہیں۔ جن کو نمٹانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت کے صحت کے حوالے سے آٹھ اہم ادارے بغیر سربراہان کے کام کررہے ہیں ۔ کسی کو انتظامی عہدوں پر تقرری کی پرواہ نہیں ہے ۔ عامر رحمان نے بتایا کہ پمز کے چیف ایگزیکٹیو کی بھرتی کیلئے دو مرتبہ اشتہارات دیئے گئے جن میں ایک شرط یہ تھی کہ انتظامی عہدے کیلئے ایم بی بی ایس کے ساتھ ایم بی اے کی ڈگری ہونی چاہیے جس وجہ سے اس معیار پر اترنے والی کوئی درخواست موصول نہیں ہوسکی ۔ اس دوران ایک سینیئر ڈاکٹر وقار آفتاب نے عدالت کو بتایا کہ پمز سمیت دیگر ہسپتالوں میں بھرتیوں کے حوالے سے قواعد و ضوابط موجود ہیں گزشتہ سماعت پر عدالت کو گمراہ کیا گیا ۔پمزکو کبھی خود مختار کردیا جاتا ہے اور کبھی کسی ادارے کے ساتھ منسلک کردیا جاتا ہے جو عوام کے ساتھ زیادتی ہے ۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بھرتیوں کے حوالے سے اشتہارات میں رولز کے خلاف یہ بات کیسے دی جاسکتی ہے کہ امیدوار کے پاس ایم بی اے کی ڈگری بھی ہو وفاقی حکام کی جانب سے عدالت کو پمز رولز کے حوالے سے گمراہ بھی کیا گیا ہے ۔

پمز کو شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی سے الگ کیا جانا چاہیے۔بتایا جائے کہ اسلام آباد کے ہسپتال محکمہ صحت کے ماتحت ہیں یا وزارت کیڈ کے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کو اپنا پیشہ وارانہ کام کرنا چاہیے جبکہ انتظامی امور کا ماہر انتظامی معاملات سنبھالے ۔ عدالت نے واضح کیا کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن ان عہدوں پر بندے تعینات کرسکتا ہے کسی کو خلاف ضابطہ کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائیں گے تمام چیزیں ون ونڈو آپریشن میں لائی جائیں گی ۔ ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی کے وکیل منیر پراچہ نے عدالت کو بتایا کہ پارلیمنٹ نے شہید ذوالفقار علی بھٹو ایکٹ کے ذریعے یونیورسٹی کا الحاق پمز کے ساتھ کیا ہے موجودہ قانون کے تحت یہ ادارہ اسی طرح چل سکتا ہے ۔ جس پر عدالت نے واضح کیا کہ عدالت اس قانون کاجائزہ بھی لے گی ۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے واضح کیا کہ آئین کے تحت ہم نے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے ریاست صحت کی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے وفاق کے ہسپتالوں میں انتظامی عہدوں پر نااہل لوگوں کو بٹھایا گیا ہے۔

جس کی وجہ سے خرابیاں پیدا ہوئیں عدالت انسانی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ ہمیں لوگوں کی زندگیاں عزیز ہیں انتہائی غریب لوگ پمز آتے ہیں۔ انہوں نے عدالت میں موجود حکومتی افسران سے استفسار کیا کہ وہ پمز سے علاج کیوں نہیں کرواتے اس کی وجہ یہی ہے کہ وہاں سہولیات موجود نہیں ہیں ۔ اس موقع پر سیکرٹری کیڈ عائشہ فاروق نے عدالت کو بتایا کہ ہسپتالوں کے معاملات کے حوالے سے وزیراعظم نے اپنے مشیر خواجہ ظہیر الاسلام کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی ہے جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ ایک ایڈوائزر کے پاس تقرریوں کے حوالے سے کیا اختیارات ہوسکتے ہیں اور اس طرح کی کمیٹی کیا فیصلہ کرسکتی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ اس اہم معاملے میں اٹارنی جنرل کو طلب کررہے ہیں جو عدالت کی معاونت کریں گے ۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت جمعہ تک ملتوی کردی ۔