بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / حلب،شہریوں اور جنگجوؤں کے ’انخلا کے لیے نیا معاہدہ طے پا گیا

حلب،شہریوں اور جنگجوؤں کے ’انخلا کے لیے نیا معاہدہ طے پا گیا

حلب ۔شام کے مشرقی حلب میں باغیوں کے قبضے علاقے سے شہریوں کو نکالنے کے لیے نئے معاہدے کا اعلان کیا گیا ہے۔باغیوں نے اس کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا ہے کہ عام لوگ اور باغی جنگجوؤں کا انخلا شروع ہوگیا تاہم اب تک شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ حلب ان حصوں پر بے دریغ بمباری کیا جانا جہاں اب بھی باغی موجود ہیں غالباً جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں باغی اب بھی موجود ہیں وہاں شدید بمباری کی جا رہی ہے اور ان علاقوں میں پچاس ہزار سے زیادہ شہری بھی پھنسے ہوئے ہیں،اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں جہاں شہری موجود ہیں ان پر شامی فوج اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے شدید بمباری بہت حد تک بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

حلب میں ایک دن کی جنگ بندی کے بعد دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ زید راد الحسین کا کہنا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا شام کی حکومت کی واضح طور پر ذمہ داری ہے،ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ جس طرح تباہ اور بربادی کا شکار آبادی کو جنگ بندی کے معاہدے کی صورت میں ایک جھوٹی امید دلائی گئی اور ایک ہی دن بعد ان سے یہ امید بھی چھین لی گئی وہ انتہائی ظالمانہ ہے۔

مشرقی حلب سنہ دو ہزار بارہ سے باغیوں کے زیر قبضہ ہے لیکن گذشتہ چند دنوں میں شامی فوج کے شدید حملوں اور روسی فوج کی بمباری کی وجہ سے باغی شہر کے ایک حصے تک محدود ہو کر رہ گئے تھے،مشرقی حلب پر 2012 سے باغیوں کا قبضہ تھا مگر حالیہ مہینوں میں روسی مدد سے ہونے والی فوجی کارروائی کے نتیجے میں باغی نہایت چھوٹے علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں،قوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کا کہنا ہے ان کے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ 82 شہریوں کو جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ہلاک کر دیا گیا ہے حلب شہر پر قبضے اور جنگجوؤں کو شکست دینے کی خبر کو صدر بشار الاسد کی حکومت ایک بڑی فتح کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔