بریکنگ نیوز
Home / کالم / یاور ‘ حیات تجھے ہم کس پھول کا کفن دیں

یاور ‘ حیات تجھے ہم کس پھول کا کفن دیں


بالآخر بیمار کو بے وجہ قرار آگیا… یاور حیات مرگیا… مجھے بھی قرار آگیا کہ میں بہت دنوں سے اسکی موت کا منتظر تھا… ٹیلی ویژن ڈرامہ کا آخری ستون بھی ڈھے گیا اور اچھا ہوا کہ اب ہم اسکے کھنڈروں میں کھڑے ہو کر ٹیلی ویژن کے سنہری دور کا جی بھر کے ماتم کرسکتے ہیں‘ اچھا اس لئے بھی ہوا کہ وہ ایک مدت سے فراموش شدہ اور گمنام حالت میں بیمار پڑا تھا سسک سسک کر مر رہا تھا اور کسی نے اس کی خبر نہ لی‘ ٹیلی ویژن ہیڈکوارٹر کے اصطبل میں بندھے درجنوں ہاتھی‘ اپنے عالی شان دفتروں میں لاکھوں روپے عوامی خزانے سے ہڑپ کرتے ہوئے اور انکے ہمراہ سرکار کے دربار سے مراعات شدہ گدھے خچر جن میں سے کچھ تو ٹیلی ویژن کے ہجے بھی درست طور پر نہیں کر سکتے مسلسل ہنہنا رہے ہیں اور انہیں کچھ خبر نہ تھی کہ ٹیلی ویژن کا آخری شہزادہ یاور حیات جس نے ایک ڈاکومنٹری میں شاہ جہان کا کردار ادا کیا تھا جو فرانس کے کین فلم فیسٹیول میں نمائش کی گئی تھی اور دیکھنے والوں کا کہنا تھا یہ والا شاہ جہان تو ممتاز محل والے شاہ جہان سے کہیں بڑھ کر خوش شکل اور دل نشیں ہے… وہ نہیں جانتے تھے کہ اس شاہ جہان نے ٹیلی ویژن کیلئے متعدد تاج محل تخلیق کئے… میں اس کی موت کا اس لئے بھی منتظر تھا کہ جیسے وہ سسک سسک کر مر رہا تھا ایسے میری اس دور کی یادیں بھی سسک رہی تھیں… شکر ہے وہ مرگیا اور یوں مجھے بھی قرار آگیا کہ میری سسکتی ہوئی یادوں نے بھی دم توڑ دیا… ان دونوں کویاور اور میری یادوں کو ایک گہری قبر میں دفن کردو تاکہ ٹیلی ویژن پر براجمان‘ اس مردہ گھوڑے کے ماس پر پلنے والے مجاور بھی اسکے جنازے میں شریک ہوں‘ اسکے بارے میں تعزیتی بیان دیں اور پھر کسی نائب سے پوچھیں کہ یہ یاور حیات آخر تھا کون… یہ تو کبھی مجھ سے ملنے کیلئے ہیڈکوارٹر نہیں آیا اگر آتا تو اسکی کچھ مدد کر دیتا… یہ لوگ جب بیمار پڑتے ہیں تو کیوں گھسٹتے ہوئے ہمارے در پر آکر مدد کی فریاد نہیں کرتے‘ بھئی ہمیں اطلاع کرینگے تو ہم ان کیلئے دوا دارو کا بندوبست کرینگے ناں… ہمیں الہام تو نہیں ہوتا کہ وہ سسک سسک کر مر رہے ہیں… بھلا کوئی شاہ جہان بھی کاسہ لیس درباریوں سے فریاد کرتا ہے…

پاکستان کا ہر وہ شخص جو بجلی کا ایک بلب بھی جلاتا ہے اسے بجلی کے بل کے ساتھ ٹیلی ویژن کیلئے پینتیس روپے کا ایک جگا ٹیکس مجبوراً ادا کرناپڑتا ہے بلکہ یہ ایک نوعیت کا جزیہ ہے جو مسلمانوں پر نافذ کردیاگیا ہے اور اسکے عوض آپ کو کیا ملتا ہے‘ ایک بورنگ ٹیلی ویژن سکرین… عجیب گناہوں سے ڈھلکے ہوئے مردہ چہرے… ہمہ وقت حزب مخالف کی ہجو کرنے والے غیر معروف صحافی اور ایسے ڈرامے جنہیں دیکھنے سے ابکائی آتی ہے لیکن یہ جگا ٹیکس ہیڈکوارٹر اور تمام سٹیشنوں پر بیکار بیٹھے ڈائریکٹر حضرات اور پروڈیوسر صاحبان کے پیٹ بھرتا ہے اور وہ نہیں جانتے کہ ٹیلی ویژن کے جس کھنڈر پر وہ دربار سجائے بیٹھے ہیں اس میں سینکڑوں اداکاروں‘ میزبانوں‘ پروڈیوسروں‘ میک اپ کرنے والوں‘ حالات حاضرہ پر معتدل تبصرہ کرنے والوں اور ڈرامہ نگاروں کا لہو ہے‘ یہ انکی جدوجہد اور تخلیقی کاوشوں سے تعمیر کردہ ایک تاج محل تھا جو ڈھے چکا ہے اور اب اس کھنڈر میں بھانت بھانت کے خوشامدی الو بولتے ہیں‘ محمد نثار حسین‘ خواجہ نثار حسین‘ نصرت ٹھاکر‘ مصلح الدین‘ فیاض الحق‘ شہزاد خلیل‘ شعیب منصور‘ اقبال انصاری‘ ایوب خاور‘ خالد محمود زیدی‘ قنبر علی شاہ اور درجنوں نابغۂ روزگار لوگوں کی وقف کردہ زندگیاں ہیں… میراگمان ہے کہ ہر شب اس برباد سے اس ویرانے اس کھنڈر میں‘ جمیل فخری‘ طاہرہ نقوی‘ سلیم ناصر‘ لطیفی‘ شفیع محمد‘ لاشاری‘ خالدہ ریاست‘ ظل سبحان‘ آفتاب احمد‘ اسماعیل شاہ‘ محمد یوسف‘ محمود علی‘ طاہرہ واسطی‘ خیام سرحدی اور ایسے بہت سے بے مثال اداکاروں کی روحیں بھٹکتی ہیں اور اب ان میں یاور حیات کی روح بھی شامل ہوگئی ہے جو ان سے کہتی ہوگی’’ چن جی..

میں تم سب کے بغیر بہت تنہا رہ گیا تھا‘ آؤ فنا کے ان اندھیروں میں ایک ڈرامہ گئے وقتوں کی یاد میں تخلیق کرتے ہیں یا پھر کچھ انتظار کرتے ہیں اگرچہ انتظار بھی یہاں ہیں پر تارڑ کا انتظار کرتے ہیں‘ وہ بھی آنے والا ہوگا… جیسے اس نے میرے لئے ٹیلی ویژن کا پہلا منی سیریل’’ پرواز‘‘ لکھا تھا اس سے ایک اور ڈرامہ’’ فنا کی وادی‘‘ نام کا لکھوائینگے… چن جی کچھ انتظار کرلیتے ہیں‘‘… پس منظر موسیقی کیلئے میاں شہریار جو موجود ہیں… ٹیلی ویژن کی چار شہزادیوں میں سے ایک طاہرہ نقوی جسکے حسن کے چرچے تھے اور دوسری خالدہ ریاست میں سے ہیروئن کیلئے کس کا انتخاب کریں‘ عظمیٰ گیلانی نے کینسر کو شکست دے دی ہے اسکے آنے میں ابھی کچھ دیر ہے لیکن چن جی وہ جو ہم سب کی محبوب اور راج دلاری تھی اسکے عشق میں کون مبتلا نہ ہوا تھا روحی بانو‘ وہ تو شہر لاہور میں ایک بوڑھی گم شدہ اور پاگل عورت ہوگئی ہے… پہچانی نہیں جاتی…

وقت نے اس پر کیا ستم کیا ہے کہ لوگ ٹھہر کر اسے بھیک دیتے ہیں… وہ بھی آجائے تو اچھا ہے‘ یہاں وہ پھرسے وہی بھولی شکل والی‘ دل کو موہ لینے والی لڑکی ہو جائیگی اور اسکے حسن کے چراغ فنا کے ان اندھیروں کو بھی روشن کردینگے… ہیروئن وہی ہوگی… اور اس تارڑ کے لکھے ہوئے ڈرامے’’ فنا کی وادی‘‘ کا ایک نہیں دو ہیرو ہونگے‘ شفیع محمد اور خیام سرحدی… چن جی یہ ڈرامہ ایک شاہکار ہوگا‘‘ ایک بار لاہور سے راولپنڈی جاتے ہوئے ریل کار کے سفر کے دوران ایک شاہانہ تیکھے نقش ونگار اور سیاہ آنکھوں والی خاتون مجھے ملی تھی… تارڑ صاحب میں یاور حیات کی امی ہوں‘… یاور حیات اپنی ماں کے عشق میں مبتلا تھا انکو یاد کرتا تھا تو اس کے دل نشیں آنکھوں میں نمی آجاتی تھی… ہم پہروں دنیا کے بڑے فلمی ہدایت کاروں کے بارے میں باتیں کرتے رہتے… انگمار برگمین اور کوروساوا کے بارے میں باتیں کرتے رہے‘ یاور کے ڈراموں میں ان دونوں کی اثرانگیزی جھلکتی تھی‘ یاور حیات کے بعد اب میں ڈاکٹر انور سجاد اور عبدالقادر جونیجو کیلئے فکر مند ہوں‘ اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے یقیناًٹیلی ویژن پر حکمران ہاتھیوں‘ گدھوں اور خچروں کوانکی بھی خبر نہ ہوگی کہ وہ کون ہیں…

یاور حیات میرے چن جی‘ تو اس ظالم نومبر کے مہینے میں ہم سے جدا ہوا… ہمارے پاس تیرے کفن کا کچھ سامان نہیں…
تجھے ہم کس پھول کا کفن دیں
تو جدا ایسے موسموں میں ہوا
جب درختوں کے ہاتھ خالی تھے