بریکنگ نیوز
Home / کالم / آئی ڈی پیز کی واپسی‘ امکانات اور مشکلات

آئی ڈی پیز کی واپسی‘ امکانات اور مشکلات


گزشتہ دنوں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد اور پاکستان سٹڈی سنٹر جامعہ پشاور کے اشتراک سے قبائلی علاقہ جات کے بے گھر ہونے والے افرادکی واپسی،امکانات اور مشکلات کے عنوان سے ایک گول میز کانفرنس منعقد کی گئی جس کے مہمان خصوصی خیبر پختونخوا کے سابق چیف سیکرٹری اور افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر رستم شاہ مہمند تھے دیگر شرکاء میں پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز‘پروفیسر ڈاکٹر سید منہاج الحسن،بریگیڈیئر (ر) سید نذیر ،پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال، پروفیسر ڈاکٹر نسرین غفران، پروفیسر ڈاکٹر بابر شاہ ،پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد،کرنل(ر) عزیز گل ،آئی پی ایس اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل خالد رحمان اور پروفیسر ڈاکٹر فخر الاسلام شامل تھے ‘اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء کا کہنا تھا کہ آئی ڈی پیز نے پاکستان کے مستقبل کیلئے جو قربانیاں دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں ان کے مسائل اٹھانا، ان پر بات کرنا اور متعلقہ اداروں کو اس ضمن میں توجہ دلاتے ہوئے ممکنہ حل اور تجاویز پیش کرنا یقیناہم سب کی ذمہ داری ہے نیشنل ایکشن پلان میں IDPs کی واپسی کاایک واضح ٹائم فریم دیاگیاہے لیکن ا سکی پیش رفت پر سوالات اٹھ رہے ہیں ۔ شمالی وزیرستان میں واپسی کے بعدبعض لوگوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایاگیا ہے جو باعث تشویش ہے۔دیگر قبائلی علاقوں خاص کر مہمند اور باجوڑ ایجنسیوں میں بھی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

جابجا چیک پوسٹوں اورسکیورٹی فورسز کے سخت رویئے سے عام لوگ سخت نالاں ہیں بڑے پیمانے پرجوکاروباری ادارے تباہ ہوئے ہیں ان کی تعمیر نو کا عمل بہت سست ہے خیبرایجنسی میں باڑہ تحصیل کے علاوہ وادی تیراہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کو بے گھرہونا پڑا تھاباڑہ میں واپسی کاعمل شروع ہواہے البتہ سہولیات نہ ہونے کے باعث لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے تیراہ میں شاید ہی کوئی گھر سلامت بچا ہوگا۔بعض مقامات پر ریموٹ کنٹرول دھماکوں کے ذریعے امن وامان کو چیلنج کرنیکی کوشش کی گئی ہے باجوڑ میں سڑکوں کے دونوں جانب 300میٹر تک فصلیں اگانے پر پابندی ہے۔یہاں چیک پوسٹوں نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنارکھی ہے روزگار،تعلیم اورصحت کے مسائل کی وجہ سے لوگوں کو واپسی میں مشکلات ہیں بے گھر ہونے والے 3لاکھ 36ہزار IDPs خاندانوں میں اب تک 2لاکھ55ہزار واپس جا چکے ہیں جبکہ 76ہزارخاندان اب بھی باقی ہیں واپسی کے بعدآئی ڈی پیز کو ان کی آبادیاں اجڑے ہوئے گھروں، تباہ شدہ مارکیٹوں اور ٹوٹے پھوٹے کھیتوں کی صورت میں ملیں گی۔دکانات بننے کے بعد سرمایہ کاری کیلئے وسائل درکار ہونگے متاثرین کو کاروباری سرگرمیاں شروع کرنے کیلئے قرضوں کاکوئی مکینزم دینا چاہئے۔قبائل کو نئی زندگی شروع کرنے کیلئے ایک نئے سوشل کنٹریکٹ کی ضرورت ہے قبائل کا جرگہ سسٹم اس جدید دور میں بھی پیچیدہ مسائل کو بہتر انداز میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میڈیا وردیگراداروں کو فاٹا میں رسائی ملنی چاہئے جب تک راستے نہیں کھولے جائیں گے اور لوگوں کو آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت نہیں دی جائیگی تب تک درست اعداد وشمار سامنے نہیں آئیں گے لوگوں کوقبائلی علاقوں میں جانے کیلئے سہولیات دینی چاہئیں۔متاثرین کو جو راشن دیا جاتا ہے اس کی کوالٹی انتہائی ناقص ہے۔

مالی امداد بھی ناکافی ہے اورجو ہے وہ بھی بڑی مشکلات کے بعدملتی ہے قبائلی علاقوں میں اسلحہ کے خاتمے کاعمل ایک مثبت پیش رفت ہے نوجوانوں پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں جائز مقام دینا چاہئے یہ طبقہ قبائلی علاقوں میں ریاست کے سفیرکا کردار ادا کر سکتا ہے قبائلی علاقوں میں معلومات تک رسائی نہیں ہے انٹرنیٹ‘ میڈیا پر قدغن ہے قبائل کی جغرافیائی ساخت کے مسائل کومدنظر رکھتے ہوئے انسانی وسائل پرسرمایہ کاری ایک بہترین حکمت عملی ثابت ہوسکتی ہے۔قبائلی علاقوں میں موجود معدنیات لوگوں کے معاشی حالات کوبہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہیں بجلی کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے سولر انرجی پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے قبائلی علاقوں میں چھوٹے بارانی ڈیم بنانے چاہئیں اصلاحات کے عمل کو مقامی قبائل کیساتھ مشاورت کی روشنی میں پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہئے۔