بریکنگ نیوز
Home / کالم / سند‘ قابلیت اور ملاز متی مواقع!

سند‘ قابلیت اور ملاز متی مواقع!

کسی مضمون میں سندیافتہ ہونا اِس بات کی ضمانت نہیں ہوتا کہ اِس سے ملازمتی موقع بھی میسر آئیں گے۔ المیہ ہے کہ ہمارے ہاں گریجویشن کا طالب علم ہر وقت اچھی ملازمت اور پرآسائش مستقبل کے خواب دیکھتا رہتا ہے‘ جس میں وہ خود کو ٹائی لگائے ائر کنڈیشنڈ آفس میں بیٹھے فائلوں کی ورق گردانی کا تصور کر رہا ہوتا ہے‘ انٹر کام پر ڈھیر سارا کام سیکرٹری کے حوالے کرتا ہے تو دل ہی دل میں خوش ہو جاتا ہے! یہ سب حقیقت ہونا قریب ناممکن بھی نہیں مگر سچ یہ ہے کہ ایسا صرف کچھ لوگوں کے لئے ہی ممکن ہو پاتا ہے گریجویشن کرتے وقت طالب علم بالکل مطمئن ہوتے ہیں کہ ملازمت تو ہمیں مل ہی جانی ہے۔ بہت سے نوجوانوں کو تو یہ تک کہتے سنا جاتا ہے کہ سرکاری ملازمت ملی تو کریں گے ورنہ نہیں یا پھر یہ بھی سننے کو مل جاتا ہے کہ سرکاری ملازمت میں بندے کو زنگ لگ جاتا ہے‘ ملازمت تو بھئی پرائیویٹ ہی کرنی ہے مگر یہ باتیں اُسوقت ٹھیک ہیں جب گریجویٹس کانووکیشن میں ڈگری لے کر نکلیں اور اپنا گاؤن ہی نہ اتاریں کہ انہیں ملازمت دینے والا ان کا آرڈر ہاتھ میں لئے کھڑا ہو۔ ظاہر ہے کہ ایسا تو نہیں ہوتا اور جب نوجوان ڈگری لے کر عملی میدان میں پہنچتے ہیں تب انہیں تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے پھر وہ آخرکار اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ اپنی مرضی تو چھوڑو بس کوئی بھی کام مل جائے جس سے چار پیسے آئیں اور بے روزگار ہونے کے طعنے سے جان چھڑائیں مگر یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آخر کیا سبب ہے کہ کچھ افراد کیلئے ملازمت کا حصول ممکن ہو جاتا ہے اور دوسروں کو مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔

چلو مان لیا کہ کافی جگہوں پر ناانصافی اور میرٹ کا فقدان اہل امیدوار کو نوکری سے محروم کر دیتا ہے مگر جہاں ایسا نہیں وہاں کیوں چند امیدوار کامیاب ہو جاتے ہیں اور دوسرے رہ جاتے ہیں؟ اسکی ایک عام مثال سکولوں میں اساتذہ کی آسامیاں ہیں‘ جنکے اشتہارات اخبار میں آتے ہی ہزاروں گریجویٹ درخواست دیتے ہیں اور میٹرک و انٹر پاس امیدواروں کو آسانی سے مات دے کر پاس ہو جاتے ہیں اور پھر جیسے جیسے انہیں اپنی اہلیت کے مطابق دیگر ملازمتی مواقع حاصل ہوتے جاتے ہیں وہ درس و تدریس کی ملازمت چھوڑ کر جاتے رہتے ہیں‘ یوں یہ آسامیاں دوبارہ خالی ہو جاتی ہیں سرکار کے بعد باری آتی ہے نجی اداروں کی جہاں ہر فرد سرکاری اداروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سچائی سے کام کرتا نظر آتا ہے کیونکہ اگر وہ خود ادارے کا سربراہ ہوگا تو ادارے سے سچائی فطری طور پر ہونی ہی ہے اور اگر صرف ملازم ہے تو بھی اسے یقین ہے کہ جب بھی کام میں کمی آئی‘ مالک نکال باہر کرے گا یہ صرف ہمارے ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کا سچ ہے کہ ملازمت نہ ملنے کا باعث آسامیوں کا نہ ہونا نہیں بلکہ بڑا سبب یہ ہے کہ اداروں کو جن لوگوں کی ضرورت ہے وہ انہیں مل نہیں پاتے اگر آپ کہیں بھی کوئی ایسا سروے دیکھیں جس میں بے روزگاری کے اسباب جمع کئے گئے ہوں تو زیادہ تر یہی سبب دیکھنے کو ملے گا کہ ادارے کو جس قسم کے ملازم کی ضرورت تھی‘ ایسا کوئی امیدوار انہیں ملا ہی نہیں یا پھر آنے والے میں سے کسی نے بھی ٹیسٹ انٹرویو میں متاثر کن جواب نہیں دیئے۔ یہی سبب ہے کہ آج کل آنے والی ہر آسامی میں تجربہ لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔

نوجوان اکثر یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ نوکری ملے گی تو تجربہ بھی حاصل ہوگا۔ نوکری ہی نہیں ملی تو تجربہ کہاں سے لائیں؟ تجربہ حاصل کرنا اتنا بھی مشکل نہیں‘ بس تھوڑی محنت اور وقت کا صحیح استعمال آنا ضروری ہے۔اس بات سے انکار تو نہیں کہ یہ سلسلہ ہمارے ہاں برسوں سے چل رہا ہے اور بدقسمتی سے تھمنے کے آثار بھی نظر نہیں آ رہے مگر یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ بڑھتی آبادی‘ توانائی کی کمی کے پیش نظر مستقبل کی منصوبہ بندی کے سبب روزگار کے مواقع دن بہ دن کم ہو رہے ہیں اور کام میں آئے دن آنے والی جدت نے بھی انفرادی صلاحیتوں کے حامل ملازمین کی طلب بڑھا دی ہے یہی سبب ہے کہ اداروں کو اپنے مطلب کا بندہ نہیں مل رہا اور ڈگری ہاتھ میں لئے نوکری کیلئے مارے پھرتے نوجوانوں کو ملازمت نہیں مل پا رہی اکثر نئے گریجویٹس تو امتحانات کے فوراً بعد امتحانی سلپ لیکر نوکری ڈھونڈنے نکل پڑتے ہیں جنہیں خاطر خواہ جواب ملنا مشکل ہوتا ہے کہیں ملازمت حاصل ہو بھی جائے تو وہ ان کے مزاج یا معیار کی نہیں ہوتی جس وجہ سے وہ امیدوار بیزار ہو کر ملازمت چھوڑ دیتے ہیں اور ایسی ملازمت سے فارغ وقت بتانے کو ترجیح دیتے ہیں اصل مسئلہ یہیں سے شروع ہوتا ہے کیونکہ گریجویشن کے فوراً بعد اپنے مطلب کی ملازمت نہ ملنے پر فارغ بیٹھ کر اچھی نوکری کا انتظار کرتے کرتے جو وقت گزرتا ہے وہ ہمارے کیرےئر پر داغ ہے۔

آپ جتنا زیادہ وقت بنا کام یا تجربے کے گزاریں گے آپ کیلئے انٹرویو اتنا زیادہ دشوار ہوگاکیونکہ جسطرح نئے گریجویٹس سے تجربہ پوچھا جاتا ہے‘ اسی طرح کچھ سال پہلے گریجویشن کرنیوالوں سے گریجویشن کے بعد اب تک گزرے وقت کی مصروفیت پوچھی جاتی ہے کہ اب تک آپ کہاں اور کیا کر رہے تھے؟ اس کا جواب اگر کچھ نہیں بس ایسے ہی فارغ تھا دیا تو سمجھیں آپ کی چھٹی! کچھ صورتوں میں نئے گریجویٹس بارہا کوششوں کے باوجود اپنے مطلب کا کام حاصل نہیں کر پاتے۔ ایسے میں بھی فارغ بیٹھنے سے بہتر ہے کہ پوسٹ گریجویشن کی طرف پیش قدمی کی جائے کیونکہ کسی انٹرویو میں اپنا موجودہ سٹیٹس فارغ کے بجائے اگر طالب علمی کا ہے تو بھی اچھا تاثر رہے گا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: عبدالحفیظ لغاری۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)