بریکنگ نیوز
Home / کالم / زبان کا مان

زبان کا مان

ہم خالص دیہاتی لو گ ہیں ہمارے ہاں زبان کا مان رکھنے کیلئے جان بھی چلی جائے تو پرواہ نہیں ہوتی ہمارے ہاں رشتے زبان سے طے ہوتے ہیں ایک دفعہ اگر بیٹی یا بہن کے رشتے کی ایک جگہ ہاں کر دی تو ا س کا مان ہر صورت رکھا جاتا ہے اگر ایک رشتے سے جس کا اقرار زبان سے ہو گیا تو اس سے لاکھ بہتر رشتہ بھی آ گیا تو انکار کر دیا جاتا ہے کہ ایک دفعہ زبان دے دی تو دے دی یوں بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک بچی کا نام ایک لڑکے کے ساتھ لگا اور وہ لڑکا کسی حادثے کی صورت میں اس دنیا سے رخصت ہو گیا تو لڑکی نے ساری عمر اس کے نام پر گزار دی اور کسی دوسرے کو اس کے نام کے ساتھ شریک کرنا گوارہ نہ کیا اسی طرح ہمارے ہاں دوستیوں اور دشمنیوں کا بھی حال ہے اگر ایک دفعہ کسی سے دل میلا ہوا تو ساری عمر اسی میں گزار دی اور اگر دوستی کی تو اسے بھی نہ صرف ساری زندگی نبھایا بلکہ اپنے بچوں کو بھی نصیحت کی کہ میرے دوست کا ایسا ہی خیال رکھنا جیسے تم میرا رکھتے ہو۔ اور ننانوے فی صد بچے اپنے باپ کے قول کی لاج رکھتے ہیں کہنے کا مطلب یہ کہ مرد کی زبان سے نکلا ہوا لفظ اسکی زندگی کا ساتھی بن جاتا ہے شاید اسلئے کہ دیہات میں سیاست نہیں ہوتی ادھر سچ کے پیچھے لوگ جان کی بھی پرواہ نہیں کرتے لیکن شہروں اور خصوصاً سیاست میں زبان کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اس کی پہلی مثال تو یہ ہے کہ اپنے سیاسی قائدین کو دیکھ لیں کہ پاکستان بننے کے بعد ان لوگوں نے کتنی پارٹیاں بدلی ہیں۔

جب کوئی شخص کسی پارٹی کا ممبر بنتا ہے تو وہ ایک عہد کرتا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کا وفادار رہے گااور اپنے بڑوں کا ہر حکم مانے گاکچھ پارٹیوں میں تو باقاعدہ حلف لئے جاتے ہیں اور بعض میں یہ حلف بغیر سامنے لائے قبول کیا جاتا ہے اب جو آدمی اپنے حلف کی پاسداری نہیں کرتا کیا وہ اس قابل ہے کہ اس کو ایک لیڈر یا پارٹی کے کارکن کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے؟ ہمارے خیال میں تو اسنے کیونکہ ایک حلف کی پاسداری نہیں کی اس لئے ا‘سے سیاسی کارکن کی حیثیت میں بھی تسلیم نہیں کرنا چاہئے چہ جائیکہ اسے ایک پارٹی قائد کی حیثیت سے مانا جائے۔ویسے تو یہ رواج پڑ چکا ہے کہ ہمارے سیاست دان جو در اصل ابن الوقت ہیں اس قابل ہی نہیں کہ ان پر اعتبار کیا جائے اس لئے کہ کسی بھی سیاست دان کا جائزہ لیں تو اس کی ایک ہی پارٹی ہے اور وہ ہے حکومتی پارٹی۔ پچھلے انتخابات میں جلسوں جلوسوں کے دوران بہت سے لوگوں کو غلط فہمی ہوئی کہ اس دفعہ باری جناب عمران خان کی ہے اس لئے وہ دھڑا دھڑ عمران خان کی پارٹی میں شامل ہو گئے اس میں بہت سے ایسے بھی تھے جن کو عمران خان نے دھتکارا ہوا تھا مگر جب وہ آزاد نمائندے کی حیثیت میں اسمبلی تک پہنچ گئے تو انہوں نے تحریک انصاف کی انگلی پکڑ لی ایک ایسے ہی نمائندے سے ہم واقف ہیں کہ انہوں نے سیاست میں تحریک انصاف کے کارکن کی حیثیت سے ایک الیکشن میں حصہ لیا اور ناکام ہوئے اور اس پارٹی کو چھوڑ کر پرویز مشرف کی مسلم لیگ کا حصہ بن گئے۔

2013 کے الیکشن میں انہوں نے عمران خان سے ٹکٹ کی گزارش کی تو اس نے ان کو بری طرح دھتکار دیامگر جب وہ آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے تو اسی عمران خان نے اُن کو یہ کہہ کر گلے لگایا کہ وہ اُس کے پرانے کارکن تھے اسی طرح جب سے یہ اسمبلی وجود میں آئی ہے اور جناب عمران خان کا خواب بکھرا ہے اُن کی ذہنی کیفیت کچھ ایسی ہو گئی ہے کہ نہ وہ نواز لیگ کو حکومتی پارٹی تسلیم کرنے کو تیار ہیں اور نہ وہ نواز شریف کو وزیر اعظم تسلیم کرنے کو تیار ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ہر روز ان کا موقف تبدیل ہو رہا ہے اور ان کے وہ ساتھی جو ایک عرصہ سے اس سیاسی میدان میں چوکے چھکے لگا رہے ہیں عمران خان کی ذہنی حالت کو دیکھنے ، جانچنے اور سمجھنے کے باوجو اس کے ساتھ اس طمع پر چمٹے ہوئے ہیں کہ خان نے تو اپنی ذہنی حالت کی وجہ سے پارٹی قیادت کر نہیں سکنی اسلئے ان کا چانس پارٹی قیادت پر قبضہ جمانے کیلئے روشن ہے تو وہ خان کی ہر بات پر آمنا وصدقنا کئے جا رہے ہیں ۔ ادھر خان صاحب ہیں کہ ہر روز ایک نئے روپ میں سامنے آ رہے ہیں اور کسی بھی طرح اپنے کہے گئے الفاظ پر قائم رہنے کو تیار نہیں یعنی زبان کا خیال رکھنا ان کے نزدیک کوئی بات ہی نہیں۔