بریکنگ نیوز
Home / کالم / میٹھی دشمنی

میٹھی دشمنی

امریکی نومنتخب صدرڈونلڈٹرمپ نے اس خبر کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ روسی صدر پیوٹن کی مدد سے امریکہ کے صدر بنے ہیں یہ ہوائی سی آئی اے نے اڑائی تھی اور ٹرمپ کا یہ کہنا کافی وزنی ہے کہ اس سی آئی اے کا اب کون اعتبار کرے گا کہ جس نے ماضی میں یہ خبر پھیلائی تھی کہ صدام حسین کے پاس مہلک ہتھیاروں کے انبار ہیں جو بعد میں جھوٹی ثابت ہوئی ٹرمپ کے دل کا حال اللہ ہی جانے لیکن ان کا یہ کہنا عقل کو اپیل کرتا ہے کہ امریکہ کیوں خواہ مخواہ دور دراز ممالک میں اپنی بالادستی کیلئے اپنے پیسے ضائع کرے کیوں نہ ان پیسوں سے امریکہ کے اندر رفاع عامہ کے کام کئے جائیں اپنے سیاسی حریفوں یعنی ڈیموکرٹیک پارٹی کے لیڈروں کے برعکس ٹرمپ منہ پھٹ ہے دل کے اندر کوئی بات چھپا کر نہیں رکھتا جو دل میں ہے وہ منہ پر ہے اس قسم کے لیڈر کو سمجھنا کوئی زیادہ مشکل نہیں ہوتا ٹرمپ سردست اپنی اس کابینہ کی تشکیل میں مگن ہے کہ جس سے وہ اپنی حکومت چلائے گا عام تاثر یہ ہے کہ امریکہ کی سی آئی اے اور ایف بی آئی دو نہایت ہی طاقت ور ریاستی ادارے ہیں اور وہ اکثر امریکی صدر کی پالیسیوں خصوصی طور پر امور خارجہ پر متاثر ہوتے ہیں اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ٹرمپ ان اداروں پر حاوی ہوتے ہیں یا یہ ادارے انکی سوچ اور حکمت عملی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

یہ تاثر بھی غلط ہے کہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدر کے مقابلے میں ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر‘ پاکستان کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں خدا لگتی یہ ہے کہ ہمارے لئے ہر دو لعنت ہیں امریکی صدر برصغیر میں صرف اپنا مفاد دیکھتے ہیں بقول کسے’’ نہ تیری دوستی اچھی نہ دشمنی اچھی‘‘ جس وقت بھارت اور سوویت یونین ملکر سابقہ مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کے اشتراک سے پاکستان کو 1971ء میں توڑ رہے تھے تو امریکہ میں اس وقت جو صدر تھا وہ ری پبلکن پارٹی سے ہی تو تعلق رکھتا تھا1971ء کی اس پاک بھارت جنگ کے دوران ہم روز سنتے کہ امریکی بحری بیڑہ آج آیا کہ کل آیا اس نے نہ آنا تھااور نہ وہ آیا اورپاکستان ٹوٹ گیاامریکہ میں نیا صدر آنے والا ہے چند دن کی بات ہے برصغیر کے حالات بھی اب تیزی سے بدل چکے ہیں سی پیک اللہ کے فضل سے اب تک کامیابی کے سفر پررواں دواں ہے قدرت نے حالات ایسے پیدا کر دیئے ہیں کہ روس بھی بھارت سے بدظن ہو کر ہماری طرف جھک رہا ہے۔

گوادر سے اب روس اور ایران دونوں فائدہ اٹھانے کا سوچ رہے ہیں لہٰذا گوادر کی بین الاقوامی بندرگاہ بہت جلد دنیا کی ایک مصروف ترین بندرگاہ بننے جارہی ہے اور ہم اس خطے میں ایک اہم ایٹمی طاقت کہ جس کی معیشت بھی انشاء اللہ اس بین الاقوامی بندرگاہ کے طفیل مضبوط ہوگی امریکہ کے اب کسی نئے جھانسے میں خدا کرے کہ اس ملک کی قیادت نہ آئے اور نہ ہی اب پاکستانی وزرائے اعظم کو بار بار وائٹ ہاؤس کے طواف کرنے کی ضرورت ہے روس‘ چین اور ایران کیساتھ ہمیں بنا کر رکھنی چاہئے اور افغانستان کے ساتھ اپنی بارڈر مینجمنٹ کو مضبوط کرنا چاہئے بلوچستان اور فاٹا دونوں میں زبردست قسم کا ترقیاتی پیکج ضروری ہے اس طرح ہمارے وزیر اعظم اور وزراء کو اپنا زیادہ تر وقت اسلام آباد کی بجائے کوئٹہ میں صرف کرنا چاہئے بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم صوبہ ہے کہ جس میں حالات خراب کرنے کیلئے امریکہ بھی کوشش کریگا اور بھارت بھی‘ ان سازشوں کوصرف اس طریقے سے ناکام کیا جاسکتا ہے کہ ان دونوں علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے ہمیں یہ بات بالکل بھولنی نہیں چاہئے کہ امریکہ نے نہ کبھی ماضی میں چین کی طرف ہمارا جھکاؤ پسند کیا ہے اور نہ اب کرے گا اس نے اس خطے میں اب بھارت کو اپنا فرنٹ سٹیٹ بنالیاہے کہ جس کو وہ چین اور ہمارے خلاف بیک وقت استعمال کررہا ہے اور آئندہ چند دنوں میں اسکے مذموم ارادوں میں شدت دیکھی جائیگی بھارت کے وزیر داخلہ کا حالیہ بیان کہ پاکستان کے مزید دس ٹکڑے ہونگے بڑا معنی خیز ہے اس کو ہلکا سمجھ کر نظر انداز کرنا بے وقوفی کے مترادف ہوگا۔