بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / وفاقی کابینہ کا اہم فیصلہ

وفاقی کابینہ کا اہم فیصلہ

وفاقی کابینہ نے فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام اور دیگر اصلاحات پر اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ کے اہم اجلاس میں بعض دیگر ایجنڈا آئٹمز پر غور ملتوی کر کے فاٹا اصلاحات پر بات کو ترجیح دی گئی۔ کابینہ کے اجلاس میں قبائلی علاقوں سے متعلق ایجنڈا آئٹمز کو سنجیدگی سے لینا حکومت کے احساس و ادراک کا عکاس ضرور ہے تاہم اس کا ثمر آور ہونا عمل درآمد کے موثر مکینزم سے مشروط ہے ۔ کیبنٹ میٹنگ میں اس حوالے سے جن سفارشات پر بات ہوئی ان کے مطابق فاٹا کو 5 سال میں مرحلہ وار ضم کیا جائے گا۔ 10 سال تک سالانہ 121 ارب روپے مختص ہوں گے ان فنڈز کے لئے صوبوں کے محاصل سے 3 فیصد کٹوتی بھی ہوگی اس سب کے ساتھ 2018ء کے انتخابات میں فاٹا کو خیبرپختونخوا اسمبلی میں نمائندگی دیئے جانے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے سرحدی و ریاستی امور کے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ کے مطابق فاٹا ریفارمز کمیٹی نے قبائلی علاقوں پر مشتمل سات ایجنسیوں کے دورے کئے اور وہاں 16 جرگے منعقد ہوئے کمیٹی کے جرگوں میں 500 تک عمائدین نے شرکت کی جرگوں کے سلسلے میں کاروباری شخصیات تاجروں وکلاء اور طالب علموں کا مؤقف بھی سنا گیا اصلاحات سے متعلق تیار کردہ رپورٹ پر فاٹا کے 8 سینیٹرز اور 11 ممبران قومی اسمبلی کے دستخط موجود ہیں اس کے ساتھ وزیر اعظم اتحادی جماعتوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کر چکے ہیں۔

اس سے ایک روز قبل خیبرپختونخوا اسمبلی بھی قبائلی علاقوں کے صوبے میں انضمام کے حق میں قرارداد کثرت رائے سے منظور کر چکی ہے ایوان میں جے یو آئی (ف) کی جانب سے قرارداد کی مخالفت سامنے آئی ہے۔ فاٹا کی تعمیر و ترقی اور وہاں رائج قوانین میں اصلاح پر کوئی دورائے نہیں اس کے علاوہ معاملات اور طریقہ کار پر کسی کے کوئی تحفظات ہیں تو انہیں دور کرنے کی ہدایت بھی کر دی گئی ہے اب اس سب کے بعد اصل ضرورت اصلاحات کے عمل کو ٹائم شیڈول کے مطابق مکمل کرنے کی ہے اس مقصد کیلئے ایک خصوصی سیل یا پراجیکٹ ڈائریکٹوریٹ قائم کر کے اور تمام سٹیک ہولڈرز محکموں کی نمائندگی اس میں یقینی بنا کر اداروں کے درمیان رابطوں کے فقدان کو دور کیا جاسکتا ہے۔ اگر ریفارمز کے سارے عمل کو عام ڈگر پر چھوڑا گیا تو بہت سارے حکومتی اقدامات کی طرح یہ کام بھی فائلوں میں بند ہی رہ جائے گا اور پہلے سے تاخیر کا شکار یہ اہم قومی نوعیت کا کام مزید پیچھے چلا جائے گا۔
پشاور کی صفائی کا سال
صوبائی دارالحکومت میں شہری سہولیات کی فراہمی کے ادارے 2017ء کو صفائی کے سال کے طور پر منانے کا اعلان کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے مرحلے پر ایک ہفتے کی خصوصی مہم میں آگاہی کے ساتھ گندگی کے ڈھیر اٹھائے جائیں گے آلودہ شہروں کی فہرست میں نمایاں مقام رکھنے والے صوبائی دارالحکومت کی صفائی سے متعلق فیصلہ قابل تحسین ہی ہے تاہم اس کے برسر زمین نتائج سے متعلق کوئی خوش فہمی قبل از وقت ہوگی اس وقت صوبے کے دارالحکومت میں چند علاقوں کو چھوڑ کر صفائی کی صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہے اس میں سیوریج سسٹم پلاسٹک شاپنگ بیگز کے ہاتھوں بلاک ہے صفائی کی کوئی مہم اس وقت تک مطلوبہ نتائج دے ہی نہیں سکتی جب تک کہ سیوریج کو ان بیگز سے آزاد نہیں کیا جاتا اس ضمن میں 2017ء کی پہلی تاریخ سے قبل ہی پلاسٹک بیگز سے متعلق طویل عرصے سے زیر غور معاملے کو نمٹانا ضروری ہے تاکہ اتنی بڑی صفائی مہم کسی خاطر خواہ نتائج کی حامل قرار پائے بصورت دیگر مہم صرف مہم ہی رہے گی۔