بریکنگ نیوز
Home / کالم / اسمبلی میں دھینگامشتی

اسمبلی میں دھینگامشتی

پانامہ لیکس نے اور کچھ کیا یا نہیں کیا ہمارے دوستوں کوالیکشن کی دھاندلی سے نکال کر وزیر اعظم کی �آف شور کمپنیوں کے پیچھے لگا دیا۔ وزیر اعظم نے کتنی کرپشن کی اس کا جواب تو جب ہی ملے گا جب سپریم کورٹ عمران خان صاحب کی امید کے مطابق فیصلہ دے گی اب تو یہ حال ہے کہ سپریم کورٹ کو ٹرائل کورٹ بنانیکی حکمت عملی نے چیف جسٹس کو کہنے پر مجبور کر دیا کہ اس مقدمے پر جو کچھ اس وقت تک ہو چکا ہے اس کو صفر سے ضرب دے دی جائے اور نئے چیف جسٹس کے نئے پینل کیساتھ ایک دفعہ وہیں سے شروع کریں جہاں سے اس چیف جسٹس اور پینل کیساتھ شروع کیا گیاتھاہمیں یہ سن کر بھی حیرت ہوئی کہ ہمارے خان صاحب سپریم کورٹ سے مایوس ہو گئے ہیں ہمیں گزارش کرنی ہے اپنے خان صاحب سے کہ جناب عالی عدالتوں میں مقدمات کا حال آپ دیکھ ہی چکے ہیں کہ جہاں قتل کی سزا پھانسی یا عمر قید ہے وہاں لوگ عمر قید سے بھی بڑھ کر قید کاٹنے کے بعد یہ خوشخبری پاتے ہیں کہ وہ تو بے گناہ تھے اسلئے ان کو باعزت بری کیا جاتا ہے ایک مقدمے کا فیصلہ تو حال ہی میں ہوا ہے کہ بندے کو باعزت بری کیا گیا تو بندہ بے چارہ قبر کے حساب کتاب سے بھی دو سال قبل فارغ ہو چکا تھا در اصل یہ ہمارے انصاف کے ایوانوں کا وہ پیچیدہ نظام ہے کہ جس کو بار دگر سیٹ کرنے کی از حد ضرورت ہے ۔

ہمارے آئینی اداروں میں اگر ترقیاتی فنڈوں کا سلسلہ ختم کر دیا جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ ہمارے ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی اپنے اصلی کام کی طرف توجہ دیں اور قانون سازی کر کے یہ سارے سقم دور کریں اور لوگوں کو سستا نہ سہی بر وقت انصاف تو ملے۔ہمارے وکلا ء حضرات جس طرح مقدمات کو لٹکاتے ہیں اور تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں وہ بھی اس مقدمے میں خان صاحب نے دیکھ لیا ہو گا بہت سے لوگ اپنی جوانیاں ان عدالتوں میں رلتے ہوئے بڑھاپے کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں مگرانصاف ہے کہ ان کے نزدیک بھی نہیں آرہا یہ سسٹم کی خرابی ہے اس میں کسی عدالت سے مایوس ہونے کی بات نہیں ہے بلکہ عدالت کو وہ سہولیات مہیا کرنیکی ضرورت ہے کہ اسے انصاف فراہم کرنے میں آسانی ہو بعض دفعہ سامنے کی چیز بھی ایک منصف کو نظر نہیںآ تی اور وکلاء حضرات سامنے کی چیز کو بھی اپنی قانونی موشگافیوں میں اس طرح لپیٹتے ہیں کہ منصف کو دیکھ کر بھی شے نظر نہیں آتی۔ دوسری بات کہ عدالتیں ثبوت مانگا کرتی ہیں ڈھونڈا نہیں کرتیں۔ آپ کو ایک سامنے کی چیز کو بھی ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہے۔ ایک منصف کو دکھائی دیتا ہے کہ دن ہے مگر جب ہمیں دن کی بات کرنی ہو گی تو منصف کے سامنے دلائل اور ثبوت رکھنے ہوں گے کہ ہم دن میں بیٹھے باتیں کر رہے ہیں ورنہ منصف یہ ماننے کیلئے تیار نہیں ہو گا کہ جس سورج کی روشنی میں ہم بیٹھے بات چیت کر رہے ہیں یہ دن کا مظہر ہے یہ ہمارے انصاف کے طے شدہ اصولوں کا تقاضا ہے اور اگر ہم یہ نہیں چاہتے تو ہمیں اسمبلیوں میں فنڈ فنڈ کھیلنے کی بجائے اس ملک کیلئے اصول وضع کرنے ہوں گے تاکہ ہمارے عام لوگوں کو انصاف مل سکے دیکھیں نا اگر ہمارا ایک پارٹی کا لیڈر اور بقول اس کے پاکستان کی تیسری یا دوسری بڑی پارٹی کا سربراہ انصاف پر اور وہ بھی ملک کی سب سے بڑی عدالت سے انصاف پر مطمئن نہیں ہے ۔

تو ہم جیسے عام آدمی کا کیا حال ہوتاہو گا۔آپ عدالتوں میں چلے جائیں وہاں کے حالات دیکھیں اور لوگوں سے انٹرویو کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کئی سال سے ایک عام سے مقدمے میں جس کا فیصلہ ایک ہفتے میں ہو سکتا ہے دس دس اور بیس بیس سال سے عدالتوں میں رل رہی ہے مگر ہمارے لیڈران حضرات اسمبلیوں میں جو تماشے لگا رہے ہیں وہ بھی موجودہ سیشن میں دکھائی دیا ہے کہ ایک دوسرے کی توہین تو کوئی بات ہی نہیں۔ معزز ممبران اسمبلی اس طرح ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہورہے ہیں جیسے کوئی بیچ بازار کے لڑائی کر رہا ہو ہم جس ایوان کو مقدس ترین گردانتے ہوئے اپنے نمائندے چن کر بھیجتے ہیں وہاں جانیوالے تو ایک دوسرے کے گریبان پھاڑ رہے ہیں اور یہ طرز عمل اُن لوگوں پر کیا اثر ڈال رہا ہو گا جنہوں نے ان لوگوں کو اپنے مسائل کے حل اور اپنے ملک کی بہتری کیلئے ووٹ دیکر بھیجا ہے۔ہم اس پر افسوس ہی کر سکتے ہیں اور اگر ان کا استحقاق مجروح نہ ہو تو ہم گزارش کریں گے کہ اس سال پوری تن دہی سے قانون سازی کریں تاکہ آنیوالی اسمبلی کو جمہوری طریقے سے چلا یا جائے۔