بریکنگ نیوز
Home / کالم / آیاز میر / شام کے لوگوں کی دنیائے اسلام سے مایوسی

شام کے لوگوں کی دنیائے اسلام سے مایوسی


وہ دعویٰ تو امت کی رہبری کا کرتے ہیں ، حالانکہ حقائق کی دنیا میں یہ چیز پائی ہی نہیں جاتی۔ تاہم اپنے اس فرضی اور التباسی کردار میں بھی اُنھو ں نے دانائی اور عقل سے صاف گریز کرتے ہوئے خطے کو یمن سے لے کر لیبیا تک کشمکش اور جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا ہے۔ اس کے درمیان شامی خانہ جنگی کے دراز ہوتے ہوئے مہیب سائے دنیائے اسلام کی تنگ نظری ، بے بصری اور ژرف نگاہی کی بھیانک تصویر پیش کرتے ہیں۔
امریکی اوراُن کے یورپی اتحادی، خاص طور پر فرانس، کا شامی بحران کو گہرا کرنے میں ہاتھ ہے ، لیکن عرب ممالک،جو دنیا کی امیر ترین ریاستیں ہیں،نے بھی شامی افراد کے دکھوں کو دوچند کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ۔ قدیم دور میں رہنے والے یہ حکمران اپنی ریاستوں کی سکیورٹی بھی یقینی نہیں بنا سکے ۔ وہ امریکہ کی حفاظتی چھتری کے بغیر لاچار تھے ۔ تاہم اُن کے پاس تیل تھا اور تیل کی دولت نے اُن کے دماغ میں رعونت بھردی اور رعونت نے ہی اُس حماقت کی راہ ہموار کی جس کا شاخسانہ آج اس بحران کی صورت دکھائی دے رہا ہے ۔ قطراور ایک اہم عرب ملک کو شام میں مداخلت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا کوئی عرب یا مسلم ملک اس پوزیشن میں ہے کہ وہ دوسرے اسلامی ملک کو اخلاقیات کا درس دے سکے ؟اگر بشارالاسد اپنے ملک پر ظلم کررہے تھے تو کتنے دیگر اسلامی ممالک جمہوریت یا برداشت کی اقدارسے مالا مال ہیں؟دنیائے اسلام کے اس کونے سے لے کر دوسرے کونے تک، ہر ملک کے اپنے مسائل اور مشکلات ہیں۔ درحقیقت مسلمان دنیا میں دوسرے درجے کے شہری بن کر رہ گئے ہیں‘ ایک ایسی دنیاجس کا اختیار کسی اور کے ہاتھ میں ہے ہم اپنے فیصلے خود کرنے کے مجاز نہیں۔

امریکی افغانستان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ ایساکرگزرتے ہیں۔ دنیائے اسلام بے بسی اور خاموشی کی تصویر بنے دیکھتی رہتی ہے۔ تو اس دوران پاکستان بھی جب یہ دیکھتا ہے کہ اُس کے پاس اور کوئی آپشن نہیں تو وہ بھی دلیری سے اپنا فیصلہ کرنے کی بجائے اس کھیل میں شریک ہوجاتا ہے ۔ امریکی ہی کسی وجہ کے بغیر عراق پر چڑھائی کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ عظیم اسلامی دنیا ایک مرتبہ پھر ’’جیسے تصویر لگادے کوئی دیوار کے ساتھ‘‘ خاموش، اور ساکت، بے بس اور مجبور۔ اس کے بعد مغربی فورسز نے لیبیا کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیاتو عرب دنیا اُن کے ساتھ ہوگئی۔ جب مغرب نے شام کی طرف توجہ کی تو اپنی طرز کی استعماری سوچ رکھنے والے کند ذہن عرب حکمران کوئی سبق سیکھے بغیر اس تباہی کا حصہ بن گئے ۔ ہم رجب طیب اردوان کو ایک دانا رہنما سمجھتے تھے ۔ ہم اُنہیں آج کے دورکا ایک مثالی حکمران قرار دیتے تھے ، لیکن پھر وہ بھی عقل اور دانائی کو خیربا د کہتے دکھائی دیئے صدر مرسی کے خلاف فوج کے شب خون کے بعد صدر اردوان کے پاس مصرمیں مداخلت کرنے کا کیا حق تھا؟ یہی کافی نہیں تھا ، اس کے بعد اُنھوں نے شام میں بھی مداخلت شروع کردی ۔

اسلامی ممالک، جو شام کے ہمسائے ہیں، کو وہاں مغربی طاقتوں کی مداخلت کی مخالفت کرنی چاہئے تھی لیکن وہ اپنی حماقت کی دلدل میں قدم الجھائے ہوئے ہیں۔ترکی ، قطر اور ایک اہم عرب ملک شامی صدر کے خلاف امریکہ اورفرانس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ شام کی حکومت تبدیل کرنے میں امریکیوں کا ایک اپنا مفاد ہے اور ہمیں اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ عرب ریاستیں شام کو مسلکی اختلاف کے آئینے میں دیکھتی ہیں۔ اُن کا بظاہر مقصد اسد کو چلتا کرنا ہے لیکن حقیقی مقصد ایران کو شکست دینی ہے جو اسد اورحز ب اﷲ کے پیچھے حقیقی طاقت ہے‘ اس طرح اکیسویں صدی میں بھی دنیائے اسلام کے درمیان تقسیم کی وہی لکیر دکھائی دیتی ہے جو ابتدائی دور سے چلی آرہی ہے ۔ آج سنی الائنس کے ساتھ امریکہ اور شیعہ الائنس کے ساتھ روس ہے۔ اگر ایران اور اسد کے ساتھ روس کھڑا نہ ہوتا تو اب تک ان کے ساتھ بہت بر ا ہوچکا ہوتا۔ یقیناًپیوٹن عراق پر حملہ روکنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور پھر اُن سے لیبیا کی صورتِ حال کی تفہیم کرنے میں بھی سنگین غلطی ہوگئی ، ورنہ وہ لیبیا پر بمباری کرنے کیلئے پیش کی گئی قرار داد کو ویٹو کرکے نیٹو کا راستہ روک سکتے تھے ۔ تاہم یہاں پیوٹن نے سبق سیکھ لیا لیبیا کی تباہی پیوٹن کے حق میں یونیورسٹی ایجوکیشن ثابت ہوئی۔ چنانچہ روس نے فیصلہ کرلیا کہ اب بہت ہوچکا، تو جب شام کا وقت آیا تو اُس نے ایک لکیر کھیچ کر دنیا کو بتادیا کہ اس سے آگے نہیں بڑھنا۔ سچ پوچھیں تو کریما پر قبضے کاخیال ماسکو کی چوٹیوں سے نہیں ، لیبیا کے صحرا سے پھوٹا۔اور پھر روسی صدر نے اسد کو گرنے سے بچانے کے لئے قدم آگے بڑھا لیا۔ آج ہم اس کا نتیجہ دیکھ سکتے ہیں۔ نام نہاد بہارِ عرب کی آندھی گزر گئی لیکن اسد اپنی جگہ موجود۔ ایران، حزب اﷲ اور روس پوری استقامت سے شامی صدر کے ساتھ کھڑے ہیں۔

آج امریکی غصے سے آ گ بگولہ ہورہے ہیں لیکن اب وہ شامی خانہ جنگی کو کنٹرول کرنے اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے قابل نہیں۔ کریما اور اسد نے امریکی طاقت کی حدود کا تعین کردیا ہے پیوٹن نے انکے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ یقیناًامریکی انتظامیہ کیلئے یہ ناقابلِ برداشت ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتے ۔ شام ایک طرح کے پراکسی میدانِ جنگ میں تبدیل ہوچکا ہے ، جہاں بیرونی طاقتیں اور علاقائی مفاد شامی افراد کے لہو سے اپنے عزائم کی تصاویرکو رنگین کررہے ہیں۔ یہ سفاک کھیل اب تک لاکھوں جانیں لے چکا ہے حلب اس بھیانک کھیل کا تازہ ترین میدان ہے ۔ یہاں سے لاکھوں افراد جان بچا کر فرار ہوچکے ہیں۔ یورپ کو درپیش مہاجرین کا بحران شامی خانہ جنگی کا براہِ راست نتیجہ ہے ۔ جرمن چانسلر اینجلا مرکل کا شام کے حالات سے کوئی تعلق نہیں لیکن اُنھوں نے انسان دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے سٹینڈ لیا تاہم اس بحران کے گہرے ہوتے سائے اُن کی مشکلات میں اضافہ کررہے ہیں‘ شامی بحران کے اہم کھلاڑی، امریکہ، فرانس اور امریکہ کی جیوپولیٹیکل حماقتوں میں بھرپور ساتھ دینے والا برطانیہ، کسی بھی نقصان سے محفوظ ہیں اگرچہ بریگزٹ کو مہاجرین کے بحران کا ہی ردِ عمل کہا جاسکتا ہے ۔

اس دوران دنیائے اسلام کو دیکھیں، اس میں ایک بھی ایسا رہنما دکھائی نہیں دیتا جو شامی بحران پر بات کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ ایسا کوئی نہیں جو ان بے بصر آمروں کو بتائے کہ اپنے گھٹیا عزائم اورمقاصد کی خاطر مداخلت کرتے ہوئے وہ شام کو خون سے نہلا رہے ہیں۔ ان آمروں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے مسائل پر نظر ڈالیں۔ تیل سے ہونے والی آمدنی میں مسلسل کمی نے اُن کی بیلنس شیٹ کو درہم برہم کردیاہے ، جبکہ یمن جنگ جیسی بے مقصد مہمیں اُ ن کے بجٹ پر مزید دباؤ ڈال رہی ہیں۔ کبھی چٹان کی طرح ٹھوس دکھائی دینے والی سعودی امریکی دوستی میں دراڑیں نمودار ہورہی ہیں۔ درحقیقت عرب دنیا کے حالات رستخیز ہیں۔
سوویت یونین کیخلاف ہونیوالے پہلے افغان جہاد نے القاعدہ کی بنیاد رکھی۔ عراق پر حملے نے اسلامی بنیاد پرستی کو مزید متشددانہ رنگ دیا۔شامی خانہ جنگی نے عراق اور شام میں داعش جیسے عفریت کو جنم دیا۔ شام میں ہونے والی خانہ جنگی کیسے ختم ہوسکتی ہے؟ اس کیلئے روس اور امریکہ کے درمیان مفاہمت درکار ہے ۔ ایسا کس طرح ہوگا؟اب اوباما دور تو ختم ہونے والا ہے ، لیکن اسے ہیلری کلنٹن بھی ختم نہیں کرسکیں گی کیونکہ وہ امریکہ کی موجودہ پالیسی جاری رکھیں گی۔ صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہی ایسا کرسکتے ہیں۔ ٹرمپ اور پیوٹن کی مشترکہ کوشش یہ معجزہ دکھاسکتی ہے شامی بحران حل کرنے کا صرف یہی ایک نسخہ ہے ۔