بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / صوبے کے حقوق کی جدوجہد

صوبے کے حقوق کی جدوجہد


1991-22ء کے بعد سے )جب بجلی کے خالص منافع کی رقم چھ ارب روپے سالانہ کی سطح پر منجمد کی گئی) صوبائی حکومتیں صوبے کے حقوق خصوصاََ بجلی کے خالص منافع کے انجماد اور منافع کے واجبات کا معاملہ اپنے اپنے انداز سے اٹھاتی رہی ہیں۔ 1996ء میں صوبائی حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں صوبے اور وفاق کے درمیان اس امر پر اتفاق رائے ہوا کہ ہر سال خالص منافع کی رقم میں11 فیصد اضا فہ کیا جائے گا تاہم حکومت اور اسمبلیوں کی قبل از وقت رخصتی کے باعث اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔1997ء میں نئی اسمبلیوں اور حکومتوں کے قیام کے بعداس وقت کی صوبائی حکومت نے بجلی کے خالص منافع سے متعلق معاملات میں پیش رفت ممکن بنانے کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی جس نے اس مسئلے کو پھر سے وفاقی سطح پر اٹھانے کا کام کیا تاہم 1999ء کے بعد صوبے کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کی کوششیں تعطل کا شکار ہوگئیں ‘ ایم ایم اے حکومت نے صوبائی حقوق کیلئے صوبے کی اپوزیشن کے ساتھ ملکر صدائے احتجاج بلند کی‘ اس دور میں بجلی کے خالص منافع کی رقم کے عدم انجماد اور منافع کے واجبات کی وصولی کیلئے حکمت عملی طے کرنے کی غرض سے صوبے کے تمام سابق وزرائے خزانہ کے مشاورتی اجلاس منعقد کئے گئے‘ اسکے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی میں موجود جماعتوں کے پارلیمانی قائدین کو بھی صوبے کے حقوق سے متعلق مشاورتی عمل میں شریک کیا گیا جس نے پارلیمانی جرگے کی روایت کو جنم دیا ۔ ایم ایم اے کی حکومت نے بجلی کے خالص منافع کو ڈی کیپ کرانے اور اس مد میں واجبات کی وصولی کیلئے قانونی لڑائی کی راہ اختیار کی ۔یہ حکمت عملی اس لحاظ سے کارگرثابت ہوئی کہ ایم ایم اے کی عدالتی چارہ جوئی کے نتیجے میں واپڈا اور صوبائی حکومت کے درمیان بجلی کے خالص منافع سے متعلق تمام معاملات پر تصفیے کیلئے ایک ثالثی ٹریبونل کا قیام عمل میں آیاجس نے مارچ2005ء سے ستمبر2006ء تک اس کیس کی سماعت کی ۔ سماعت مکمل ہونے پر ٹریبونل نے بجلی کے خالص منافع کی رقم میں1990ء سے سالانہ دس فیصداضافہ کرنے اور اس حساب سے صوبائی حکومت کو واجبات کی ادائیگی کرنے کا فیصلہ سنایا ۔ اگرچہ یہ رقم صوبائی حکومت کے دعوے کی نسبت کافی کم تھی تاہم اس طرح کے پی کے کی آمدن میں خاطر خواہ اضافے کی راہ ہموار ہوئی ‘اے ین پی اور پی پی پی کی مخلوط حکومت نے بھی صوبے کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے اور اس سلسلے میں پارلیمانی جرگے سے تعاون حاصل کرنے کی روایت برقرار رکھی۔ اے این پی دور حکومت میں این ایف سی کی تشکیل کے موقع پر صوبائی حکومت نے بجلی کے خالص منافع کے واجبات کی ادائیگی کا معاملہ اٹھایا جس پر مذکورہ ثالثی ٹریبونل کے فیصلے ہی کی روشنی میں کے پی کو خالص منافع کے واجبات کی مرحلہ وار ادائیگی کا عمل آگے بڑھا۔

ماضی سے جڑے یہ تمام حقائق بتاتے ہیں کہ ایک تو پچھلی دو دہائیوں کے دوران صوبائی حقوق کے ضمن میں بجلی کے خالص منافع کی رقم کو ڈی کیپ کرنے اور منافع کے واجبات کی وصولی کے معاملہ ہی پر زیادہ توجہ مرکوز رکھی گئی اور دوسرا کسی صوبائی حکومت نے چاہے وہ مرکز کی سیاسی اتحادی تھی یا مخالف صوبائی حقوق کے معاملے پر وفاق کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرنے سے گریز کرتے ہوئے ٹکرا ؤ کے بجائے موقع کی مناسبت سے وفاق پر دباؤ ڈالنے اور پھر افہام و تفہیم سے مطلب براری کی کوششیں کیں۔پی ٹی آئی کی حکومت نے صوبائی حقوق کے ضمن میں بجلی کے خالص منافع سے متعلق معاملات کیساتھ ساتھ ،صوبے کو اس کے حصے کے مطابق بجلی کی فراہمی ،دہشت گردی سے ہونے والے نقصانات کے تناظر میں خیبر پختونخوا کو مخصوص مدت تک انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے اور ان نقصانات کے ازالے کیلئے فنڈز کی فراہمی ،پی ایس ڈی پی میں صوبے کا حصہ بڑھانے اور پاک چین اقتصادی راہداری میں خیبر پختونخوا کو اس کا جائز حصہ دلانے جیسے امور کو بھی یکساں طور نہ صرف وفاق کے ساتھ بھر پور انداز سے اٹھایا ہے بلکہ مقاصد کے حصول کیلئے عملی احتجاج بشمول دھرنے تک کا راستہ اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کیا ۔

اُدھر موجودہ وفاقی حکومت کی جانب سے بھی خیبر پختونخوا کے حقوق کی ادائیگی کے معاملے پر اچھی خاصی سنجیدگی اور اخلاص کا مظاہرہ سامنے آیا ہے یہی وجہ ہے کہ وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان نہ صرف بجلی کے خالص منافع کے واجبات کی رقم کے تعین اور اس کی ادائیگی کے طریقہ کار پر مفاہمت ہوئی بلکہ خالص منافع کی رقم ڈی کیپ بھی ہوئی۔مختصراََ یہ کہ خیبر پختونخوا کے حقوق کے حوالے سے وفاق اور صوبے کے درمیان جو جو معاملات بھی طے ہوئے ہیں وہ دوطرفہ بات چیت ہی کے ذریعے سے طے ہوئے ہیں لہٰذا بہتر یہی ہوگا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبے کے حقوق کے معاملے پر وفاق کے ساتھ تصادم کی پالیسی سے گریز کرتے ہوئے مسائل کے حل کیلئے مذاکرات ہی کو مقدم رکھے ۔