بریکنگ نیوز
Home / کالم / معاہدے اور پاسداری

معاہدے اور پاسداری


ہم سوسائٹی میں رہتے ہیں اور ہمارے اوپر دوسروں کے اور دوسروں پر ہمارے کچھ حقوق ہوتے ہیں جن کی پاسداری ضروری ہوتی ہے تاکہ سوسائٹی میں کسی قسم کا رخنہ نہ آ ئے۔جیسے ہم اپنے لئے رہائش کا بندوبست کرتے ہیں تو ہمیں کچھ باتوں کا بہت زیادہ خیال رکھنا ہوتا ہے۔پہلی بات کہ جہاں ہم اپنی رہائش بنانے جا رہے ہیں وہاں کیا ہم سے پہلے بنائے گئے مکانوں کے راستے میں تو کوئی رکاوٹ تو نہیں آ رہی اور یہ کہ اُن کی نکاسی آب میں کوئی رکاوٹ تو نہیں آ رہی ۔ اور یہ کہ ہمارے بعد اگر کوئی شخص ہمارے پڑوس میں رہائش بناتا ہے تو کیا اس کے راستے، پانی کے نکاس وغیرہ میں ہم رکاوٹ تو نہیں ہیں‘ شہروں میں مکان بنانے کیلئے ہم کمیٹی سے اپنے نقشے منظور کرواتے ہیں تو اس میں خاص طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ مندرجہ بالا سہولیات اس مکان میں اور اس کے اڑوس پڑوس میں مہیا ہوں گی یاکوئی رکاوٹ آ سکتی ہے ۔اگر کوئی رکاوٹ آ رہی ہو تو مکان کا نقشہ منظو رنہیں کیا جاتا اور مکان کے نقشے میں ضروری تبدیلی کاکہا جاتا ہے۔ یعنی ایک ایسا معاہدہ خود وجود میں آ جاتا ہے جس سے ہمسائے اور محلے داروں کے حقوق کا تحفظ ہو جاتا ہے۔اسی طرح ملکوں کے درمیان بھی اسی قسم کے معاہدے ہو تے ہیں‘ یہی ریت ہے کہ دو ہمسایہ ممالک میں بہت سی چیزیں مشترک ہوتی ہیں اور اُ س پر دونوں ملکوں کا برابر کا حق ہوتا ہے۔ پاکستان جب وجود میں آیا تو ایک سازش کے تحت مغربی حصے کو ایک ضلع سے محروم کر دیا گیا اور وہ اسلئے کہ ہندوستان اپنے فوجیں کشمیر میں داخل کرسکے۔ چونکہ کشمیر ایک مسلمان اکثریتی ریاست تھی اسلئے اس کو حق تھا کہ وہ پاکستان کو حصہ ہوتی مگر ہندوؤں نے ایک سازش کے تحت ایک من گھڑت معاہدے سے کشمیر کو اپنا حصہ بنانے کی کوشش کی جس کے کچھ حصے کو تو مہاراجہ کی حکومت کے دوران ہی کشمیر کی حکمرانی سے آزاد کر لیا گیا تھا اور باقی حصے میں سے ایک کو جنگ کے ذریعے حاصل کر لیا گیا مگر یہاں بھی ہندو کی مکاری کام کر گئی اور ہندوستان کے وزیر اعظم اس کیس کو یو این او میں لے گئے تا کہ اس علاقے کا فیصلہ استصواب رائے سے کیا جائے مگر اُس کی نظر میں پہلے سے یہ بات تھی کہ وہ کشمیر کو اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دے گا اورآج تک یہ مسئلہ یو این او کے چارٹر میں ایک حل طلب مسئلے کی صورت میں موجود ہے۔

کشمیر ایک ایسا خطہ ہے کہ پاکستان میں بہنے والے سارے ہی دریا بجز دریائے کابل کے کشمیر میں سے ہی آتے ہیں ۔خدشہ تھا کہ ہندوستان کسی وقت بھی پاکستان کے پانی کو بند کر سکتا ہے اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان اور ہندوستان میں ایک معاہدہ ہوا کہ کچھ دریاؤں کے پانی پر ہندوستان کا حق ہو گا اور کچھ پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا مگر ہندوستان نے مکاری سے کام لیتے ہوئے جن دریاؤں پر پاکستان کا حق تھا اُن پر بھی بند باندھ لئے۔اس کا ایک نقصان تو پاکستان کو پانی کی کمی کی صورت میں ہوا مگر ہندوستان نے یہاں بھی مکاری سے کام لیتے ہوئے یہ موقف اختیا رکیا کہ وہ صرف پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے یہ بند باندھ رہا ہے گو پاکستان اس مسئلے کو عالمی عدالت میں بھی لیکر گیا مگر اپنی کمزور ایڈوکیسی کے سبب وہ عالمی عدالت کو قائل نہ کر سکا۔ ہندوستان نے پاکستان کو زچ کرنے کیلئے بندوں سے پانی ایسے وقت میں چھوڑنا شروع کیا کہ جس وقت پاکستان کے دریاؤں میں بھی سیلابوں کا وقت ہوتا ہے۔

چنانچہ پاکستان کے خلاف یہ ایک مستقل سردردی بنا دی گئی ہے کہ ہندوستان جب چاہے اپنے بندوں سے پانی چھوڑ کر پاکستان میں سیلابی صورت حال بنا دے۔اب جو دونوں ملکوں میں کچھ ان بن ہوئی ہے تو ہندوستان اس قابل تو نہیں کہ وہ پاکستان پر حملہ کر سکے ۔اس لئے کہ دونوں ملک ایٹمی طاقتیں ہیں اور جنگ کا مطلب اس خطے کی مکمل تباہی ہے اس لئے کوئی بھی ملک اس کی جرات نہیں کر سکتا کہ دوسرے ملک پر حملہ کر سکے تو ہندوستان نے سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کا خیال کر لیا ہے او راس کے لئے اُس نے مشورے شروع کر دےئے ہیں۔ کیا وہ ایسا کر سکتا ہے ؟ یہ ایک سوال ہے جس پر پاکستان کو سنجیدگی سے سوچنا ہے۔ہندوستان سے کسی بھی بات کی توقع کی جا سکتی ہے۔