بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / قومیں سڑکوں وپلوں پر نہیں انسانوں پر سرمایہ کاری سے بنتی ہیں،عمران خان

قومیں سڑکوں وپلوں پر نہیں انسانوں پر سرمایہ کاری سے بنتی ہیں،عمران خان


لاہور۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ قومیں سڑکوں اور پلوں پر نہیں انسانوں پر سرمایہ کاری سے بنتی ہیں،افسوس ہمارے ہاں آج بھی اورنج ٹرین جیسے منصوبوں پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے،ملک میں ڈھائی کروڑ بچے اب بھی تعلیم سے محروم ہیں،نمل یونیورسٹی آکسفورڈ لیول کا ادارہ ہے جس نے ہر شعبے میں بہترین لوگ دئیے ہیں ، میرا خواب ہے باہر سے طالب علم پڑھنے پاکستان آئیں۔

نمل یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ملک کو آگے بڑھانے کیلئے تعلیم پر توجہ دینا ہو گی لیکن افسوس کہ ہمارے ملک میں سکول پیسہ بنانے والی دکانیں بن چکی ہیں۔ نمل یونیورسٹی آکسفورڈ لیول کا ادارہ ہے جس نے ہر شعبے میں بہترین لوگ دئیے ہیں ، میرا خواب ہے کہ باہر سے طالب علم پڑھنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ قومیں انسانوں پر سرمایہ کاری کرنے سے بنتی ہیں ، سڑکوں پر سرمایہ کاری رکنے سے نہیں بنتیں ، افسوس کہ ہمارے ہاں آزادی ملنے کے بعد قوم پر سرمایہ کاری نہیں کی گئی اور آج بھی سڑکوں اور پلوں پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے اور اورنج ٹرین جیسے منصوبے بنائے جا رہے ہیں ۔

جبکہ ملک میں ڈھائی کروڑ بچے اب بھی تعلیم سے محروم ہیں ۔ یہ ملک تب ہی آگے بڑھے گا جب تعلیم پر توجہ دی جائے گی اور پانامہ وغیرہ سے فارغ ہو کر تعلیم پر ہی توجہ دوں گا۔ بچوں کی تعلیم میں والدین کی دلچسپی بہت ضروری ہے اور والدین جتنی دلچسپی لیں گے بچے اتنا ہی آگے جائیں گے۔ انہوں نے طالب علموں سے کہا کہ زندگی میں 2 طرح کے مائنڈ سیٹ ہوتے ہیں۔ ایک مائنڈ سیٹ ہوتا ہے کہ میں اپنے خواب کے پیچھے جاں تو فیل نہ ہو جاں اور ایک مائنڈ سیٹ ہوتا ہے کہ میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ ایک ہار سے ڈرتا ہے اور دوسرا ہارنے کے ڈر پر قابو پا لیتا ہے اور یہاں یہ بات سمجھنے والی ہے کہ ہارنے سے نہ ڈرنے والا شخص ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے اور جو ہار سے ڈرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ مشکل چیز کو نہیں کرنا چاہئے، شروع میں ہمیں کہا گیا کہ دیہات میں یونیورسٹی نہ بنائی جائے کیونکہ فیکلٹی نہیں آئے گی لیکن آج سب دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خالد بن ولید جیسا جرنیل شاید ہی کوئی اس دنیا میں آیا ہو اور اگر آپ ان کی زندگی کے بارے میں پڑھیں تو دیکھیں گے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے سے بڑی تعداد میں دشمن کے ساتھ جنگیں لڑیں اور پھر بھی کامیاب ہوئے کیونکہ ان کی پلاننگ اچھی ہوتی تھی اور وہ ہارنے اور مرنے سے نہیں ڈرتے تھے۔ چیمپئن برے وقت میں ہمت نہیں ہارتا اور ہاتھ کھڑے نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی خامیوں اور غلطیوں سے سیکھتا ہے اور تجزیے کے بعد دوبارہ مقابلے کیلئے میدان میں اترتا ہے۔ جو تعلیم آپ حاصل کرتے ہیں یہ آپ کے دماغ کو تجزئیے کے لئے تیار کرتی ہے۔ جو لوگ حالات کا تجزیہ نہیں کر سکتے انہیں سمجھ نہیں آتی کہ ان کی کیا غلطی تھی اور اب کیسے مقابلہ کرنا ہے ۔