بریکنگ نیوز
Home / کالم / ریفرنڈم سے بہتر کوئی حل نہیں

ریفرنڈم سے بہتر کوئی حل نہیں


آج بھی اکثر لوگ فاٹا کو ’علاقہ غیر‘ کہہ کر پکارتے ہیں حالانکہ آج اس علاقے کا ایک وسیع حصہ حکومت کے لئے قابل رسائی ہے یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ فاٹا کے ناقابل رسائی علاقے کو قابل رسائی بنانے کیلئے کافی وقت لگا پر اس حقیقت کو نہیں بھولنا چاہئے کہ ہروہ کام کرنے میں وقت لگتاہے کہ جس میں گفت وشنید کرنی پڑے اپنے قبائلی بھائیوں کو مطمئن کرنے اور انہیں اعتماد میں لیکر ان کے ہاں سڑکیں سکول ‘ہسپتال اور دیگر سہولیات بہم پہنچانے میں وقت تو لگنا تھا ۔ فاٹا کے اندر جو انتظامی اور عدالتی نظام نائن الیون سے پہلے موجود تھا وہ موجود تو اب بھی ہے پر کافی حد تک مجروح شکل میں۔دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کیلئے افواج پاکستان کو وہاں جانا پڑا اور عملاً قبائلی علاقے میں اب تک انہی کا کنٹرول ہے اب یہ بات کی جارہی ہے کہ چونکہ فاٹا میں دہشت گردوں کی کمر کافی حد تک ٹوٹ چکی ہے لہٰذا جن جن علاقوں میں امن اور آشتی آچکی ہے وہاں سول یعنی اس کے پرانے انتظامی ڈھانچے کو عملاً دوبارہ بحال اور فعال کردیا جائے یہاں پر ہم ایک نہایت ہی بنیادی اور اہم سوال کرنا چاہیں گے اور وہ یہ ہے کہ فاٹا میں اب تک جو نظام موجود ہے بھلے وہ مجروح حالت میں کیوں نہ ہو وہ تو قبائلی اجتماعی‘علاقائی وجغرافیائی کے کلیے پر قائم ہے کہ جسے انگریزی میں Collective Tribal Responsibility کہتے ہیں آسان لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قبیلہ اپنے علاقے اپنی زمین پر ہونے والے ہر اچھے برے کام کا مشترکہ طور پر ذمہ دار ہے یعنی اگر کسی قبیلے کا کوئی فرد کسی جرم میں ملوث پایا جائے تو اسے قانون کے سامنے پیش کرانے کے لئے پولیٹیکل انتظامیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس قبیلے پر اپنے مقصد کے حصول کے لئے اس کے کسی بھی فرد کو پابند سلاسل کر دے اب یہ نظام صدیوں سے رائج ہے کسی بھی ایڈمنسٹریٹر سے اگرآپ پوچھیں گے کہ کیا وہ اس کلیے کی حمایت کرتا ہے تو وہ لازماً آپ کو جواب دیگا ۔

کہ اس نظام کو نہ اکھاڑا جائے تاوقتیکہ آپ اس کا کوئی موثر نعم البدل وضع نہ کردیں اور اپنے اس موقف کی حمایت میں وہ یہ دلیل دیگا کہ یہ اس نظام کی بدولت ہے کہ فاٹا میں ہمیشہ بندوبستی علاقوں کے مقابلے میں جرائم کی شرح کم رہی ہے اور جن جن پولیٹیکل ایجنٹوں نے اس کلیے پر من وعن عمل درآمد کیا ہے ان کے ادوار میں جرائم کی شرح حیران کن حد تک کم تھی۔اس مسئلے پر کافی ابہام ہے فاٹا کے اندر بسنے والے قبائلی بھائیوں کی اس بارے میں رائے معلوم کرنے کے لئے حکومت فاٹا میں یفرنڈم کیوں نہیں کراتی دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی ہوجائے گا فاٹا کے اندر انتظامی اور عدالتی ڈھانچوں میں اصلاحات لانے کیلئے لا تعداد کمیشن بنائے گئے کئی کمیٹیاں بنائی گئیں اور یہ ہر دور میں ہوا پر کیا یہ بہتر نہیں کہ مندرجہ بالا سوال کا صحیح جواب حاصل کرنے کیلئے ریفرنڈم کے ذریعے قبائل سے ان کی رائے پوچھی جائے؟ اس ایک سوال کے جواب پر ہی تمام اصلاحات کا دارومدار ہوگا یا تو یہ جواب آئیگا کہ ہم اس اجتماعی قبائلی ذمہ داری والے نظام کو جاری رکھناچاہتے ہیں اگر یہ جواب آگیا تو پھر اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ممکنہ اصلاحات کا سوچا جاسکتا ہے اور ہاں اگر اس سوال کا جواب یہ آیا کہ نہیں۔

ہم اس اجتماعی قبائلی ذمہ داری کے نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور ہر فرد اپنے کئے کا خود ذمہ دار ہوگا اور اس کے کردہ کسی جرم میں اس کے قبیلے کے کسی فرد پر ہاتھ نہیں ڈالا جائیگا تو پھر بات اور ہوگی؟ فاٹا میں بلاشبہ اسلحے کی بہتات ہے پر ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ وہاں پولیس کا وجود نہیں ہر شخص اپنی اور اپنی پراپرٹی کی حفاظت خود کرتا ہے فاٹا سے ہم اس معاملے میں کیوں گلہ کریں بندوبستی علاقوں میں اسلحہ کی بھرمار ہے فاٹا کے اندر اتنا اسلحہ نہیں ہوگا جتنا کراچی ‘پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ریونیواضلاع میں ہے ۔کسی بھی حکومت نے آج تک صدق دل سے نہیں چاہا کہ ملک کو بھاری اسلحہ سے پاک کرے کبھی کبھار اس ضمن میں آپریشن ضرور کئے گئے پر وہ نیم دلانہ تھے یہی وجہ ہے کہ ملک میں بھاری اسلحہ کے بے دریغ استعمال سے روزانہ درجنوں لوگ لقمہ اجل ہورہے ہیں آپ نے بندوبستی علاقے میں اسلحہ کی بھر مار کو ختم کرنے کیلئے کونسا تیر مارا ہے جو آپ فاٹا سے گلہ کریں۔
تو بیرون درچہ کردی
کہ دورن خانہ آئی