بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / چین اور روس سے ‘ہیکنگ بند کرنے کا کہا تھا،اوباما

چین اور روس سے ‘ہیکنگ بند کرنے کا کہا تھا،اوباما


واشنگٹن۔امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ مجھے صدارتی انتخابات کے عمل میں روسی مداخلت کا یقین ہے ، بعض رپبلکن امریکی انتخاب میں روس کی مداخلت کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں،نومنتخب صدرڈونلڈ ٹرمپ روس کے سائبر حملے کی مکمل تحقیقات کروائیں، ڈیموکریٹ پارٹی کے کمپیوٹر نظام کی مبینہ ہیکنگ کے بارے میں ستمبر میں روس کے صدر ولادیمر پوتن سے بات کرکے مداخلت بند کرنے کو کہا تھا۔

امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤ س میں سال کے اختتام پر اپنی سالانہ نیوزکانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدر براک اوباما نے کہاکہ انھوں نے امریکی صدارتی انتخاب سے قبل روس کے صدر ولادی میر پوتن کو تنبیہ کی تھی وہ امریکہ کے انتخابی مراحل میں مداخلت نہ کریں۔ہیکنگ سے روسی صدر کتنے واقف ہیں اس بارے صدر اوباما نے کہا کہ ‘ولادی میر پوتن کی مداخلت کے بغیر روس میں زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا۔صدر اوباما نے کہا کہ انھوں نے رواں سال ستمبر میں ایک کانفرنس کے دوران مسٹر پوتن کو کہا تھا کہ ایسا کرنے کے سنجیدہ نتائج سامنے آئیں گے۔صدر اوباما نے وعدہ کیا کہ وہ انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی سمیت ناکامی سے متعلق ہلیری کلنٹن کی مہم کے چیئرمین کی ای میل پر ‘متناسب’ جواب دیں گے۔اوباما نے تجویز دی کہ امریکہ کو اس معاملے پر اپنی سائبر صلاحیتوں کو دکھانا چاہیے اور ‘جو وہ ہمارے ساتھ کر رہے ہیں ہم ان کے ساتھ بھی ویسا ہی کر سکتے ہیں۔

صدر اوباما نے اپنے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا کہ بعض رپبلکن امریکی انتخاب میں روس کی مداخلت کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔اوباما نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ روس کے سائبر حملے کی مکمل تحقیقات کروائیں۔یاد رہے کہ رواں ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی خفیے ایجنسیوں کا یہ الزام کہ ان کی کامیابی میں روسی ہیکرز کی معاونت شامل ہیں، مضحکہ خیز اور سیاسی نوعیت کا ہے۔ٹرمپ نے ٹویٹ کی کہ ‘کیا آپ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ اگر انتخاب کے نتائج اس کے مخالف ہوں اور ہم روس اور سی آئی اے کا کارڈ کھیلنے کو کوشش کریں تو یہ سازشی نظریہ کہلاتا ہے۔امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے ڈائریکٹر جان بینن نے اپنے ملازمین سے خطاب میں کہا تھا کہ ایف بی آئے اور سی آئی اے اس نتیجے پر متفق ہیں کہ روس کا ہدف ٹرمپ کو جتوانا تھا۔کریملن نے امریکہ کی ای میلز ہیک کرنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے ‘غیر مہذب’ قرار دیا۔صدر پوتن کے ترجمان نے کہا تھا کہ امریکہ اس بارے میں کوئی ثبوت دے نہیں تو خاموش رہے۔