بریکنگ نیوز
Home / کالم / من پسند فیصلے کیلئے عدالتوں پر دباؤ

من پسند فیصلے کیلئے عدالتوں پر دباؤ

بعض سیاسی جماعتیں اورانکے رہنما ملکی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے ذاتی‘ سیاسی ‘ گروہی مفاد کے تحت مرضی کا فیصلہ حاصل کرنے کیلئے عدالتوں پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی پر عمل پیرا دیکھے جارہے ہیں‘ جبکہ مرضی کا فیصلہ نہ آنے پر کھلم کھلا اعلانات کررہے ہیں کہ انہیں عدالت سے مایوسی ہوئی ہے جسکے بعد اب وہ سڑکوں پر نکلیں گے‘ اس پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے واضح کیا ہے کہ تمام عدالتیں خودمختار اور آزاد ہیں‘ ہم کسی کو خوش کرنے یا میڈیا ہائپ کی وجہ سے دباؤ میں آکر فیصلے نہیں کر سکتے‘ سپریم کورٹ سے پانامہ کیس کی سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کئے جانے اور عدالت کی طرف سے تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کا عندیہ دیئے جانے کے بعد عمران خان اور شیخ رشید برسرعام عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو ہدف تنقید بناتے رہے‘ عمران خان نے کہا کہ پانامہ کیس پر کمیشن بنانے کا وقت گزرچکا ہے‘ اس کیس کیلئے کمیشن بنانے کی ضرورت ہی نہیں ہے‘ اس کیس میں انصاف نہ ملا تو وہ سڑکوں پر آئینگے‘ قوم آٹھ ماہ سے عدالت عظمیٰ کی طرف دیکھ رہی ہے‘ یہ کیس عوام کی نگاہوں کامرکز بنا ہواہے پانامہ کیس جنوری تک ملتوی کرنے کے فیصلے سے مایوسی ہوئی‘ جنوری کے پہلے ہفتے میں بھی اسی بنچ کو سماعت کرنی چاہئے‘ عمران خان نے کہا میں سپریم کورٹ سے بہت مایوس ہواہوں عدالت عظمیٰ نے خود کہا تھا کہ وہ جلد فیصلہ کرنا چاہتی ہے‘ مگر جب تین گھنٹے کی سماعت باقی رہ گئی تو کیس جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردیاگیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے انصاف کا ہر دروازہ کھٹکھٹایا مگر ہمیں انصاف نہیں ملا جسکے بعد سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا‘ ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے چارمطالبے تسلیم نہ ہونے پر 27دسمبر سے سڑکوں پر نکلتے کا الٹی میٹم دیا ہے اس طرح اب پی پی پی اور پی ٹی آئی کی سڑکوں پر مشترکہ تحریک کے امکانات بڑھ گئے ہیں‘ جس کیلئے دونوں پارٹیوں میں مذاکرات بھی شروع ہوگئے ہیں‘ بلاول بھٹو زرداری کا کہناہے کہ27دسمبر کو حکومت کو لگ پتہ جائے گا کہ اپوزیشن کیا ہوتی ہے‘ دونوں پارٹیوں نے وزیر اعظم نوازشریف کے خلاف تحریک چلانے کیلئے ایکا کرلیا ہے‘ وزیر اعظم پر پانامہ کیس کے سلسلے میں پارلیمنٹ کے سامنے دروغ بیانی کا الزام لگاتے ہوئے دونوں پارٹیوں نے قومی اسمبلی میں استحقاق کی تحریکیں جمع کرائی ہیں لیکن سپیکر ایاز صادق کی جانب سے پانامہ کیس سپریم کورٹ میں زیر بحث ہونے کی بناء پر ایوان میں تحریکیں مسترد کئے جانے کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ کھڑا کردیا‘ پی ٹی آئی کے اراکین نے ایوان میں شور شرابہ کرتے ہوئے سپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کرلیا‘ اجلاس کی کاروائی جاری نہ رہ سکی تو سپیکر نے اجلاس اگلے روز کیلئے ملتوی کر دیا‘ اس سے قبل اپوزیشن لیڈر سیدخورشید شاہ نے پانامہ کیس پر قومی اسمبلی میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں وزیراعظم کے پانامہ کیس سے متعلق تقریر کو سیاسی تقریر قرار دینے کی مذمت کی انہوں نے کہاکہ اس ایوان میں وزیراعظم کی تقریر کو سپریم کورٹ میں انکے وکیل نے سیاسی تقریر قرار دیا‘ سیاست جھوٹ کا نام ہے‘ سیاست کو جھوٹ سمجھنے والے آمریت کی سوچ رکھتے ہیں۔

مگر ایک منتخب رکن پارلیمنٹ کی سوچ مختلف ہوتی ہے کابینہ کا کوئی وزیر یا ایم این اے ایسا بیان دے تو تکلیف نہیں ہوتی لیکن اس ایوان کا لیڈر جو پوری قوم کا ترجمان ہوتا ہے اس کی طرف سے یہ بات آئے کہ ایوان کے اندر کہی گئی بات کی اہمیت نہیں ہے‘ تو پھر ہم نے جمہوریت کیلئے قربانیاں کیوں دیں؟ خورشید شاہ نے کہا کہ جھوٹ سے قومیں تباہ ہو جاتی ہیں‘ جھوٹ ایک لعنت ہے‘ خواہ خورشید شاہ بولے یا کوئی اور بولے‘ ہم چاہتے ہیں کہ جمہوریت قائم رہے‘ پارلیمنٹ قائم رہے‘ وزیراعظم کے وکیل نے عدالت میں سیاسی بیان والی جوبات کہی‘ وکیل ہمیشہ اپنے موکل کی زبان بولتا ہے‘ وزیراعظم کو کہنا چاہئے تھا کہ وکیل نے جو بات کہی ہے وہ غلط ہے اور میری بات صحیح ہے لیکن دس بارہ روز گزرگئے ایسا نہیں کہا گیا‘ اظہار خیال کرنے کے بعد خورشید شاہ نے سپیکر سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک استحقاق پیش کرنے کی اجازت مانگی لیکن سپیکر نے یہ کہہ کر روک دیا کہ معاملہ عدالت میں ہے اس لئے تحریک پیش نہیں کی جا سکتی‘ اس دوران خورشید شاہ اور سپیکر کے درمیان نوک جھونک بھی ہوئی‘ خورشید شاہ کے بعد سپیکر نے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کو بولنے کی اجازت دی تو تحریک انصاف کے ارکان بھی کھڑے ہوگئے‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پہلے ہمیں بولنے کا موقع دیا جائے حکومت کو بعد میں وضاحت کا موقع دیا جائے‘ سپیکر نے کہا کہ سعد رفیق کے بعد پی ٹی آئی ارکان کو موقع دیا جائیگا ‘ چونکہ اپوزیشن لیڈر پہلے بولے ہیں‘ اس لئے انکے بعد حکومت کا حق بنتا ہے‘ اس پر پی ٹی آئی کے اراکین شیخ رشید اور آزاد رکن جمشید دستی نے شدید نعرے بازی شروع کردی اس دوران حکومتی اور اپوزیشن ممبروں کے درمیان تندوتیز جملوں کا تبادلہ ہوا‘ تحریک انصاف کے ارکان کے شورشرابے اور غل غپاڑے کے دوران سپیکر نے اجلاس اگلے روز شام چاربجے تک ملتوی کر دیا۔