بریکنگ نیوز
Home / کالم / سقوط ڈھاکہ: تاریخ اور اسباق

سقوط ڈھاکہ: تاریخ اور اسباق


بھارت میں مسلمانوں کی حکومت 1855ء میں ختم ہوئی اور تاج برطانیہ نے باقاعدہ طور پر اس کا نظم و نسق سنبھال لیا نئے حکمرانوں نے پورا نظام ہی بدل دیا یہ لوگ نہ تو مسلمان تھے اور نہ ہی ہندو اور انہوں نے ایک نئی قسم کی حکومت رائج کی اس اہم واقعے کی ایک دہائی کے اندر ہی مسلمان علمائے دین نے خود کو از سر نو منظم کرنا شروع کیا اور دارالعلوم دیوبند قائم کیا مسلم سول بیوروکریسی نے دو دہائیوں بعد سرسید احمد خان کی رہنمائی میں آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کی بنیاد رکھی 1906 میں اس کانفرنس کا بیسواں اجلاس جو ڈھاکہ میں ہوا‘ میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد ڈالی گئی انیسویں صدی کے دوسرے نصف حصّے میں بھارت کی سیاست اپنا رشتہ نئے حقائق سے جوڑ رہی تھی‘ جن میں سے اہم ترین رشتہ عوام کی حکومت کے امکانات سے تھا جمہوریت تعداد سے غذا حاصل کرتی ہے اور رائے شماری پر پنپتی ہے۔ چنانچہ نوآبادیاتی انتظامی مشین نے 1872ء سے ہی گنتی کا عمل شروع کر دیا تھا لیکن پہلی مردم شماری جو 1865-1872ء کے درمیان کی گئی‘ جو اعداد و شمار حاصل ہوئے‘ خصوصا آبادی کے تعلق سے علاقوں‘ ذاتوں اور مذہبوں کے بارے میں جو نتائج سامنے آئے وہ سب سے بڑی سیاسی حقیقت بن گئے۔ مسلمان اب یہ دیکھ سکتے تھے کہ تقریباً ایک ہزارسال کی حکومت کے بعد اعداد وشمار کے تحت وہ اب برصغیر میں اقلیت بن گئے تھے انتخابی نظام کے طریقۂ کار نے انہیں چوکس کردیا۔ 1932ء کے کمیونل ایوارڈ میں اقلیتوں کی پوزیشن کو تسلیم کر لیا گیا اور ذات اور مذہب کی بنیادوں پر انتخابی حلقہ بندیاں کی گئیں یہی تقسیم بعدازاں دو علیحدہ ملکوں کے قیام کا مطالبہ بن گئی اور دو ملکوں کا قیام عمل میں آیا۔

مسلمان اب اس نئے ملک پاکستان میں اکثریت میں تھے اس کے برعکس اب غیرمسلم پاکستان میں اقلیت بن گئے کیا وہ مسلم اکثریت سے خوفزدہ تھے؟ کیا اب انہیں جداگانہ حلقۂ انتخاب کا مطالبہ کرنا چاہئے تھا؟ ہوسکتا ہے کہ وہ خوفزدہ ہوں لیکن انہوں نے اس کا مطالبہ نہیں کیا ۔مشرقی پاکستان جداگانہ طریقۂ انتخاب کے سخت خلاف تھا جبکہ مرکزی اور پنجاب مسلم لیگ اس کی سب سے بڑی حامی تھیں وہ لوگ جو پاکستان کو اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے اس بات کو اہمیت دیتے تھے کہ غیر مسلم کے ووٹ ایمان والوں کے ووٹوں میں شامل نہ ہو جائیں تاکہ پاک ریاست کا حق حکمرانی ’آلودہ‘ نہ ہو جائے جبکہ دوسری جانب غیر مسلموں نے اسلام کے علاوہ اپنی تمام شناختوں یعنی زبان اور ثقافت کو نمایاں کرنا شروع کردیا انکے نزدیک ان کی شناخت ان کا مشترکہ ورثہ تھا اور نہیں چاہتے تھے کہ ایک نئی ریاست کی تشکیل کے وقت اس سے دستبردار ہو جائیں پاکستان پر بنگالیوں کی حکمرانی کسی بھی صورت پاکستان کے اس نقشے کے مطابق نہیں تھی‘ جو اس کے خود ساختہ معماروں نے بنایا تھا اس پر حکمرانی کا حق صرف پنجاب کے جاگیرداروں اور خاندانی بیوروکریٹس کو حاصل تھا بنگال کی سیاسی قیادت‘ جو زیادہ تر متوسط طبقے کے سیاسی طور پر باشعور‘ اہلِ دانش اور متحرک لوگوں پرمشتمل تھی‘ ان کیلئے قطعی قابل احترام نہ۔

تھی چنانچہ جمہوریت کا بھوت ’نواب صاحب‘ کو شدت کیساتھ پریشان کرنے لگا وہ اس بات پر برا فروختہ تھے کہ تعداد میں ان سے زیادہ بنگالی مسلمان ان پر حکومت کریں گے جمہوریت کے اصولوں پر انہیں غصہ آیا اورانہوں نے اسے ٹھیک کرنیکا ارادہ کر لیا انہوں نے دو دھاری حکمت عملی تیار کی ایک تو یہ انہوں نے مشرقی بنگال کو چھوڑ کر دوسری تمام ’اکائیوں‘ کو ایک ریاست میں ضم کرنیکا فیصلہ کرلیا جسے ون یونٹ کہا گیا اور اسے مغربی پاکستان کا نام دیا گیا لیکن یہ بھی بنگالیوں کی تعداد کوکم کرنے کیلئے ناکافی ثابت ہوا‘ جو آبادی کی غالب اکثریت یعنی چوون فیصد تھے اس حکمت عملی کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ مشرقی بنگال کو چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کر دیا جائے اور اس معاملے میں مسلم لیگ کوایک ہی طرح کا تجربہ حاصل تھا یعنی مذہبی بنیادوں پر تقسیم۔ چنانچہ‘ اگر بنگالی ووٹروں کو مذہب کی بنیاد پرتقسیم کر دیا جاتا تو بنگالی مسلمانوں کے نمائندوں کی تعداد مغربی پاکستان سے منتخب ہونیوالے نمائندوں کے مقابلے میں کم ہوجاتی بنگالیوں نے اس منصوبے کو تاڑ لیا اور اس کے خلاف سینہ سپر ہو گئے جب اسمبلی میں اکتوبر 1956ء میں اس مسئلہ کو زیر بحث لایا گیا تو ایوان نے جو ایکٹ منظورکیا‘ اس میں مغربی پاکستان کیلئے جداگانہ طریق انتخاب اور مشرقی پاکستان میں مشترکہ انتخابات رکھے گئے۔ حکومت میں شامل بہت سے لوگوں کیلئے یہ بات شرم کا باعث تھی کہ وہ اس ملک میں جسے اپنے اسلامی اتحاد پر ناز تھا۔

ایک نظام کے تحت انتخابات کروانے کے مسئلہ پر متفق نہ ہو سکے جلد ہی اس قانون میں ترمیم کردی گئی اور دونوں بازوؤں میں مشترکہ انتخابی نظام رائج کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا لیکن جنرل ایوب اقتدار پر قابض ہو چکے تھے اور انہوں نے نوزائیدہ آئین کو کالعدم قرار دے دیا اس لئے اِس قانون کے تحت انتخابات منعقد نہ ہو سکے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے فریق نے علیحدہ طریق انتخاب کے معاملے میں اپنا منصوبہ ترک کردیا تھا بنگالیوں کے علیحدہ ہو جانے کے بعد بھی انہوں نے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور درحقیقت وہ بعد ہی میں اس پر عمل درآمد کروانے میں کامیاب ہوئے لیکن بنگالی بھی اپنی بات پر مصر رہے اور سبھی یہ سمجھ چکے تھے کہ خواہ کچھ بھی ہوجائے وہ اس نقطہ پر اتفاق نہیں کریں گے۔ بنگالی اپنے ہم وطن ہندو شہریوں سے خوفزدہ نہیں تھے اور پاکستان کا حکمران طبقہ بنگالیوں کو خوفزدہ کرنے میں ناکام رہا یا شاید بنگالیوں کو اپنے مسلمان حکمرانوں سے زیادہ خوف آنے لگا تھا اور پاکستان کی ریاست انکے خوف کو ہندوؤں کی جانب موڑنے میں ناکام ہو گئی تھی بہرحال بنگالیوں کے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کہ ’’ہندو ان کے سیاسی نظام کا ناگزیر حصہ نہیں ہیں‘‘ نے ہماری حکمران اشرافیہ کو اور زیادہ خوفزدہ کر دیا کیونکہ غالباً ان کو ڈر تھا کہ ہندو اور بنگالی دونوں مل کران پر مسلط ہوجائینگے انہوں نے بنگالیوں کے خلاف بدترین غیض وغضب کا اظہار کیا تاکہ ان کے دلوں میں خوف بیٹھ جائے لیکن دبلے پتلے نرم خوبنگالی پھر بھی مسکراتے رہے اور بے خوف اپنی آزادی کے طلبگار رہے اور یوں بنگلہ دیش نے جنم لیا۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: طاہر مہدی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)