بریکنگ نیوز
Home / کالم / اپنے منہ میاں مٹھو

اپنے منہ میاں مٹھو

کیا اس ملک میں بحث و مباحث کیلئے مسائل کم تھے جو قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر سید خورشید شاہ نے یہ کہہ کر ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے کہ پارلیمنٹ عدلیہ سے بالاتر ہے اولاً تواس غیر ضروری بیان کی ضرورت ہی کیا تھی اور وہ بھی قومی اسمبلی کے فلور پر؟ یہ تو وہ اپنے منہ میاں مٹھو والی بات ہوگئی موصوف کے اس مؤقف سے کہ پارلیمنٹ 20 کروڑ عوام کی ترجمان ہے اس ملک کے کروڑوں انسان سو فیصد اتفاق نہیں کرتے۔ یہ مؤقف متنازعہ ہے یہ بات بالکل غلط ہے کہ مقننہ عوام کی صحیح ترجمان ہے قوم جانتی ہے کہ سیاست دان کس طریقے سے الیکشن قوانین کی دھجیاں اڑا کر عوام کو مستقبل کے سبز باغ دکھا کر کروڑوں روپے الیکشن کی مہم پر لگا کر اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں اور پھر وہاں پر ان کی جو کارکردگی ہے جو بحث و مباحث کا معیار ہے اس سے بھی عوام بخوبی واقف ہو چکے ہیں ہر کس و نا کس پارلیمنٹ کا رکن بن سکتا ہے پر ہر ہمہ شمہ سپریم کورٹ کا جج نہیں بن سکتا آئین میں واضح کر دیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کا کام ہے عوام الناس کی بھلائی کیلئے قانون سازی کرنا جبکہ عدلیہ کا کام یہ ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ پارلیمنٹ کوئی ایسی قانون سازی تو نہیں کر رہی کہ جو آئین کی روح سے متصادم ہو یہ بات اس ملک کے ہر ذی شعور کو اچھی طرح پتہ ہے لہٰذا اس مسئلے پر خورشید شاہ صاحب نے اپنا منہ کھول کر کوئی دانشمندانہ قدم نہیں اٹھایا اس سے بلاوجہ خواہ مخواہ ریاست کے دو اہم اداروں یعنی پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں ویسے ملک کی سیاسی فضا دن بہ دن مکدر ہوتی جا رہی ہے اس میں تناؤ بڑھ رہا ہے حریف سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کے لب و لہجے میں طنز و تلخی کی آمیزش نمایاں ہوتی جا رہی ہے اگلے روز ایک سیاسی لیڈر نے ایک جماعت کے رہنماکے بارے میں یہاں تک کہہ دیا کہ اس کی تو گھٹی میں اس کے والد کی حرام کی کمائی شامل ہے ۔

بعض سیاسی رہنما اپنے سیاسی مخالفین سے حرام کی کمائی کا حساب کتاب تو مانگ رہے ہیں پر وہ یہ غالباً بھول رہے ہیں کہ ’’ چھلنی کیا بولے کہ جس میں بہتر سو چھید ‘‘ جس میں خود نقائص پائے جائیں وہ بھلا دوسروں کے نقائص کیسے نکال سکتا ہے اور اگر وہ کسی کی جانب ایک انگلی اٹھائے گا تو باقی چار انگلیاں خود اس کے خلاف اٹھیں گی۔ پارلیمنٹ کے اندر جھوٹ بولنے پر تو مغرب میں جھوٹ بولنے والا Impeach ہو جایا کرتا ہے۔ خدا لگتی یہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے ملک کی جو جو سیاسی جماعتیں مرکز اور صوبوں میں برسراقتدار رہی ہیں ’’ ایک آدھ صوبائی حکومت کو چھوڑ کر ‘‘ ان کے لیڈروں نے جی بھر کر کرپشن کی ہے پہلے تو جنرل مشرف کو این آر او نافذ کر کے کرپٹ افراد کو معاف ہی نہیں کرنا چاہئے تھا پر چونکہ وہ خود اقتدار میں مزید رہنے کا خواہشمند تھا اس نے بدعنوان لوگوں کو معاف کر کے اس ملک پر بڑا ظلم کیا مشرف حکومت کے خاتمے کے بعد زرداری صاحب کی حکومت اور اب موجودہ حکومت نے جس طریقے سے ٹیکس چوری اور کرپشن کے ذریعے کمائی ہوئی دولت کو قانونی تحفظ دیا اس پر حکمران قابل گردن زنی ہیں کیا (ن) لیگ کے الیکشن منشور میں یہ نہیں لکھا گیا تھا کہ کالے دھن کو سفید ہونے سے ہر حالت میں روکا جائے گا اور معیشت کو دستاویزی بنایا جائے گا ۔

کوئی اخباری رپورٹر یا کسی ٹیلی ویژن چینل کا اینکر اپنے کسی شو میں اسحاق ڈار صاحب کو بلا کر ان سے یہ کیوں نہیں پوچھتا اور اسی طرح پی پی پی کے رہنماؤں سے یہ کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ بھئی آخر تم لوگوں نے اپنے اپنے دور حکومت میں کالا دھن رکھنے والوں کو نکیل ڈالنے کے بجائے ان پر ٹیکس ایمنسٹی سکیموں کی شکل میں بے پناہ نوازشیں کیوں کیں۔ تم نے تو بجائے ان کو الٹا لٹکانے کے یہ ترغیب دی کہ بس تھوڑی سی رقم کا ٹیکس ادا کر دو بس تم پاک و صاف ہوگئے تمہاری حرام سے کمائی ہوئی رقم حلال ہوگئی اور تم سے کوئی مزید سوال نہیں پوچھا جائے گا نہ پی پی پی اور نہ (ن) لیگ نے ملکی معیشت کو دستاویزی بنایا؟ کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ ان پارٹیوں کے حکمران عوام دوست کم اور خواص دوست زیادہ ہیں یہ جو حال ہی میں حکومت نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء میں ایک نئی شق شامل کر کے انکم ٹیکس ( ترمیمی ) ایکٹ 2016ء کا اجراء کیا ہے جس کے تحت جائیداد کی خریداری میں کالے دھن کو بھی استعمال کیا جاسکے گا اور وہ بھی صرف تین فیصد ٹیکس کی ادائیگی پر یہ کیا ہے ۔ بجز اسکے کہ کرپٹ عناصر کو قانون کی گرفت سے بچانے کیلئے ان کو قانونی تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے۔