بریکنگ نیوز
Home / کالم / قبائلی علاقے اور پختونخوا

قبائلی علاقے اور پختونخوا


کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا انجام اگر پہلے سوچ لیا جائے تو زیادہ بہتر ہوتا ہے ہم دسمبر میں ایک بہت بڑے سانحے سے گزرے تھے اور اس کے انجا م پر تو بہت سی باتیں کی گئیں اور لکھی گئیں مگر اس کے اصل وجوہات کی جانب کسی نے اشارہ تک نہیں کیا کیا ہم نے مشرقی پاکستان کا نام مشرقی بنگال سے مشرقی پاکستان کرتے وقت ان بنگالیوں سے بھی مشورہ کیا تھا کہ جن کے خطے کو ہم ایک نیا نام دے رہے تھے کیا ہم نے مغربی پاکستان کے صوبوں کو ون یونٹ بناتے وقت اس کی اکائیوں سے مشورہ کیا تھا؟اگر ہم یہ باتیں جمہوری روایات کو مد نظر رکھ کر کرتے تو یقیناً نہ مشرقی بنگال بنگلہ دیش کی حد تک پہنچتا اور نہ مغربی پاکستان میں سندھو دیش اور آزاد بلوچستان وغیرہ کے شوشے اٹھتے۔ یہ شوشے اٹھنے کی بنیادی وجہ یہ ہوئی کہ ہم نے مشرقی بنگال کو مشرقی پاکستان بناتے وقت اس کے باشندوں سے مشورہ نہیں کیا تھا نام در اصل ایک جذباتی لگاؤ کاحصہ ہے اگر آپ کسی کا نام تبدیل کرتے ہیں تو اس کیساتھ اس کی وابستگی کو اول کم کریں اور ایسے اقدامات اٹھائیں کہ اس کی جذباتی وابستگی کو پہلے مرحلے میں نام کے ساتھ کمزور کریں اس کے ذہن میں اس بات کو پختہ کریں کہ جو نام ا سکے ساتھ وابستہ ہو چکا ہے اس کی کمزوریاں کیا ہیں اور جب وہ اس نہج کو پہنچ جائیں کہ اپنے نام کی کمزوریاں اس کو کھٹکنے لگیں تو تو اسکو نئے نام کی خوبیوں کی جانب لائیں اور اس نئے نام کیساتھ اسکی وابستگی پیدا کریں اور پھر اسکی مرضی سے اسکا نام تبدیل کریں تو اب اس کو کبھی بھی اعتراض نہیں ہو گا او روہ پرانے نام کو یک سر بھول جائے گا سندھ، سرحد، پنجاب اور بلوچستان کو بیک قلم آپ نے ون یونٹ بنا کر مغربی پاکستان کا نام دے دیا اس میں جو مصلحت تھی اس کو مشرقی بنگال اچھی طرح سمجھتا تھا اور جس خاطر مغربی پاکستان بنایا گیا اس کے مقاصد بھی پورے نہ ہو سکے نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ یعنی 1956 سے 1971 تک یہ کڑھی پکتی رہی اور آخر اس میں وہ ابال آگیا کہ لوگوں نے مطالبہ کر دیا کہ ان کے سابقہ صوبے بحال کر دےئے جائیں‘اگر ون یونٹ بنانے سے پہلے اسکے فوائد لوگوں کے ذہنوں میں بٹھا دیئے جاتے تو ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ ون یونٹ ٹوٹنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھامگر بغیر کسی منصوبہ بندی کے چار صوبوں کو ایک کر دیا گیا ۔

جس میں چھوٹے صوبوں کے عوام کو کمتری کا احساس ہونے لگا کہ پنجاب جہاں تعلیم کا رواج متحدہ ہندوستان کے زمانے سے تھا جبکہ سندھ سرحد اور بلوچستان میں چونکہ ملاؤں اور خوانین کا زور تھا اور یہ لوگ انگریز دشمنی میں بھی دوسرے علاقوں سے بہت آگے تھے جس دشمنی نے انکو انگریزی دشمنی تک پہنچایا ہوا تھا اسلئے یہ ماڈرن تعلیم حاصل نہ کر سکے اس لئے پنجاب نے ون یونٹ میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا جس سے سندھ سرحد اور بلوچستان میں پنجاب سے نفرت کی بنیاد پڑگئی جو آج تک جاری ہے۔ ون یونٹ میں ہر سطح پر چاہے صوبائی ہو یا مرکزی پنجاب چھایا ہو ا تھا اسلئے دوسرے صوبوں کے باشندوں نے اپنے صوبوں کی بحالی کا مطالبہ کر دیا ادھر بنگال نے بھی جب دیکھا کہ اسے مرکز میں کوئی پذیرائی نہیں مل رہی تو اس نے بھی علیحدگی کا شوشہ چھوڑ دیا یوں ایک معمولی سی بات نے پاکستان کو دولخت ہونے کی بنیاد ڈالی اسی طرح مغربی پاکستان بھی چار اکائیوں میں بٹ گیا مگر اس میں ایک عنصر جو داخل ہوا وہ تھا نفرت کا عنصر‘ اور یہ عنصر دور ہونے میں بھی ایک بڑا عرصہ لے گا۔ اب ان زندہ مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اگر موجودہ صورت حال کا جائزہ لیں اول بات یہ کہ کے پی کی اسمبلی کو کس نے یہ حق دیا ہے کہ وہ قبائلی علاقوں کے متعلق کوئی فیصلہ کرے کیا کے پی کے اسمبلی میں قبائل کی نمائندگی ہے ؟ جب اسمبلی میں قبائل کی نمائندگی سرے سے ہے ہی نہیں تو ان کو کس نے یہ حق دیا ہے کہ وہ قبائل کے متعلق فیصلے کرے۔ہم جانتے ہیں کہ قبائل کی اکثریت صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ الحاق کی مخالف ہے۔انکے ساتھ جو سلوک کے پی کے میں ہوتا ہے اس سے سب ہی واقف ہیں اس کے بعد اگر صوبائی اسمبلی ، جس میں قبائل کی نمائندگی سرے سے نہیں ہے اس لئے کہ یہ علاقے مرکز کے زیر انتظام ہیں تو اسمبلی کیسے کہہ سکتی ہے کہ ان علاقوں کو صوبے میں ضم کیا جائے ۔